سیٹلائٹ ٹاؤن، اسکردو کے ایک کوارٹر میں ایک شاعر رہتے تھے۔ کبھی کبھار میرا بھی وہاں جانا ہوتا تھا۔ ایک دن ان کے پاس ایک کتاب پڑی ہوئی دیکھی، جو شنکیاری، مانسہرہ کے نامور شاعر و ادیب جناب رستم نامی کے شعری مجموعے لہذا کے نام سے تھی۔ میں نے کتاب پڑھنا شروع کی۔ چند صفحات پڑھنے کے بعد جب معیاری اور خوب صورت اشعار نظر آئے تو مزید پڑھنے کو جی چاہا۔
اس کتاب میں شامل کچھ اشعار آج بھی میرے ذہن و دل میں محفوظ ہیں، جن میں سے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
مجھے جانا ہے، جاؤں گا، لہٰذا
کبھی نہ لوٹ آؤں گا، لہٰذا
یہ قاصد لوگ سچ کہتے نہیں ہیں
میں خود جا کر ملوں گا، لہٰذا
اس کتاب میں شامل کئی دیگر اشعار بھی مجھے یاد ہیں، جن پر تبصرہ آئندہ کسی مضمون میں کروں گا۔
حال ہی میں رستم نامی صاحب کا شعری مجموعہ ’’حالانکہ‘‘ دوبارہ ادبی منظرنامے پر رونق بکھیر رہا ہے۔ یہ ان کی تیسری کتاب ہے، جو رنگِ ادب پبلی کیشنز کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی ہے
رستم نامی صاحب سے میری ابھی تک بالمشافہ ملاقات تو نہیں ہوئی، لیکن موبائل فون پر اکثر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ ان سے میری ایک اور نسبت بھی ہے، اور وہ ہے اصلاحِ سخن کی نسبت۔ جب بھی بندۂ ناچیز اپنے اشعار لکھتا ہے تو رستم نامی صاحب ان کی نوک پلک سنوارنے میں میری مدد کرتے ہیں۔ کئی مرتبہ میں رات گئے تک اپنا لکھا ہوا کلام اصلاح کے لیے انہیں ارسال کرتا ہوں تو وہ فوراً اس کی اصلاح کرکے واپس بھیج دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ فون بھی کرتے ہیں اور اشعار کی اصلاح کے حوالے سے مزید رہنمائی فراہم کرتے ہیں
یہ ان کی علم و ادب سے محبت، خلوص اور ادبی ذوق کا بین ثبوت ہے
ایک مرتبہ فیس بک پر ان کی تیسری کتاب ’’حالانکہ‘‘ کی اشاعت کے بارے میں معلوم ہوا تو میں نے فوراً رستم نامی صاحب کو فون کیا اور انہیں تیسری کتاب منظرِ عام پر آنے پر دلی مبارک باد پیش کی۔ میری مبارک باد سن کر نامی صاحب بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے مجھے بھی کتاب ارسال کرنے کی پیش کش کی اور میرا ڈاک کا پتا مانگا۔ میں نے فوراً اپنا پتا انہیں ارسال کردیا
چند روز بعد ڈاک خانے کے ذریعے ایک پارسل موصول ہوا۔ لفافے پر میرا نام اور پتا درج تھا۔ کتاب دیکھنے کی اتنی جلدی تھی کہ میں نے بے صبری میں پارسل کھول ڈالا۔ یوں محسوس ہوا جیسے خوشی کا ایک نیا باب کھل گیا ہو
کتاب کے خوب صورت سرورق پر ’’حالانکہ‘‘ کا عنوان درج تھا اور اس کے نیچے رستم نامی صاحب کا نام نمایاں تھا۔ جب کتاب کے اندر ابتدائی صفحے پر نظر پڑی تو وہاں درج الفاظ نے مجھے بے حد خوش کردیا۔ لکھا تھا
شاعر، ادیب اور بہت ہی پیارے دوست، محترم ناصر شمیم کے نام
یہ الفاظ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں خود کو ان خوب صورت الفاظ کا مستحق نہیں سمجھتا۔ نہ میں کوئی بڑا شاعر ہوں اور نہ ہی ادیب، لیکن رستم نامی صاحب کے ان محبت بھرے الفاظ نے میرا حوصلہ ضرور بڑھایا۔
میں شاعر و ادیب نہ سہی، لیکن علم و ادب کا ایک ادنیٰ طالب علم ضرور ہوں۔ شعر و شاعری سے شغف رکھتا ہوں اور اسی شوق کے تحت اپنے خیالات کو اشعار کی صورت میں ڈھالنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ رستم نامی جیسے نامور شاعر نے بندۂ ناچیز کو اپنی کتاب جیسے بے مثال تحفے سے نوازا۔
کتاب کا مطالعہ آگے بڑھایا تو ایک سے بڑھ کر ایک معیاری اور خوب صورت شعر پڑھنے کو ملا۔ ان اشعار نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ میں چاہتا ہوں کہ اس مضمون کے ذریعے کتاب میں شامل چند اشعار قارئین کی خدمت میں بھی پیش کروں۔
رستم نامی صاحب کہتے ہیں:
یہ مانا ہم خسارے میں رہیں گے
مگر پھر بھی ہزارے میں رہیں گے
اور ایک اور شعر میں فرماتے ہیں:
بھلا کر بھی اسے، نامی، ہمیشہ
پریشان اُس کے بارے میں رہیں گے
ایک اور غزل میں کہتے ہیں:
خسارے میں بھی رہ کر ہم ہیں وارے میں
خدا کا شکر ہے، ہم ہیں ہزارے میں
ان اشعار کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ رستم نامی صاحب کو اپنے علاقے ہزارہ سے کس قدر محبت ہے۔ ان کے کلام میں اپنے خطے سے وابستگی، اپنی مٹی سے محبت اور اپنی شناخت پر فخر نمایاں نظر آتا ہے۔
اپنے علاقے اور گاؤں سے محبت کرنا اور اس محبت کو شاعری کے ذریعے بیان کرنا شاعر کے احساسات کی خوب صورت ترجمانی ہے۔ رستم نامی صاحب نے اپنے اشعار میں اس جذبے کو بڑی دل نشیں انداز میں پیش کیا ہے۔
اپنے گاؤں شنکیاری سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں:
راجدھانی ہے مرے خوابوں کی، نامی
لوگ جس کو شنکیاری بولتے ہیں
یہ شعر اپنے اندر ایک پوری دنیا سموئے ہوئے ہے۔ شاعر کے لیے اس کا گاؤں محض ایک مقام نہیں، بلکہ خوابوں، یادوں، محبتوں اور جذبات کی ایک حسین بستی ہے۔ شنکیاری سے ان کی وابستگی اس شعر میں پوری طرح نمایاں ہے رستم نامی صاحب سے بالمشافہ ملاقات کی آرزو دل میں موجود ہے۔ ان شاء اللہ، اللہ تعالیٰ نے زندگی اور صحت عطا فرمائی تو اسی سال ان کے گاؤں شنکیاری جا کر ان سے ملاقات کروں گا۔ امید ہے کہ یہ ادبی ملاقات میرے لیے ایک خوب صورت یادگار ثابت ہوگی یہ مختصر سا تبصرہ دراصل رستم نامی صاحب کی محبت، خلوص اور علمی و ادبی رہنمائی کے اعتراف کے ساتھ ان کا شکریہ ادا کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔ ان کی جانب سے کتاب کا تحفہ، اس پر محبت بھرے الفاظ اور میرے کلام کی اصلاح کے لیے ان کی مسلسل توجہ میرے لیے باعثِ مسرت و افتخار ہے مجھے امید ہے کہ قارئین اس مختصر ادبی کاوش کو پسند فرمائیں گے اور رستم نامی صاحب کی شاعری سے بھی لطف اندوز ہوں گے آخر میں، میں اپنے محترم استاد اور عزیز دوست جناب رستم نامی صاحب کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کے لیے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و سلامتی، عمرِ دراز اور مزید ادبی کامیابیوں سے نوازے۔ ان کا قلم ہمیشہ رواں رہے اور ان کی شاعری علم و ادب کی دنیا کو یوں ہی منور کرتی رہے۔
والسلام
آپ کا مخلص،
ناصر شمیم
