122

6 ہزار سال پرانی تہذیب

امریکہ نے بڑے فخر سے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کا سب کچھ تباہ کردیا ہے ، کچھ نہیں چھوڑا ہے ۔ یہ کوئی پہلا فخر نہیں ہے جو اکیلا امریکہ نے کمایا ہے ۔ اس سے پہلے وہ ویت نام، عراق، افغانستان، لیبیا اور کئی لاطینی ممالک میں بھی کما چکا ہے ۔ وہاں بھی اس نے کسی کا کچھ نہیں چھوڑا تھا۔ ایران کا حکومتی، سیاسی، مواصلاتی، فوجی ڈھانچہ فی الواقع مکمل برباد ہو چکا ہے ۔ کوئی فیصلہ کرنے والا ادارہ باقی نہیں چنانچہ جو میزائل لانچنگ پیڈ بچ گئے ہیں لگتا ہے وہ ازخود فیصلے کر رہے ہیں۔ جنگ عظیم دوئم ختم ہوگئی، جاپان ہار گیا۔ لیکن جاپان کے ہزاروں فوجی جو مشرقی ایشیا کے سمت کے علاقوں، جنگلوں وغیرہ میں موجود تھے اور ان کا کوئی رابطہ اپنی ہائی کمان سے نہیں تھا۔ اپنے طور پر بدستور جنگ جاری رکھے ہوئے تھے کچھ ایسا ہی حال یہاں بھی نظر آتا ہے ۔ خطرناک ماجرا یہ ہوا کہ صدر ٹرمپ نے ایرانی کُردوں کے لیڈروں سے فون پر بات کی اور مسلح ہونے کی پیشکش کی وہ اپنی مزاحمتی فوج بنائیں اور اپنے علاقے پر قبضہ کر لیں۔ خود ٹرمپ نے یہ بات وال سٹریٹ جرنل کو بتائی۔ یعنی ایران کو تقسیم کرنے کا منصوبہ شروع کردیا ہے ۔ فی الوقت یہ ترکی کے لئے تشویش کی بات ہے ۔ ایرانی کُردوں نے اپنے علاقے پر خود مختاری بنا لی تو ترک علاقے کے کُردوں کو بھی اُکسانے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بڑی مشکلات کے بعد ترکی اور باغی کُردوں میں صلح ہوگئی ہے اور اب وہاں امن اور سکون ہے ۔ یہی پیشکش ایران، بلوچستان کو کی گئی تو پاکستان کیلئے بھی تشویش کی صورتحال بن سکتی ہے ، خدا نہ کرے ۔
………
 ایران کے رہنما ایک ایک کر کے مارے جا رہے ہیں، جو موجود ہیں وہ ایسے بیانات دے رہے ہیں جو باہم مربوط نہیں لگتے ۔ قومی سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی الاریحان فی الوقت حکمران کا کردار ادا کر رہے ہیں جب تک نئے ‘‘سپریم لیڈر’’ کا انتخاب یا تقرر نہیں ہوجاتا۔ گزشتہ روز انہوں نے ایک عجیب بیان دیا جہاں یہ کہا ‘‘حملہ آوروں کوسبق سکھائیں گے ’’ وہاں یہ بھی کہہ دیا کہ ‘‘ہم اپنی 6 ہزار سالہ پرانی تہذیب کا ہر صورت تحفظ کریں گے ۔’’ کیا یہ ‘‘اسلامی انقلاب’’ سے دوری اختیار کرنے کا اشارہ ہے ؟ ایران کی قدیم ساسانی تہذیب تو تیرہ چودہ سو سال پہلے اس وقت ختم ہوگئی تھی جب حضرت عمر فاروق رضی تعالیٰ عنہ نے اس سپرپاور کو فتح کر کے ا سے حلقہ بگوش اسلام کر لیا تھا۔ 6 ہزار سال پرانی تہذیب کی درفنطنی تو آتش کدہ بہار کی آگ ٹھنڈی پڑتے ہی بجھ گئی تھی۔ اس کی جگہ اسلام کے اُجالے نے لے لی تھی۔ لاریجانی کو یک لخت اپنی 6 ہزار سالہ پرانی تہذیب کی یاد کیوں آگئی؟ 
انہیں شاید یہ خیال نہیں رہا کہ اگر ‘‘فارس’’ اپنے عہد عتیق کی طرف لوٹتا ہے تو ایران کی دوسری قومیں کیا کریں گی! ان کا تو 6 ہزار سال پرانی وراثت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔ مثلاً بلوچی، خراسانی، عرب، کُرد، آذربائیجانی نیز کچھ چھوٹی ترک اقوام۔
ایرانی قیادت پہلے ہی عرب ممالک سے ‘‘تہذیبی’’ جنگ چھیڑ کر خود کو تنہا کر چکی ہے ۔ چند برس قبل ایرانی قیادت نے عالم اسلام سے ناطہ توڑ کر بھارت سے آشنائی کا بندھن باندھا، پھر کیا صلہ پایا۔ بھارت نے کمر میں چھرے پر چھرا گھونپ دیا۔ ایران کا مستقبل عالم اسلام سے جڑے رہنے میں ہے ۔لاریجانی مانیں یا نہ مانیں، بہرحال اب تواس ساری قیادت کا چل چلاؤ ہے ۔ نئے کون آئیں گے ، کب آئیں گے ، کیسے ہونگے ، کیا کہا جا سکتا ہے ۔
٭٭٭٭
بلی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا 
حکومت کو عزت دووالی حکومت تو پہلے ہی ہر وقت موقع کی تاک میں رہتی ہے کہ کب تیل مہنگا کرے اور موقع نہ ملے تو بے موقع بھی تیل مہنگا کر دیتی ہے ۔ اب اس حکومت کو تیسری خلیجی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے ایک نیا بڑا موقع بلکہ اُم المواقع مل گیا ہے ۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی اس نے تیل کی قیمت میں گراں قدر اضافہ کیا ہے ۔ اب توخدا جانے کتنا اضافہ کرے گی۔ 
دنیا میں کچھ اچھا ہو یہاں تیل مہنگا ہوجاتا ہے اور بُرا ہوتو بھی، گویا ہمارے لئے اب اچھا بُرا ایک برابر ہیں۔ بہرحال حکومت کو عزت دینا ہر پاکستانی کا فرض تو ہے ۔
………
پاکستان میں اچانک ہی کچھ حلقے عوام کو بتانا شروع ہو گئے ہیں کہ پاکستان کی ریاست اور حکومت اسرائیل بلکہ بنفس نفیس نیتن یاہو کی گود میں بیٹھ گئی ہے ۔ ان کو اس بات کا پتہ چلا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ پاکستان نے جواب میں امریکہ اور اسرائیل پر حملہ نہیں کیا۔ اس بات سے ان حلقوں کو پتہ چلا کہ پاکستان نیتن یاہو کی گود میں بیٹھ گیا ہے ۔ 
ریاست اور حکومت پر بہت سنگین الزام کا داغ لگ گیا ہے ۔ اس ‘‘کالک’’ سے جان چھڑانے کا اب تو ایک ہی راستہ رہ گیا ہے ۔ حکومت کو پہلی فرصت میں آدھی فوج اسرائیل پر حملے کیلئے براستہ ایران روانہ کر دینی چاہیئے اور باقی آدھی فوج جہازوں پر بٹھا کر براستہ نہر سویز امریکہ بھیج دینی چاہیئے جوجاتے ہی ایران پر حملے کا بدلہ لے ۔ اس سے کم پر یہ ‘‘غیرت مند حلقے ’’ قطعی راضی نہیں ہونگے ، یاد رکھیئے گا! 
………
ایک باخبر امریکی سینٹر نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے بعد نمبر کیوبا کا ہے ۔ اس انکشاف سے ہمارے ہاں کے وہ حقیقی آزادی پسند حلقے یقیناً سخت مایوس ہوئے ہونگے جو یہ اُمید لگائے بیٹھے تھے کہ اگلا نمبر پاکستان کا ہے ۔ ان حلقوں کو مشورہ ہے کہ نراش نہ ہوں پرارتھنا کرتے رہیں آشا جیوتی ہردے میں جلائے رکھیں اور سواھا بواھا کا منتر جابتے رہیں۔

بشکریہ نواےَ وقت