300

"سندور سے بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ تک"

اکتوبر 2019ء میں "امریکن ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف سائنس" کی طرف سے شائع ہونے والے معروف سائنسی جریدے "سائنس ایڈوانسز" میں "پاکستان اور بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں میں تیزی سے ہونے والی توسیع سے علاقائی اور عالمی سطح پر تباہی کا خدشہ" کے عنوان سے ایک ریسرچ آرٹیکل شائع ہوا تھا۔ اس ریسرچ آرٹیکل میں "کولوراڈو یونیورسٹی"، "رٹگرز یونیورسٹی"، "کیلیفورنیا یونیورسٹی"، "لاس اینجلس یونیورسٹی" اور "ٹیکساس یونیورسٹی" کے سائنسی ماہرین کی جانب سے اس امکان کا جائزہ لیا گیا تھا کہ اگر 2025ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ ہو جائے، تو جنوبی ایشیاء سمیت پوری دنیا پر اس ایٹمی جنگ کے کیا منفی اثرات مرتب ہوں گے ؟ نتائج خوفزدہ کر دینے والے اور دل دہلا دینے والے تھے۔ ریسرچ آرٹیکل کے مطابق پاکستان، بھارت ایٹمی جنگ کے نتیجے میں فوری طور پر کم و بیش 10 کروڑ افراد لقمہ اجل بن جائیں گے۔ ایٹمی حملوں سے لاکھوں ٹن کاربن خارج ہو گا، جو کالے سیاہ دھویں کے بادلوں میں تبدیل ہو کر اگلے چند ہفتوں تک پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر سورج کی روشنی کو 20 سے 35 فیصد تک کم کر دے گا، جس سے عالمی درجہ حرارت 2 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جائے گا۔ مزید برآں، ایٹمی تابکاری کی بدولت پوری دنیا کو شدید قحط سالی کا سامنا کرنے پڑے گا۔ ریسرچ آرٹیکل کے مطابق اس ایٹمی جنگ کے اثرات ختم ہونے میں کم از کم 10 سال تک کا لمبا عرصہ لگ جائے گا اور زمین پر زندگی ناپید ہو جائے گی۔

قارئین کرام، یہ سال 2025ء ہے۔ امریکی سائنسی ماہرین کی جانب سے 2019ء میں ظاہر کیئے گئے خدشے کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین ایٹمی جنگ تو تاحال نہیں ہو سکی ہے، تاہم اسی سال 6 اور 7 مئی 2025ء کی درمیانی شب کو دونوں ممالک میں جنگ اس وقت چھڑ گئی، جب بھارت نے پاکستان کے سرحدی حدود کی کھلے عام خلاف ورزی کرتے ہوئے رات کی تاریکی میں پاکستان کے اندر اور آزاد کشمیر میں 6 مختلف مقامات پر مساجد اور سویلین آبادی کو نشانہ بنایا۔ بھارت نے یہ حملہ لڑاکا طیاروں، میزائلز اور ڈرونز کی مدد سے سرانجام دیا۔ پاکستان کے جو مقامات بھارت کے حملے کا نشانہ بنے، ان میں بہاولپور شہر کے قریب احمد پور شرقیہ، مرید کے، سیالکوٹ سے متصل ایک گاؤں اور شکرگڑھ سمیت آزاد کشمیر کے علاقے مظفر آباد اور کوٹلی شامل ہیں۔ بھارت نے ان حملوں کو "آپریشن سندور" کا نام دیا اور اسے 22 اپریل 2025ء کو بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں بھارتی سیاحوں پر ہونے والے دہشت گرد حملے کا بدلہ قرار دیا۔ یاد رہے کہ اس حملے میں 26 بھارتی شہری ہلاک جبکہ 25 زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری "دی ریسسٹینس فرنٹ" نامی ایک تنظیم نے لی تھی، جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی آزادی اور حقوق کیلئے سرگرم عمل ایک جنگجو تنطیم ہے۔ بھارتی حکومت کے مطابق "دی ریسسٹینس فرنٹ" دراصل پاکستان کی مذہبی عسکری تنظیم "لشکر طیبہ" کے ماتحت ہے، لہذا بھارت نے بنا کسی تحقیق اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اس حملے کا الزام "لشکر طیبہ" پر عائد کر دیا اور کہا کہ حکومت پاکستان اس کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ حکومت پاکستان نے اس دہشت گرد حملے کی مذمت کرنے سمیت بھارت کو اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کروانے میں مدد کی پیشکش بھی کی، تاہم بھارت نے اپنی روایتی جاہلیت، تکبر اور ہٹ دھڑمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی ہر پیشکش مسترد کر دی اور 6 اور 7 مئی 2025ء کی درمیانی شب پاکستان پر بلا جواز حملہ کر دیا۔

بھارت کی طرف سے اس بزدلانہ حملے میں تقریباً 12 سے 15 بیگناہ پاکستانی شہریوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 35 کے قریب زخمی ہوئے۔ یہ بھارت کی طرف سے کھلے عام جنگ کا آغاز تھا، جس کے جواب میں پاکستان آرمی اور ائیر فورس نے مل کر بھارت کے 5 جنگی جہازوں کو فوری طور پر مار گرایا۔ گرائے جانے والے طیاروں میں 2 رافیل طیارے بھی شامل تھے، جو فرانس کے جدید ترین ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی کے حامل طیارے تصور کیئے جاتے ہیں اور بھارت کو ان طیاروں ہر بڑا گھمنڈ بھی تھا، جو اللہ کریم کے فضل و کرم اور نصرت سے پاکستان آرمی نے خاک میں ملا دیا۔ علاوہ ازیں، پاکستان آرمی نے بھارت پر ہیوی آرٹلری سے جوابی حملے بھی شروع کر دیئے۔ بھارت کی جارحیت کھلی تھی، جس میں عبادت گاہوں اور بیگناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور اس جارحیت کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا اور پاکستان کو مشتعل کرنا تھا تاکہ پاکستان غصے میں کوئی سنگین قدم اٹھا لے، تاہم پاکستان نے تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کا محدود اور مؤثر جواب دیا، جس کا واضح مقصد کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا اور اسے ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہونے سے بچانا تھا۔ اپنے 5 طیارے گنوانے کے بعد بھارت نے مزید نقصان اور شرمندگی سے بچنے کیلئے اگلے 3 دن تک لگاتار اسرائیلی ساختہ "ہاروپ" ڈرونز کے ذریعے پاکستان کے مختلف شہروں پر حملے جاری رکھے۔ بھارت نے ایک ہی وقت میں کئی محاذ کھول دیئے۔ لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے صف آراء ہو گئیں۔ اپنی بزدلانہ روش کو برقرار رکھتے ہوئے بھارت لائن آف کنٹرول پر واقع ہسپتالوں اور سکولوں کی عمارتوں کو بھی نشانہ بنانے لگا، جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پاکستان آرمی نے اس دوران بھارت کے کم و بیش 84 ڈرونز کو مار گرایا اور ہر محاذ پر بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دے کر بھارت کی ناکوں چنے چبوائے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس تمام صورتحال سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ پاکستان عالمی برادری کو بھارتی جارحیت کے متعلق لمحہ بہ لمحہ آگاہی بھی دیتا رہا، امن کی اہمیت پر زور بھی دیتا رہا اور بہترین سفارت کاری کے ذریعے جنگ کے خطرات کو ٹالنے کی بھرپور کوششیں بھی کرتا رہا، تاہم بھارت اپنی تکبرانہ روش سے باز نہیں آ رہا تھا۔9  اور 10 مئی 2025ء کی درمیانی شب بھارت نے تمام حدود پار کرتے ہوئے پاکستان پر باقاعدہ میزائلوں سے حملہ کر دیا۔ بھارتی جارحیت کو حد سے گزرتا دیکھ کر پاکستان آرمی نے 10 مئی 2025ء کو علی الصبح بعد از نماز فجر اللہ رب العزت کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہوئے اپنی سلامتی اور اپنے شہریوں کے تحفظ کی خاطر بھارت کے خلاف "آپریشن بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ" کا آغاز کر دیا۔ قارئین کرام، آگے بڑھنے سے پہلے میں آپ کو "بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ" کے بارے میں بتاتا چلوں۔ "بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ" کے لفظی معنی ہیں، "سیسہ پلائی ہوئی دیوار" اور اس کا ذکر قرآن کریم کی "سُورةُ الصَّفْ" کی آیت نمبر 4 میں آیا ہے، جس میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا، "إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِى سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ۔" ترجمہ: "بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے، جو اس کی راہ میں اس طرح صفیں باندھ کر لڑتے ہیں، گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔" آپ "سُورةُ الصَّفْ" کے متعلق بھی جان لیں۔

"سُورةُ الصَّفْ" قرآن کریم کی اکسٹھویں (61) سُورة ہے اور یہ مدنی سُورة ہے۔ اس میں کل 14 آیات ہیں۔ یہ سُورة نبی کریم حضرت محمد مصطفٰی ﷺ پر اس وقت نازل ہوئی تھی، جب مسلمان مدینہ میں جہاد کی تیاری کر رہے تھے۔ اس سُورة میں اللہ رب العزت نے ان منافقین کی مذمت فرمائی ہے، جو رسول اللہ ﷺ کے وفادار اور تابعدار ہونے کے بلند و بانگ دعوے کرتے رہتے تھے، تاہم عملی طور پر کچھ نہیں کرتے تھے۔ تفسیر ابن کثیر میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ کے حوالے سے "سُورةُ الصَّفْ" کے نازل ہونے کی وجوہات کے بارے میں بیان ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی اجمعين کی ایک جماعت نے آپس میں بحث کی کہ اگر ہمیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے، تو ہم اس پر عمل کریں گے اور اپنی جان و مال اس کیلئے وقف کر دیں گے۔ انہوں نے آپس میں طے کیا کہ ہم سے کوئی ایک رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر ان سے اس عمل کے بارے میں استفسار کرے، جو اللہ رب العزت کو سب سے زیادہ محبوب ہے، تاہم ان میں سے ایک بھی رسول اللہ ﷺ کے پاس نہیں گیا۔ اسی دوران آپ ﷺ پر "سُورةُ الصَّفْ" نازل ہوئی، جس میں دوسری اور تیسری آیت میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا، "يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ۔ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ ٱللَّهِ أَن تَقُولُوا۟ مَا لَا تَفْعَلُونَ۔" ترجمہ: "اے ایمان والو، وہ بات کیوں کہتے ہو، جو کرتے نہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی سخت ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو، جو نہ کرو۔"

جب یہ سُورة نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے ایک آدمی کو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی اجمعين کی اس جماعت کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک کا نام لے کر اسے پکارے، یعنی آپ ﷺ کے پاس بلائے۔ جب وہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی اجمعين آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے، تو آپ ﷺ نے اللہ رب العزت کی طرف سے تنبیہ کے طور پر ان کے سامنے "سُورةُ الصَّفْ" کی تلاوت فرمائی۔ اس سُورة سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی اجمعين جس پسندیدہ عمل کی تلاش میں تھے، وہ اللہ رب العزت کی راہ میں جہاد کرنا تھا اور ان کا یہ کہنا کہ "اگر ہمیں اس کا علم ہو جائے تو ہم اس پر عمل کریں گے اور اپنی جان و مال اس کیلئے وقف کر دیں گے" دراصل جہاد کرنے پر قدرت رکھنے یا اپنے بارے میں پریقین ہونے کا ایک قسم کا دعویٰ تھا، لہذا اس سورة میں اللہ رب العزت کی طرف سے انہیں یہ نصیحت فرمائی گئی تھی کہ کسی بھی مومن کیلئے ایسا دعویٰ کرنا مناسب نہیں ہے، کیونکہ کوئی بھی یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وقت آنے پر وہ اپنے کسی بھی ارادے کو عملی جامہ پہنا سکے گا یا نہیں ؟ یہ کسی بھی انسان کے بس میں نہیں ہے کہ عمل کرنے کے تمام اسباب کو مؤثر بنائے اور تمام رکاوٹیں دور کر کے کوئی عمل سرانجام دے سکے۔ علاوہ ازیں، کسی بھی انسان کے جسم کے اعضاء یا اس کی قوتیں یا صلاحیتیں اس کے اختیار میں نہیں ہیں، جس کی بدولت وہ اپنے کسی ارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکے۔ یہ صرف اور صرف ایک اللہ وحده لا شريك کی مرضی اور حکم سے ممکن ہوتا ہے۔ اسی لیئے قرآن کریم کی سورة الكهف کی آیت نمبر 23 اور 24 میں اللہ رب العزت نے نبی کریم حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کو ہدایت کے طور پر فرمایا ہے، "وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ، غَدًا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ۔" ترجمہ: "اور ہرگز کسی چیز کے متعلق ایسا نہ کہنا کہ میں کل یہ کرنے والا ہوں، مگر یہ کہ اللہ چاہے۔"

میں "آپریشن بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ" کی طرف واپس آتا ہوں۔ آپریشن کا آغاز ہوتے ہی پاکستان ائیر فورس کے 42 جدید ترین لڑاکا طیاروں "جے 10 سی" اور "جے-ایف 17 تھنڈر" سمیت پاکستان کی بری افواج نے جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل "فتح 1" اور "فتح 2" میزائلوں سے بھارت پر حملہ کر دیا اور بھارت کے مختلف شہروں میں 26 مختلف مقامات پر اہم فوجی تنصیبات کو نیست و نابود کر دیا۔ پاکستان آرمی کی جانب سے بھارت میں جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ بیاس میں براہموس میزائل کی سٹوریج سائٹ کو تباہ کیا گیا، جہاں سے 9 اور 10 مئی 2025ء کی درمیانی شب پاکستان پر میزائل داغے گئے تھے۔ علاوہ ازیں، اودھم پور ائیر بیس اور وہاں موجود ائیر ڈیسفنس سسٹم، پٹھان کوٹ ائیر فیلڈ، جالندھر میں آدم پور ائیر بیس اور وہاں موجود روسی ساختہ S400 میزائل ڈیفنس سسٹم، گجرات میں متعدد ائیر بیس، دہلی اور راجستھان میں فوجی تنصیبات، سرینگر ائیر بیس، چندی گڑھ ائیر بیس اور دیگر اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے یہ تمام مقامات ملبے کا ڈھیر بن گئے اور لاتعداد بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ سائبر محاذ پر بھی پاکستان نے بھارت کو مکمل طور پر ڈھیر کر دیا۔ پاکستان کے ہیکرز اور ماہرین نے بھارت کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، جس میں توانائی اور ٹیلی کمیونیکیشن سے لیکر اہم دفاعی اور سرکاری ویب سائٹس سمیت "بی-جے،پی" کی آفیشل ویب سائٹ تک کو سائبر حملوں کے ذریعے چند ہی گھنٹوں میں تباہی سے دوچار کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کے انرجی سیکٹر کے "سپروائزری کنٹرول اینڈ ڈیٹا ایکوزیشن سسٹمز" کے کنٹرول سسٹم میں خلل پڑا اور ممکنہ طور پر اہم پاور جنریشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس کو نقصان پہنچا۔ بھارت کی مختلف ریاستوں میں ونڈ ٹربائنز کو بند کر دیا گیا اور متعدد صارفین کے بجلی کے پورٹلز کو ناقابل رسائی بنا دیا گیا، جس سے بھارتی شہریوں کو بجلی کی تقسیم میں شدید خلل پڑا۔

ٹرانسپورٹیشن سیکٹر میں "دہلی گیس ڈسکام" اور "کشمیر الیکٹرک ڈسکام" کیلئے اہم خدمات کے ساتھ ساتھ ہندوستانی ریلوے کا پورا بنیادی ڈھانچہ ختم کر دیا گیا۔ نقصان کے نتیجے میں ڈیٹا کو مکمل طور پر مٹایا گیا، جس سے روزانہ کی کارروائیوں میں خلل پڑا۔ ٹیلی کمیونیکیشن اور سیکیورٹی سیکٹر میں 120 سے زیادہ راؤٹرز اور 1,310 آئی۔پی کیمرے خراب ہو گئے اور ان کی کنفیگریشنز کو تبدیل کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں، کل 1,744 ویب سرورز مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ ان سرورز پر محفوظ تمام ڈیٹا کو مستقل طور پر مٹا دیا گیا، جس سے سرکاری اور نجی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ گورنمنٹ اور کارپوریٹ سیکٹر میں 13 سرکاری پورٹلز کو خراب کیا گیا، جو "کرائم ریسرچ انویسٹی گیشن ایجنسی (سی۔آر۔آئی۔اے۔آئی)" اور "یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یو۔آئی۔ڈی۔اے۔آئی)" جیسی اعلیٰ سطحی ایجنسیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مزید برآں، "بھارت ارتھ موورز لمیٹڈ (BEML)" اور "ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL)" جیسی بڑی کمپنیوں کی ویب سائٹس سمیت دیگر اہم 110 کارپوریٹ ویب سائٹس کو آف لائن کر دیا گیا۔ ڈیفینس سیکٹر میں انتہائی حساس معلومات پر مشتمل 150 سے زائد ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کی گئی، جن میں "بارڈر سیکورٹی فورس (BSF)"، "انڈین ائیر فورس" اور"مہاراشٹر الیکشن کمیشن" کی اہم خفیہ معلومات چرا کر انہیں مختلف پلیٹ فارمز پر لیک کر دیا گیا۔ بھارت میں مختلف مقامات پر 2،500 سے زیادہ نگرانی کرنے والے کیمروں کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ ان تمام اقدامات سے آدھے سے زیادہ بھارت مفلوج ہو گیا اور روزمرہ کی معمولات کا نظام درہم برہم ہونے کے ساتھ ساتھ بھارت کی سلامتی کے حوالے سے بنائے گئے نظام کی درستگی اور صلاحیت پر ان گنت سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے اس قدر سخت اور دلیرانہ جوابی اقدام سے بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جنگ بندی کروانے کی اپیل کر دی۔ امریکہ پہلے تو بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحیت اور بعد ازاں "آپریشن سندور" شروع کرنے پر یہ کہتا رہا کہ یہ پاکستان اور بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، وہ آپس میں خود طے کر لیں گے، تاہم پاکستان کی جانب سے اس قدر سخت ردعمل دیکھ کر امریکہ حیران و پریشان ہو گیا اور اپنے چہیتے بھارت کو مزید نقصان سے بچانے کیلئے فوراً درمیان میں کود پڑا، جس کے نتیجے میں "آپریشن بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ کے شروع ہونے کے محض چند ہی گھنٹے کے اندر اندر پاکستان اور بھارت کے مابین سیز فائر ہو گیا اور پاکستان پوری دنیا کے سامنے عسکری اور سفارتی دونوں محاذوں پر فاتح قرار پایا۔ پاکستان آرمی کے تقریباً 11 فوجیوں نے حق و باطل کے اس نتیجہ خیز معرکے میں جام شہادت نوش کیا جبکہ 40 کے قریب عام شہری بھی وطن عزیز کی راہ میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ دوسری جانب بھارت میں سینکڑوں فوجیوں اور لاتعداد شہریوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں، جسے بھارتی میڈیا اور حکومت چھپا رہے ہیں۔

قارئین کرام، "آپریشن بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ" نے جہاں ایک طرف بھارت کے ناکام میزائل ڈیفنس سسٹم سمیت فضائی اور عسکری طاقت کی برتری کے کھوکھلے دعوؤں کی اصلیت پوری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دی ہے، وہیں پر دوسری جانب پوری دنیا کو پاکستان کی طاقتور عسکری صلاحیتوں سے متعارف کروا کر یہ واضح پیغام بھی دیا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور وطن عزیز کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کرنے والوں کا انجام عبرتناک ہو گا۔ علاوہ ازیں، اس آپریشن نے پاکستان اور چین کے مشترکہ تعاون سے بنائے گئے جدید ترین جنگی طیاروں اور دفاعی ٹیکنالوجی کا لوہا بھی پوری دنیا میں منوایا ہے۔ عالمی میڈیا پاکستان کی جنگی صلاحیتوں کو تسلیم کر رہا ہے اور پاک چین مشترکہ دفاعی ٹیکنالوجی کی تعریف کر رہا ہے۔ پوری پاکستانی قوم کو اللہ رب العزت کے حضور سجدہ ریز ہو کر شکر ادا کرنا چاہیئے، جس نے اپنے خاص فضل و کرم سے پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کر دیا اور ہمیشہ کی طرح پاکستان آرمی کو لاتعداد عزتوں سے نواز دیا۔ پاکستان آرمی اپنی دلیری اور وجاہت کیلئے پوری پاکستانی قوم کی طرف سے مبارکباد اور تعریف کی مستحق ہے، جس نے بزدل دشمن کی جانب سے رات کی تاریکی میں کیئے گئے حملے کا قرض "آپریشن بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ" کی شکل میں چکا کر مجھ سمیت کروڑوں پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ مجھے یہاں فیض احمد فیضؔ یاد آ گئے۔

میرے چارہ گر کو نوید ہو، صف دُشمناں کو خبر کرو۔
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکا دیا۔

 

بشکریہ اردو کالمز