پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر سب سے ’’پاپولر‘‘ تھیوری یہ ہے کہ ایران کا تنازعہ بہت جلد تیسری عالمی جنگ میں بدلنے والا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ تیسری عالمی جنگ کا عمل شروع ہو بھی چکا، چنگاری کے شعلہ بننے کی دیر ہے۔ ایسے تجزیہ نگاروں کو بھی سنا ہے جو تجزیہ کم، خواہش زیادہ بیان کر رہے تھے اور کچھ اس طرح بھی تلملا رہے تھے کہ جیسے تیسری عالمی جنگ ابھی تک چھڑی کیوں نہیں۔
عام خیال یہی ہے کہ جنگ مہینوں تک چلے گی، لیکن غور سے دیکھئے، معاملات جلد نمٹتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایران کے پاس بہت کم میزائل رہ گئے ہیں۔ ڈرون طیارے بھی پہلے جتنے نہیں رہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے اتنے بم مارے ہیں کہ میزائل اور ڈرون بنانے والے بہت سے یونٹ تو ویسے ہی اڑ گئے۔ کچھ لوگ معجزات کے انتظار میں ہیں۔ عرض یہ ہے کہ معجزات صرف پیغمبروں کیلئے ہی ہوتے ہیں اور وہ بھی خاص حالات میں۔ جیسے جنگ بدر میں معجزہ ہوا لیکن جنگ احد فطری اسباب ہی کے تحت مکمل ہوئی۔ یعنی جب دشمن نے دیکھا کہ دفاعی حصار میں شگاف پڑ گیا ہے تو اس نے خطرناک دھاوا بول دیا۔ اصحاب پیغمبر نے پلٹ کر دھاوا بولا، بے جگری سے لڑے تو دشمن پھر پسپا ہو گیا۔ جنگ خندق بھی اسباب کی اہمیت دکھاتی ہے۔ پچھلے برس بھارتی حملہ پاکستان نے پسپا کر دیا اور خوب مار لگائی۔ کیوں اور کیسے؟۔ کوئی معجزہ نہیں ہوا تھا۔ پاکستان کے پاس فضائی دفاع کی برتر ٹیکنالوجی تھی، بس مار بھگایا۔ کھیل ہو یا جنگ، سب اسباب کے ماتحت ہے اور مہارت بھی اسباب میں شامل ہے۔
___
عالمی جنگ کی پیش گوئی کرنے والے ازراہ کرم اس کے فریقین کا تعین تو فرما دیں۔ یعنی ایک فریق امریکہ ہے تو دوسرا کون؟۔ روس تو کوئی فریق سرے سے ہے ہی نہیں۔ اس کی ’’سپرپاوری‘‘ کو تو ننّھے منّے ملک یوکرائن نے پیس کر رکھ دیا ہے۔ اس کے پاس ایٹم بم ہے، علاوہ ازاں کچھ نہیں۔
چین کے پاس بہت کچھ ہے لیکن امریکہ کو ٹکر دے سکے، ایسا ابھی نہیں ہے۔ امریکہ چین پر حملہ کرے تو چین بے شک امریکہ کو بہت مارے گا لیکن اپنے علاقے اور اثر کے دائرے سے باہر جا کر امریکہ سے لڑنے کی طاقت ابھی چین میں نہیں ہے اور اس کے علاوہ ایک اہم بات اور بھی ہے۔ یہ کہ چین مزید کچھ عرصہ ہر طرح کی محاذ آرائیوں سے خود کو دور ہی رکھے گا۔ اس کی یہ پالیسی سب جانتے ہیں۔
پھر امریکہ کا مقابلہ کون کرے گا؟۔ ایک صاحب کو میں نے دیکھا وہ اکیلے ہی تاش کھیلتے تھے۔ سامنے کی کرسی پر کوئی نہیں ہوتا تھا لیکن وہ اس کے حصے کے پتے اس کے سامنے رکھتے۔ اپنا پتہ کھیلتے، پھر اٹھ کر ’’غائب‘‘ کھلاڑی کی طرف سے پتہ کھیلتے۔ شاید امریکہ چاہے تو اس طرح کی جنگ عظیم اکیلا ہی چھیڑ سکتا ہے۔
سوویت یونین کے بعد دنیا بائی پولر سے یونی پولر ہو گئی اور ابھی تک یہ دنیا ایک ہی قطب کے گرد گھوم رہی ہے۔ امریکہ کے خلاف بہت سے اسباب بہم ہو رہے ہیں۔ کوئی دوسرا قطب اٹھے نہ اٹھے، یہ اجارہ دار قطب خود ہی اتنا کمزور ہو جائے گا کہ پہلے جیسی تاب و تواں نہیں رہے گی۔ یہ کام چین اور روس نہیں کریں گے، حالات کے ہاتھوں یہ سب ہو گا۔
ایسا ہی زوال اسرائیل کا ہونے والا ہے۔ امریکہ نہ ہو تو عرب ممالک اس سے نمٹ سکتے ہیں لیکن اب امریکہ کے اندر سے، طاقتور مقتدرہ سے بھی اسرائیل سے دوری بڑھتی جا رہی ہے۔ کون جانے دس برس بعد امریکہ اسرائیل کی قربتیں اس شکل میں ہوں کہ نہ ہوں۔ لگتا تو یہی ہے کہ اسرائیل ایک نہ ایک دن اپنی جنگ خود ہی لڑنے پر مجبور ہو گا۔ تب جو ہوں گے وہ پوچھیں گے کہ کیا بھائو بک رہی ہے۔
___
وزیر اعظم نے ایک ہی اعلان قیمتیں بڑھانے کا ایسا کیا کہ ارب پتی تیل کمپنیاں راتوں رات کھرب پتی ہو گئیں۔ یعنی اِدھر اعلان ہوا، اْدھر عمل ہو گیا لیکن دو ہی روز بعد جب انہوں نے ’’سادگی‘‘ کے اعلانات کئے تو معاصر کی خبر ہے کہ اس پر عمل نہیں ہو سکا۔
شاید عمل نہ کرنے والے انتظار کر رہے ہیں کہ خود وزیراعظم اپنے اعلان پر عمل کریں۔ وزیر اعظم ہائوس کے اخراجات میں بھی 50 فیصد کمی کر دیں جو انہوں نے ابھی تک نہیں کی۔ دروغ برگردن راوی، امداد دینے والے وفود جب پاکستان آتے ہیں اور وزیر اعظم ہائوس کے خرچے اخراجات دیکھتے ہیں تو امداد دینے کا فیصلہ واپس لے لیتے ہیں اور الٹا پاکستان سے مدد مانگ لیتے ہیں کہ بھئی، آپ تو دنیا کے سارے ملکوں سے مالدار لگتے ہو۔ کچھ ہمیں بھی دو۔
___
دراصل وزیر اعظم کے عہدے میں بہت طاقت ہوتی ہے۔ یہ طاقت ہر اس شے کو بھینچ اور سمیٹ لیتی ہے جو ایک بار اس کے دائرے میں آجائے، اور ایک بار جو دائرے میں آجائے، اسے واپس نہیں جانے دیتی، چنانچہ یہی طاقت ہی ہے جو وزیر اعظم ہائوس کے اخراجات میں 5 فیصد کمی کا تحمل بھی نہیں کر سکتی، 50 فیصد کہاں سے کرے گی۔
___
برسبیل تذکرہ۔ وزیر اعظم کا عہدہ اتنا صحت بخش ہے کہ جسمانی توانائی بھی بڑھا دیتا ہے اور بیماریوں کیلئے بھی مسیحا کا کردار ادا کرتا ہے۔
پنڈت جواہر لال نہرو اپنے والد موتی لال نہرو کی طرح اعظم گڑھ کے دارالمصنفّین کے بہت مدّاح بلکہ نیاز مند تھے۔ وہی دارالمصنفّین جو ماہانہ معارف نکالتا ہے۔ جب بھی اعظم گڑھ کے دورے پر آتے، کسی ہوٹل یا سرکاری ریسٹ ہائوس کے بجائے دارالمصنفین کے مہمان خانے میں قیام کرتے۔
وزیر اعظم بننے کے بعد جب اعظم گڑھ آئے تو مہمان خانے ہی میں قیام کیا۔ اگلی صبح اوپر کی منزل پر جانے کیلئے سیڑھیوں پر آئے تو ایک قدم میں دو دو سیڑھیاں پھیلانگنے لگے اور اپنے میزبان مولانا مسعود ندوی سے کہنے لگے دیکھو میاں ، میں اس عمر میں بھی دو دو سیڑھیاں اکٹھے چڑھ سکتا ہوں۔
مولانا مسعود کہاں چوکنے والے تھے۔ بولے حضرت، مجھے بھی وزیر بنا دیں، میں تین تین سیڑھیاں اکٹھے چڑھ کر دکھا دوں گا۔
بات واضح ہو گئی۔ وزیر یا وزیر اعظم کا عہدہ کتنا ’’صحت افزا‘‘ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ قوم کی صحت کو یہی عہدے چوسا ہوا مالٹا بنا دیتے ہیں۔
129