اس کالم کا جو اصل مدعا ہے، اس کا "انسٹرومنٹ کیلیبریشن" سے بہت گہرا تعلق ہے۔ تفصیلی وضاحت سماعت فرمانے سے پہلے آپ "انسٹرومنٹ کیلیبریشن" کو سمجھ لیں۔ لفظ "انسٹرومنٹ" سے مراد "آلہ" ہے، جبکہ "کیلیبریشن" سے مراد "درست کرنا" یا "درستگی لانے کیلئے جانچ پڑتال کرنا" ہے۔ ان دونوں الفاظ کے مجموعے کی سادہ الفاظ میں تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ آپ کوئی بھی آلہ لے لیں، مثال کے طور پر، وزن کرنے والی مشین، جس سے ہم مختلف اشیاء کا درست وزن معلوم کر سکتے ہیں۔ جب اس مشین کو کھول کر اس کے اندر لگے پرزوں کی جانچ پڑتال اس مقصد کیلئے کی جائے کہ آیا یہ پرزے درست کام کر رہے ہیں یا نہیں، اور نتیجتاً وزن کرنے والی مشین صحیح وزن بتا رہی ہے یا نہیں، تو اس عمل کو"انسٹرومنٹ کیلیبریشن" کہا جائے گا۔ اب آپ اصل مدعا جان لیں۔
کسی بھی محفل، مجلس یا اجتماع میں انسان کا مناسب رویہ، عقل پر مبنی برتاؤ، مخصوص روایات اور اخلاقی اصولوں کی پابندی اور ماحول کے مطابق حاضرین کے ساتھ ان کی عمر یا مرتبے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے گفتگو کرنے یا پیش آنے کو "آدابِ محفل" کہا جاتا ہے۔ آپ اپنے گھر میں والدین اور بہن، بھائیوں کے ساتھ بیٹھے ہیں، یہ محفل ہے۔ آپ اپنی زوجہ اور بچوں کے درمیان بیٹھے ہیں، یہ محفل ہے۔ آپ اپنے رشتہ داروں کے ہاں دعوت پر مدعو ہیں، یہ محفل ہے۔ آپ اپنے دفتر یا کاروبار کی جگہ پر مختلف لوگوں کے درمیان براجمان ہیں، یہ محفل ہے۔ آپ اپنے کالج یا یونیورسٹی کے اساتذہ اور دوستوں کے ساتھ ہیں، یہ محفل ہے۔ آپ کسی شادی میں شریک ہیں، کسی جنازے میں حاضر ہیں، مسجد میں نماز کیلئے موجود ہیں، الغرض جہاں کہیں بھی آپ لوگوں کے مابین بیٹھے ہوں، یہ محفل کہلائے گی۔
قارئین کرام، ان تمام محافل میں بیٹھنے یا شرکت کرنے کے الگ، الگ اصول اور قوائد و ضوابط ہیں، جو "آدابِ محفل" کہلاتے ہیں اور ان کا علم ہر بالغ ذی اور شعور انسان کو ہونا چاہیئے۔ آپ مجھ سے بدَرجَۂ اَتَم اتفاق کریں گے کہ "آدابِ محفل" کے مطابق مناسب طرزِ عمل اپنانا محفل کے شرکاء پر واجب ہے۔ مثال کے طور پر، کس محفل میں کون سی بات کرنی ہے، کون سی بات نہیں کرنی ؟ کس موقع پر کیا کہنا ہے، کیا نہیں کہنا ؟ کس وقت بولنا ہے اور کس وقت خاموش رہنا ہے ؟ بچوں سے کیسے بات کرنی ہے ؟ اپنے ہم عمر سے کیسے بات کرنی ہے ؟ بزرگوں سے کیسے بات کرنی ہے ؟ کون سی بات کرنے کا ابھی وقت اور موقع ہے اور کون سی بات کرنے کا ابھی وقت اور موقع نہیں ہے ؟ کون سی بات اس وقت کرنے سے محفل میں بدمزگی پھیلنے کا خدشہ ہے اور کون سی بات نہ کرنے سے اس وقت محفل کا ماحول تناؤ سے محفوظ رہ سکتا ہے ؟
خامیاں کس میں نہیں ہیں ؟ انسان انتہائی کمزور اور بے بس ہے۔ میں تو اپنے آپ کو سب سے زیادہ خامیوں والا اور سب سے کم تر انسان سمجھتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی میں 5 خامیاں ہیں، تو ہو سکتا ہے کہ مجھ میں 20 خامیاں ہوں۔ کمزوریوں اور خامیوں سے پاک ذات تو صرف اور صرف ایک اللہ رب العزت کی ہے، تاہم میری ناقص رائے میں اگر کوئی بھی بالغ، عاقل اور ذی شعور شخص اسلامی تناظر اور معاشرتی رکھ رکھاؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے "آدابِ محفل" کا اہتمام نہیں کرتا، تو اسے کسی بھی محفل میں بیٹھنے کا حق حاصل نہیں ہے، نہ ہی اسے کسی محفل میں مدعو کرنا یا اپنے ساتھ بٹھانا مناسب اور روا ہے، کیونکہ ایسے شخص کا محفل کے دیگر شرکاء کیلئے باعث شرمندگی بننے کا از حد احتمال ہے۔
قارئین کرام، زندگی میں عام مشاہدہ ہے کہ انسان کا واسطہ مختلف اور کبھی کبھار تو "عجیب و غریب" لوگوں کے ساتھ پڑتا رہتا ہے۔ اپنے تجربات کے بارے میں بات کروں تو آپ چھوٹی عمر والوں کو تو ایک طرف رکھ دیجیئے، روزمرہ زندگی میں میرا واسطہ بڑی عمر کے ایسے حضرات سے پڑ چکا ہے، جن کے متعلق عموماً انسان کو یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ بہت سلجھے ہوئے، تمیز دار اور عقلمند ہوں گے کیونکہ زندگی کے تجربات نے انہیں بہت کچھ سکھایا ہو گا اور ان میں رکھ رکھاؤ، وضع داری اور احساس نام کی کوئی چیز ضرور پائی جاتی ہو گی، تاہم میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ حضرات "آدابِ محفل" سے بالکل عاری تھے۔ بالکل جیسے ایک دیہاتی ڈنگر کی حرکتیں ہوتی ہیں، ان کی بھی بالکل ویسی ہی الٹی، سیدھی اور شرمندہ کر دینے والی بے ترتیب حرکتیں تھیں۔ نہ بڑے، چھوٹے سے بات کرنے کی تمیز، نہ ہنسے کا سلیقہ، نہ اچھے، برے، اپنے، پرائے کا احساس، نہ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک، نہ اخلاق، نہ کلام کا ڈھنگ، ہر طرف سے بس "خیر خیریت" تھی۔
ایسے لوگ آپ کے ہمسائے بھی ہو سکتے ہیں، آپ کے دفتر یا کام، کاج کی جگہ پر بھی ہو سکتے ہیں، آپ کے دوست یا رشتہ دار بھی ہو سکتے ہیں، آپ کے سکول، کالج، یونیورسٹی میں بھی ہو سکتے ہیں، الغرض جہاں کہیں بھی آپ کا ان سے واسطہ پڑتا ہے، آپ کو ایسا لگتا ہے کہ اللہ کی طرف سے کوئی "آسمانی بلا" آپ کے سر آن پڑی ہے۔ اگر بدقسمتی سے ایسے کسی شخص کے ساتھ آپ کا روزانہ کا ملنا، ملانا ہے، پھر تو سمجھ لیں کہ یہ "آسمانی بلا" ہمیشہ ہمیشہ کیلئے آپ کے گلے میں بانہیں ڈال چکی ہے اور آپ چاہتے ہوئے بھی اب اپنی جان نہیں چھڑا پائیں گے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر افسوس بھی ہوتا ہے اور غصہ بھی آتا ہے کہ اتنی عمر ہو گئی ہے، ان کو محفل میں بیٹھنے اور بات کرنے کا سلیقہ تک نہیں آیا، تاہم ان کی حالت پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے، اور کچھ بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔
قارئین کرام، ہر کسی کی اپنی اپنی سوچ ہوتی ہے اور آپ اپنی سوچ کے مطابق مجھ سے اختلاف کر سکتے ہیں، تاہم حقیقت پر مبنی میری سوچ یہ کہتی ہے کہ کسی بھی محفل میں انسان کے برتاؤ کا دارومدار اس کی تربیت پر منحصر ہے اور تربیت کے پیچھے بہت سارے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک شخص نے بچپن کن حالات میں گزارا ؟ بچپن میں اس کے گھر میں کتنے افراد تعلیم یافتہ تھے اور کتنے غیر تعلیم یافتہ تھے ؟ اس کی اپنی تعلیم کتنی ہے ؟ اس نے بچپن میں کس سکول یا مدرسے سے تعلیم حاصل کی ہے ؟ کیا وہ کبھی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی صحبت میں بیٹھا ہے ؟ اس کا بچپن پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان گزرا ہے یا وہ دیہاتیوں کے درمیان پلا بڑھا ہے ؟ اس کا جوانی میں اٹھنا، بیٹھنا کس قسم اور کس درجے کے لوگوں کے ساتھ رہا ہے ؟ اس کے والدین، گھر کے افراد، اس کے رشتہ دار، ہمسائے، کیا ان سب کو "آدابِ محفل" آتے تھے ؟ یہ اور اس طرح کے بہت سے دیگر عوامل ہیں، جو کسی بھی انسان کی تربیت کا درجہ طے کرتے ہیں اور اس شخص میں "آدابِ محفل" موجود ہونے یا نہ ہونے کے ذمہ دار قرار پاتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں اور میرا ماننا ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا رہتا ہے، انسان کے سامنے اپنی کمزوریاں، غلطیاں، خامیاں اور کوتاہیاں آشکارا ہوتی رہتی ہیں، لہذا عقل کا تقاضا بھی ہے اور انسان کا اخلاقی اور معاشرتی فرض بھی بنتا ہے کہ انسان وقتاً فوقتاً اپنے اندر موجود کمزوریوں، غلطیوں، خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہے، تاکہ اس کے ہاتھوں بلاوجہ کسی دوسرے انسان کو کوئی تکلیف یا پریشانی درپیش نہ آئے۔یاد رہے کہ اس بارے میں بروز قیامت اللہ رب العزت کی طرف سے باقائدہ استفسار کیا جائے گا۔
میں کالم کے شروع میں آپ کو "انسٹرومنٹ کیلیبریشن" کے بارے میں بتا رہا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس شخص کو "آدابِ محفل" نہیں آتے، وہ بھی ایک ایسا "انسٹرومنٹ" ہے، جسے "کیلیبریشن" کی ضرورت ہے۔ اس شخص کو اپنے رویے، عادات، اسلوب، اندازِ بیاں حتیٰ کہ اپنے کھانے پینے کے انداز کا بھی محاسبہ کرنا پڑے گا۔ اسے اپنے بارے میں سوچنا ہو گا کہ اس کے اندر وہ کون کون سی خامیاں ہیں، جو اسے شاید اپنی خوبیاں نظر آتی ہوں، تاہم مخلوق خدا کیلئے وہ کسی عذاب سے کم نہیں ہوتیں۔ اسے اپنے اندر سب کچھ درست کرنا پڑے گا تاکہ وہ محفل میں بیٹھنے کے قابل بن سکے اور کسی دوسرے انسان کیلئے شرمندگی اور تکلیف کا باعث نہ بنے۔ یہی حکم ہمارا دین اسلام بھی ہمیں دیتا ہے کہ ایک انسان کی کسی بھی حرکت سے دوسرے انسان کو تکلیف پہنچتی ہو، تو اسے دور کیا جائے۔ بصورت دیگر، ایک شخص چاہے جتنا مرضی اپنے آپ کو تعلیم یافتہ، مہذب اور سلجھا ہوا ظاہر کرتا رہے اور جتنا بھی مہنگا اور نفیس لباس زیب تن کر لے، اگر اس میں "آدابِ محفل" نہیں ہوں گے تو وہ اپنی عزت اور وقار چند لمحوں میں کھو دے گا اور ہر کوئی اس سے دور بھاگے گا۔
شکیبؔ جلالی نے شاید "آدابِ محفل" سے عاری ایسے ہی لوگوں کیلئے کہا تھا۔
ملبُوس خوشنما ہیں، مگر جسم کھوکھلے۔
چِھلکے سجے ہُوں جیسے پَھلوں کی دکان پر۔
وقار احمد خان۔
