428

"روس، یوکرائن تنازعے کا ممکنہ خاتمہ اور نئی امریکی خارجہ پالیسی: تفصیلات اور پس پردہ حقائق (پہلا حصہ)"


20 جنوری 2025ء کو ڈونلڈ ٹرمپ نے بطور سینتالیسویں امریکی صدر دوسری مرتبہ امریکہ کے اقتدار کی لگام تھامنے کے بعد جہاں بہت سے دیگر غیر متوقع اور سخت فیصلے کیئے، وہیں پر روس اور یوکرائن کے مابین 24 فروری 2022ء سے جاری جنگ کو ختم کرنے کیلئے کوششیں بھی شروع کر دی ہیں۔ روس، یوکرائن تنازعہ پچھلے تین سال سے جاری ہے، جس میں اب تک دونوں اطراف سے مجموعی طور پر ہزاروں فوجی جان گنوا چکے ہیں اور دونوں ممالک کو اربوں ڈالرز کا نقصان بھی ہوا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی اس بات کا عندیہ دے دیا تھا کہ وہ روس، یوکرائن جنگ کا خاتمہ کریں گے۔ اس ضمن میں "ٹرمپ ایڈمنسٹریشن" میں خارجہ پالیسی کے تین اعلیٰ معاونین، جن میں سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز اور مشرقِ وسطیٰ کیلئے امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے 20 فروری 2025ء کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں روس نے وزیر خارجہ سرگئی لاروو اور خارجہ امور کے مشیر یوری اوشاکوو سے اعلیٰ سطح کی ایک ملاقات کی ہے، جس میں دونوں ممالک نے روس، یوکرائن جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار اور روس، امریکہ تعلقات کی ازسرنو بحالی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ روس کے یوکرائن پر حملے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ دنیا کے دو مخالف سپر پاورز کی آپس میں ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات ہوئی ہے۔ عالمی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ بات چیت عالمی امن کیلئے خوش آئند اور ایک اچھی پیشرفت ہے اور اس سے روس، امریکہ تعلقات میں برسوں سے جاری سردمہری کو ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

"ٹرمپ ایڈمنسٹریشن" کی جانب سے روس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا یہ خوش آئند فیصلہ جہاں ایک طرف روس، یوکرائن تنازعے کے خاتمے کی طرف ایک ٹھوس قدم اٹھانے کا اعادہ ہے، وہیں پر دوسری جانب یہ روس کیلئے امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی طرف بھی واضح اشارہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی صدر ولادیمیر پوتین اور یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ 12 فروری 2025ء کو ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو کے فوراً بعد صحافیوں سے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ، "روس نے 2022ء میں یوکرائن پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا تھا، تاہم اب وہ جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ جنگ اس طرح ختم نہ ہو کہ انہیں کچھ عرصے بعد دوبارہ شروع کرنی پڑ جائے۔" ان کا مزید کہنا تھا، "مجھے لگتا ہے کہ ہم امن کی راہ پر گامزن ہیں۔ میرے خیال میں ولادیمیر پوتین اور ولادیمیر زیلنسکی امن چاہتے ہیں اور میں بھی امن چاہتا ہوں۔" اس سے پہلے امریکی ڈیفینس سیکریٹری پیٹر برائن ہیگسیت نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ، "یوکرائن کو نیٹو میں شامل ہونے اور روس کے زیر قبضہ اپنے تمام علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے اپنے دیرینہ اہداف کو ترک کرنا ہو گا۔"

سعودی عرب میں بات چیت کی خبر نے یورپی ممالک میں تہلکہ مچا دیا ہے کیونکہ یورپ کے لبرلز نے روس، یوکرائن جنگ کو اپنی طرف سے ایک مقدس جنگ کا درجہ دیا ہوا تھا، تاہم امریکہ کی جانب سے اس اقدام کے بعد اب وہ کافی تذبذب اور پشیمانی کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ دوسری جانب یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور بعض اعلیٰ حکام کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ امریکہ کی جانب سے یوکرائن کو اس بات چیت میں شامل نہیں کیا گیا۔ ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ، "یوکرائن کو اپنی قسمت کے متعلق کسی بھی قسم کی بات چیت میں شامل ہونا چاہیئے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ امریکہ اس بات چیت میں روس کے ساتھ کسی ایسے معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر سکتا ہے، جس میں یوکرائن کے لیے پائیدار امن اور مضبوط سکیورٹی کی ضمانتیں یا قابل عمل شرائط نہیں ہوں گی۔ ہم اپنے ملک کے حوالے سے امریکہ کے روس کے ساتھ کیئے گئے کسی بھی فیصلے کی حمایت نہیں کریں گے۔" اس کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ولادیمیر زیلنسکی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، "آپ کہتے ہیں کہ ہمیں مذاکرات میں مدعو نہیں کیا گیا، آپ کو تو یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیئے تھی، آپ ڈیل بھی کر سکتے تھے۔ یہ ایک بے مقصد جنگ ہے، آپ کو اسے 3 سال پہلے ختم کر دینا چاہیئے تھا۔"

میں آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو روس، یوکرائن تنازعے کی شروعات بننے والی اہم بنیادی وجوہات کے بارے میں تھوڑی سی تفصیل بتا دوں تاکہ آپ کو اس تنازعے کا اصل پس منظر واضح ہو سکے۔ یوکرائن مشرقی یورپ میں واقع رقبے کے لحاظ سے روس کے بعد یورپ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 4 کروڑ 30 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ اس کی سرحدیں مشرق اور شمال مشرق میں روس سے، مغرب میں پولینڈ، ہنگری اور سلواکیہ سے، شمال کی جانب بیلاروس سے، جبکہ جنوب میں مولدووا اور رومانیہ سے ملتی ہیں۔ اس کی ساحلی پٹی کالے پانیوں کے سمندر سے ملی ہوئی ہے جو "اٹلانٹک اوشن" کا حصہ ہے اور یورپ اور ایشیا کے عین درمیان واقع ہے۔ یہ خطہ تجارت کے حوالے سے پورے یورپ میں کافی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ یوکرائن 1920ء سے 1991ء تک سویت یونین کا حصہ تھا۔ فروری 1989ء میں افغانستان سے سویت افواج کے انخلاء کے بعد سویت یونین کے اس وقت کے صدر "میخائل گورباچوف" نے سویت یونین میں کثیر الجماعتی نظام کے ساتھ انتخابات کی اجازت دی اور سویت یونین کیلئے صدارتی نظام کی تشکیل کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کی بدولت سویت یونین میں جمہوریت سازی کا ایک سست عمل شروع ہوا، جس نے بالآخر سویت یونین میں کمیونسٹ پارٹی کے کنٹرول کو غیر مستحکم کر دیا اور نتیجے میں سویت یونین ٹوٹ کر 15 مختلف ممالک میں تقسیم ہو گیا۔ ان ممالک میں مشرقی یورپ کے 7 ممالک روس، یوکرائن، بیلاروس، لیتھوینیا، لیٹویا، ایسٹونیا، اور مولدووا، وسطی ایشیا کے 5 ممالک ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ترکمانستان، جبکہ جنوبی قفقاز کے 3 ممالک جیورجیا، آذربائیجان اور آرمینیا شامل ہیں۔

یوکرائن نے 16 جولائی 1990ء کو سویت یونین سے علیحدگی کا اعلان کیا اور اس کے محض ایک سال بعد 24 اگست 1991ء کو خودمختاری اور مکمل آزادی کا اعلان کرتے ہوئے ایک الگ ملک کی حیثیت اختیار کر لی۔ یوکرائن پہلا ملک تھا جس نے سویت یونین سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور اس سے سویت یونین کو شدید دھچکا لگا تھا کیونکہ سویت یونین نے یہاں صنعتی اور جوہری توانائی کے شعبے میں کافی سرمایہ کاری کر رکھی تھی اور سویت یونین کے تقریباً 3 ہزار سے زیادہ جوہری ہتھیار یوکرائن میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ سویت افواج کی مشہور زمانہ "بلیک سی فلیٹ" کا مرکز بھی یوکرائن میں تھا۔ علاوہ ازیں، یوکرائن ہمیشہ سے روس کیلئے جغرافیائی، سیاسی اور سٹریٹیجک لحاظ سے کافی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ماضی میں مغرب کے حملہ آور بشمول نیپولین اسی راستے سے روس میں داخل ہوتے تھے۔ سوشلسٹ انقلاب کے بعد جب مغربی ممالک کی طرف سے روس میں مداخلت کر کے 1918ء سے 1921ء تک خانہ جنگی کروائی گئی، تو اس وقت بھی یوکرائن ہی سازشوں کا مرکز تھا۔ 

سویت یونین کے خاتمے کے بعد نیٹو نے 1999ء میں یوگوسلاویہ پر جارحیت کر کے اسے چھوٹے حصوں میں توڑ دیا اور مشرقی یورپ کے ممالک بشمول پولینڈ کو نیٹو کا حصہ بھی بنا ڈالا۔ 2004ء میں نیٹو نے مشرقی یورپ کے مزید سات ممالک کو اپنے ساتھ شامل کرلیا، جس پر روس کو شدید غصہ تھا۔ ردعمل کے طور پر 2008ء میں روس نے جارجیا پر حملہ کر دیا کیونکہ وہاں مغرب نواز حکومت تھی۔ اس حملے سے روس نے نیٹو کو کھلا پیغام دیا کہ وہ اپنے اردگرد محاصرہ مزید تنگ نہیں ہونے دے گا۔ 2009ء میں نیٹو نے مشرقی یورپ کے مزید دو ممالک کو اپنے ساتھ شامل کرلیا اور ساتھ ہی یہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا کہ بہت جلد یوکرائن اور جارجیا کو بھی نیٹو کا حصہ بنایا جائے گا۔ یہ معاملات روس کے لئے ناقابل قبول تھے کیونکہ نیٹو کو1949 ء میں روس کی مخالفت کیلئے بنایا گیا تھا اور سویت یونین کے خاتمے کے بعد اس کو برقرار رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا تھا، تاہم امریکہ اور اس کے اتحادی یورپی ممالک کی جانب سے نیٹو کو ختم کرنے کی بجائے اس میں مزید توسیع کی جانے لگی۔ مزید برآں، امریکی خفیہ ایجنسی "سی-آئی-اے" نے 2014ء میں "رجیم چینج آپریشن" کے ذریعے یوکرائن میں ایک مغرب نواز حکومت کھڑی کر دی، جس نے امریکہ کی ایماء پر مغرب کے ساتھ اقتصادی اور عسکری شعبوں میں تعلقات بڑھانا شروع کر دیئے۔ روس کو معلوم تھا کہ اگلے مرحلے میں یوکرائن کو نیٹو میں شامل کر لیا جائے گا اور 2022ء میں ایسا ہونے بھی والا تھا، باوجود اس کے کہ روس نے یوکرائن کو نیٹو میں اتحاد کرنے کی صورت میں حملے کی دھمکی بھی دی تھی، یوکرائن نے نیٹو میں شمولیت کی طرف قدم بڑھانا چاہا، جس کے جواب میں 24 فروری 2022ء کو روس نے یوکرائن پر حملہ کر دیا اور یہ جنگ تاحال جاری ہے۔

یوکرائن پر حملے کے بعد پوری مغربی دنیا نے یوکرائن کی مدد شروع کردی کیونکہ ان کے خیال میں روس کو تباہ کرنے کا انہیں بہترین موقع مل گیا تھا۔ صرف امریکہ نے یوکرائن کو 66 ارب ڈالر کی فوجی امداد دی اور روس پر بدترین معاشی پابندیاں لگا دیں۔ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کا خیال تھا کہ اس طرح روس کو شدید معاشی دھچکا ملے گا، جس سے روس کمزور ہو کر یوکرائن سے جنگ ہار جائے گا، تاہم یہ خیال مٹی کا ڈھیر ثابت ہوا اور روس کی معیشت کو کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ کئی یورپی ممالک بشمول ہندوستان نے روس سے سستا تیل خریدنا شروع کر دیا، ایران اور شمالی کوریا نے روس کو اسلحہ فراہم کیا اور سب سے بڑی پیشرفت اس وقت ہوئی جب چین نے امریکہ سے دشمنی نبھانے کی خاطر موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے روس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کر دی۔ امریکہ اور یورپ نے اپنے میڈیا کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے ولادیمیر زیلنسکی کو ہیرو بنا دیا اور یوکرائن کو ایسا دکھایا کہ گویا وہ روس کو پسپا کر رہا ہے، تاہم زمینی حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں۔ یوکرائن کی فوج اربوں ڈالرز کی فوجی امداد، اسلحے اور امریکہ سمیت پورے یورپ کی سپورٹ کے باوجود روسی افواج کا مقابلہ کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور یوکرائن کا تقریباً 20 فیصد علاقہ روس کے قبضے میں چلا گیا ہے، جسے اب روس واپس کرنے سے صاف انکار کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں، یوکرائن کو تقریباً 3 کھرب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے، جس کی بھرپائی بقول ڈونلڈ ٹرمپ کے اب یورپ کرے گا اور ولادیمیر زیلنسکی کا یوکرائن کو نیٹو میں شامل کرنے کا خواب بھی "ٹرمپ ایڈمنسٹریشن" کی جانب سے کھلے عام انکار کے بعد اب ہمیشہ کیلئے ادھورا رہ گیا ہے۔

اس تمام منظر نامے کو مدنظر رکھتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کی روس پر اس قدر مہربان ہونے کی آخر کیا وجہ ہے، جبکہ دنیا پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے خواہشمند دونوں ممالک آپس میں روایتی حریف ہیں۔ روس، یوکرائن جنگ بندی سے امریکہ کیا اہداف حاصل کرنا چاہ رہا ہے اور جنگ بندی کے بعد خطے میں کیا صورتحال بننے جا رہی ہے ؟ یہ تمام تفصیل میں اس کالم کے اگلے حصے میں آپ کے گوش گزار کروں گا۔

بشکریہ اردو کالمز