اتنے برس بعد آبشار نے بھی کہا منثی صاحب! آپ کہاں تھے؟  1

اتنے برس بعد آبشار نے بھی کہا منثی صاحب! آپ کہاں تھے؟ 

 

یونین کونسل کتی شو داپہ سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی مہربان اور ہر دل عزیز شخصیت کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو کسی تعریف کی محتاج نہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی لوگوں کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ میں بات کر رہا ہوں منثی غلام مہدی عرف منثی مہدی کی، جو مشہ بروم ٹورز گلگت بلتستان میں بحیثیت منثی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں منثی غلام مہدی جب راولپنڈی میں مقیم تھے تو اسلام آباد اور راولپنڈی آنے والے گلگت بلتستان کے مریضوں، طلبہ اور دیگر کاموں کے سلسلے میں آنے والے افراد کا خصوصی خیال رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ اگر کسی مسافر کے پاس سفر کے اخراجات نہ ہوتے تو وہ اپنی طرف سے اسے ٹکٹ فراہم کر دیتے۔ اگر کسی مریض کو اسلام آباد یا راولپنڈی کے کسی ہسپتال میں کوئی مسئلہ درپیش آ جاتا تو منثی مہدی ہر وقت اس کی مدد کے لیے تیار رہتے تھے

آج کل منثی غلام مہدی گلگت میں مقیم ہیں اور مشہ بروم ٹورز میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، لیکن گلگت میں قیام کے باوجود ان کی عوامی خدمت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ گلگت میں مقیم کسی مسافر کو کوئی مسئلہ درپیش ہو، کوئی بیمار ہو یا کسی کو کسی قسم کی مدد درکار ہو، منثی غلام مہدی اپنی تمام تر مصروفیات ایک طرف رکھ کر فوراً اس شخص کی مدد کے لیے پہنچ جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ منثی غلام مہدی ہر دل عزیز شخصیت ہیں۔ ان کی خدمات کے عوض لوگ ہمیشہ ان کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں منثی مہدی کے ساتھ ایک یادگار سفرآج میں اپنے ہر دل عزیز منثی غلام مہدی کے ساتھ گزرے ہوئے ایک خوبصورت اور یادگار دن کا واقعہ بھی قارئین کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں میں مہدی آباد بازار میں موجود تھا کہ اچانک منثی مہدی ایک گاڑی میں وہاں سے گزرے۔ انہوں نے مجھے دیکھا تو گاڑی روک لی۔ سلام دعا اور خیریت دریافت کرنے کے بعد مجھے بھی گاڑی میں بٹھا لیا اور ہم کھرمنگ کی جانب روانہ ہوگئے راستے میں مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ منثی مہدی مشہ بروم نہ صرف ہر وقت اپنے علاقے کے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ سیاسی اور سماجی معاملات پر بھی بہترین تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مختلف علاقوں کے لوگ انہیں جانتے ہیں اور ان کی خوبصورت گفتگو سے محظوظ ہوتے ہیں چنانچہ سفر کے دوران مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں احساس ہی نہیں ہوا کہ کب ہم کھرمنگ پہنچ گئے منثی مہدی کے ہمراہ ان کے بھائی بھی تھے، جو حال ہی میں ایف پی ایس سی کے ذریعے گریڈ 17 میں بھرتی ہوئے تھے۔ ہم انہیں ان کی جوائننگ رپورٹ جمع کروانے کے لیے کھرمنگ لے کر گئے۔ ان کے بھائی کو کھرمنگ انٹر کالج میں چھوڑنے کے بعد ہم دونوں واپس سکردو کی جانب روانہ ہوگئے اب آتے ہیں اس سفر کے سب سے دلچسپ اور یادگار حصے کی طرف یہ بات جان کر شاید قارئین بھی حیران ہوں کہ منثی مہدی مشہ بروم نے اپنی زندگی میں اس سے پہلے کبھی منٹھوکھا واٹر فال نہیں دیکھا تھا جی ہاں! وہی منٹھوکھا آبشار جسے دیکھنے کے لیے دنیا کے مختلف علاقوں سے سیاح آتے ہیں، جس کے حسین مناظر کی تصاویر بنائی جاتی ہیں اور جس کی خوبصورتی کے چرچے دور دور تک ہیں لیکن منثی مہدی کا معاملہ ذرا مختلف نکلا وہ اسی علاقے کے باسی ہیں، لیکن زندگی بھر منٹھوکھا آبشار کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ شاید آبشار بھی ان کا انتظار کرتے کرتے سوچ رہی ہوگی منثی صاحب! ساری زندگی لوگوں کو منزل تک پہنچاتے رہے، کبھی خود بھی میری طرف آ جاتے

اور شاید منثی مہدی بھی آبشار سے یہی کہہ رہے ہوں گےبھائی! زندگی بھر وقت ہی نہیں ملا، آج ذرا فرصت ہوئی ہے بہرحال، قدرت کو شاید یہی منظور تھا کہ منثی مہدی اپنی زندگی کے اس حصے میں پہلی مرتبہ منٹھوکھا آبشار کا دیدار کریں۔ چنانچہ اس سفر کے دوران انہیں بھی پہلی بار منٹھوکھا واٹر فال دیکھنے کا موقع مل گیا

یہ منظر میرے لیے بھی خاصا دلچسپ تھا ایک طرف منٹھوکھا آبشار اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ بہہ رہی تھی اور دوسری طرف ہمارے منثی مہدی صاحب پہلی مرتبہ اسے دیکھ رہے تھے میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ دنیا بھر سے لوگ منٹھوکھا دیکھنے آتے ہیں، مگر ہمارے منثی کامہدی نے اتنے سال انتظار کے بعد آخرکار اپنی ہی زمین کے اس خوبصورت تحفے کو دیکھ لیا یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ جس علاقے میں لوگ سیاحت کے لیے دور دور سے آتے ہیں، وہاں کا ایک مقامی شخص اپنی زندگی کے آخری حصے میں پہلی مرتبہ اس آبشار کو دیکھتا ہے یوں سمجھ لیجیے کہ منٹھوکھا واٹر فال اور منثی مہدی کی ملاقات بھی کچھ کم دلچسپ نہیں تھی آبشار اپنی جگہ قائم تھی، منثی مہدی اپنی جگہ قائم تھے، بس ملاقات ذرا دیر سے ہوئی ایک واقعہ، جو یاد بن گیا میرے نزدیک یہ محض ایک سفر کا واقعہ نہیں بلکہ ایک خوبصورت یاد ہے۔ اسی لیے میں نے سوچا کہ اس دلچسپ واقعے کو قلم کے ذریعے کاغذ پر محفوظ کر دوں، تاکہ یہ آنے والے وقت کے لیے ایک یادگار کے طور پر باقی رہے منثی غلام مہدی جیسے لوگ کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ جو شخص اپنی مصروفیات اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر دوسروں کی مدد کو اپنا شعار بنا لے، اس کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں منثی مہدی نے اپنی زندگی میں بہت سے لوگوں کی مدد کی ہے۔ کبھی کسی مسافر کو ٹکٹ فراہم کیا، کبھی کسی مریض کی ہسپتال میں مدد کی، کبھی کسی طالب علم کا ساتھ دیا اور آج بھی گلگت میں رہ کر لوگوں کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں آج ان کی زندگی کا ایک ایسا دلچسپ واقعہ بھی ہمارے سامنے ہے جسے شاید وہ خود بھی مدتوں یاد رکھیں گے منثی مہدی نے منٹھوکھا واٹر فال پہلی بار دیکھا آخر میں اللہ تعالیٰ سے دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ ہمارے محترم منثی غلام مہدی عرف منثی مہدی مشہ بروم کو ہمیشہ خوش، سلامت اور آباد رکھے، انہیں صحت و تندرستی عطا فرمائے اور خدمتِ خلق کی توفیق میں مزید اضافہ فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

بشکریہ اردو کالمز