چار پانچ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل نے کارپٹ بمباری کر کے ایران کو غزہ میں بدل دیا ہے لیکن امریکہ کہتا ہے کہ ابھی تو شروعات ہے، اب ہم ایران کے اندر ’’گہرائی‘‘ میں جا کر شدید ترین حملے کریں گے اور جنگ ابھی لمبی چلے گی۔ ایک انوکھی بات یہ ہوئی ہے کہ ایران کی نیوی اچانک ’’لاپتہ‘‘ ہو گئی ہے۔ ایران کی نیوی میں ویسے تو سو سے زیادہ جہاز تھے لیکن 50 ہی کارگر حالت میں تھے، باقی کھٹارا ہو چکے۔ امریکہ کہتا ہے اس نے 18 جہاز ڈبو دئیے اور اب ایرانی نیوی کا کوئی وجود نہیں رہا۔ دوسرے ذرائع بھی کہتے ہیں کہ خلیج فارس اور خلیج اومان کے علاقے میں ایران کا کوئی جہاز موجود نہیں ہے۔ سوال ہے، 18 جہاز تباہ ہو گئے تو باقی 32 کہاں گئے۔ کیا ایران نے انہیں جنگ سے پہلے ہی کچھ دوسرے ممالک کی بندرگاہوں میں پہنچا دیا تھا۔
تباہ ہونے والوں میں ایران کا سب سے بڑا جہاز بھی شامل ہے جسے ایرانی بحریہ اور ایران کا ’’حجر‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ اسے سری لنکا کے سمندری علاقے میں آبدوز سے تباہ کیا گیا جہاں یہ جنگی مشقوں کیلئے گیا ہوا تھا۔ اس تباہی میں ایرانی بحریہ کے لگ بھگ سو اہلکار ڈوب گئے۔
___
امریکہ میں برسراقتدار پروٹسٹنٹ ایوینجلیکل اشرافیہ بائبل کے نیو ٹیسٹامنٹ کے بجائے اولڈ ٹیسٹامنٹ کو زیادہ مانتی ہے یعنی پرانے عہدنامے کو۔ اس پرانے عہدنامے میں توریت زبور کے علاوہ کئی رسولوں اور انبیاء کے صحیفے بھی شامل ہیں …کچھ بزرگوں کے بھی۔ ایک صحیفہ بک آف ازیکیل OF EZEKIEL BOOK بھی ہے۔ ازیکیل یا حزقی ایل دینی بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ کاھن یعنی فارچون ٹیلر بھی ہے۔ امریکہ کے جنگ باز حلقوں کو ایران والی جنگ جیتنے کا ایک یقین اس لئے بھی ہے کہ حزقی ایل نے آخری زمانے میں ایران کی تباہی اور حصے بخیرے ہونے کی پیش گوئی کی تھی اور کہا تھا کہ اردگرد کی ساری قومیں ایران پر پل پڑیں گی جنگ باز حلقے کہتے ہیں کہ حالات کے مطابق یہ پیش گوئی آج ہی کے زمانے کی ہے۔ لیکن آج کے زمانے میں پہلے تو یہ ثابت کریں کہ اردگرد کی ساری قومیں ایران پر پل پڑی ہیں۔ فی الحال تو ایک امریکہ پل پڑا ہے اور دوسری اس کی دم یعنی اسرائیل پل پڑی ہے اور تو کوئی بھی پل نہیں پڑا۔ برسبیل تذکرہ ہمیشہ دم کو صاحبِ دم ہلاتا ہے لیکن یہاں دم ہے جو صاحبِ دم کو ہلا کرتی اور ہلاتی چلی آ رہی ہے۔
ویسے غور کریں تو پیش گوئیوں کی کوئی وقعت نہیں۔ علاوہ ازیں ہم قدیم مذاہب کے لٹریچر کے بارے میں وثوق سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کتنا مواد اصلی ہے، کتنا الحاقی اور تبدیل شدہ۔ غور کریں تو پیش گوئیوں کو پھندا بنا کر جس کے گلے میں فٹ آ جائے والا معاملہ کیا جاتا ہے۔
حزقی ایل کی پیش گوئی کا سارا انداز علامتی ہے اور زبردستی ہی اسے ایران کے خاتمے پر منطبق کیا جا رہا ہے اور یہ پہلی بار ایسا نہیں ہو رہا۔ نائن الیون ہوا تو مغرب والے کہیں سے نوسٹر ڈیمس کو لے آئے اور بتایا کہ جو ہوا، ڈیمس صاحب نے پہلے ہی لکھ دیا تھا۔ ایسا شور مچا کہ سب ایمان لے آئے۔
بعدازاں جب نوسٹرا ڈیمس کی کتاب کے اصل پیرے اخبارات میں چھپے اور پھر ان کی کتاب بھی آ گئی تو پتہ چلا کہ سب علامتی فقرے تھے، پلاسٹک کے تار جیسے، گھما پھرا کر جیسی چاہو شکل بنا لو۔ ایک بھی پیش گوئی واضح تھی نہ واضح طور پر درست۔ معاملہ بالکل اسی طرح کا تھا جیسا مشرقی پنجاب میں پیدا ہونے والے ایک بزعم خود نبی کا۔ انہوں نے ایک دن بیٹے بیٹھے یہ الہام بیان کیا کہ ’’زلزلہ ، زمین ہل گئی__ ‘‘۔
اگلے سال کانگڑہ میں شدید زلزلہ آ گیا۔ بزعم خود نبی کے حلقے نے ڈھول پیٹا کہ دیکھو، ہمارے نبی نے ایک سال پہلے ہی الہامی پیش گوئی کر دی تھی…اور زلزلے تو اس دوران اور بھی کئی آئے، کانگڑے والا بعد میں آیا۔ یہ تو بالکل وہی بات ہوئی کہ کوئی بیٹھے بیٹھے نعرہ مار دے، خوفناک ٹریفک حادثہ ، کئی لوگ مر گئے اور چند ہی گھنٹے بعد ٹی وی پر ٹکر چلے کہ فلاں جگہ بس یا ویگن الٹ گئی، اتنے مارے گئے۔ وہ صاحب نعرہ نہ مارتے تو بھی اتنے عرصے میں جہاں تہاں کئی ٹریفک حادثے ہو چکے ہوتے اور زلزلہ تو دنیا بھر میں ہر روز کہیں نہ کہیں آتا ہی رہتا ہے۔
کچھ ایسا ہی بابا وانگا کی پیش گوئیوں کا بھی ہے۔ گھما پھرا کے معنے نکالے جاتے ہیں۔ یاد آیا، بابا وانگا کے مطابق میں سارے یورپ والوں نے اس سال اسلام قبول کر لینا ہے۔
___
ہمارے ہاں ایک صوفی بزرگ نعمت شاہ ولی تھے۔ مجذوب صفت تھے، اپنے کلام میں صوفیانہ تعلیمات دیا کرتے تھے لیکن یار لوگوں نے 1857 ء کی جنگ آزادی ، جنگ عظیم ، پاکستان کی آزادی ، مشرقی پاکستان کا سقوط ، ہر واقعے کو ان کے کلام میں شامل کر دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ سب الحاقی تھا۔ اور تو اور الٰہی کے کلام میں طالبان کے ہاتھوں ولی کے لال قلعے پر اسلامی جھنڈا بھی لگوا دیا۔ دراصل یہ کام بے مقصد نہیں کیا جاتا۔ دس بارہ موضوعات نکال یا گھڑلو، پھر ایک وڈیو بنا کر اپ لوڈ کر دو، لاکھوں دیکھنے والے ٹوٹ پڑیں گے، خوب ڈالر آئیں گے۔ غزہ کی جنگ ہو یا یوکرائن کی، پاک بھارت جھڑپ ہو یا ایران امریکہ جنگ، یہ ڈالری سکالر ہر موقع پر یہ ڈھول پیٹنے لگتے ہیں کہ سب نشانیاں پوری ہو گئیں، اب فلاں صاحب فلاں جگہ سے برآمد ہونے والے ہیں، فلاں فوج فلاں جگہ جائے گی اور زمین میں دھنس جائے گی۔ ایک صاحب اِدھر سے کالا جھنڈا لے کر، دوسرے اْدھر سے پیلا جھنڈا لے کر نکلیں گے اور اگلے ہی لمحے بیت المقدس آزاد ہو جائے گا لہٰذا بے فکر ہو کر گھروں میں مرونڈا کھاتے رہیں، بیت المقدس تو خود ہی آزاد ہونے والا ہے اور کچھ لوگ موضوع اور گھڑنت کہانیاں ڈرانے کیلئے بھی بناتے ہیں کہ سب تباہ ہونے والا ہے، سندھ ہند کے دریا خون سے بھر جائیں گے، آسمانوں پر لکھا جا چکا ہے، خود پڑھ کے ابھی ابھی آیا ہوں۔
129