383

"پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس میں کردار کی بے حرمتی کا گھناؤنا دھندہ: تفصیلات اور حقائق (تیسرا حصہ)"

دوستی اور خلوص کا جھوٹا خول چہرے پر چڑھا کر میری پیٹھ پر پیچھے سے وار کرنے والے میرے دوسرے "مہربان" پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے محترم جناب پرنسپل صاحب تھے، جنہوں اس ایسی زبردست اور کمال "اداکاری" کی کہ میں آج دن تک سوچتا ہوں، کیا کوئی اتنا زبردست "اداکار" بھی ہو سکتا ہے ؟ میری ڈیوٹی کے دوران روزانہ میرے ساتھ بیٹھ کر پرنسپل صاحب رپورٹ لیا کرتے تھے، مجھ سے معاملات کے متعلق مشاورت کیا کرتے تھے اور اتنی دلچسپی سے ہر کام کے حوالے سے بات کیا کرتے تھے کہ مجھے ایک لمحے کیلئے بھی ذرہ برابر شبہ نہ ہوا کہ مجھے ملازمت سے ہٹانے میں سب سے بڑا ہاتھ تو محترم جناب پرنسپل صاحب کا ہے۔ دراصل پرنسپل صاحب کرتے کچھ اس طرح تھے کہ پاکستان ایمبیسی، طرابلس میں بیٹھے "نام نہاد" افسران جب میرے بارے میں ان سےکچھ پوچھتے تھے، جو کہ وہ ہر نئے ملازم کے بارے میں پوچھتے ہیں، تو محترم پرنسپل صاحب انہیں میری کارکردگی اور سچ بتانے کی بجائے سب کچھ جھوٹ اور غلط بتاتے تھے اور جان بوجھ کر انہیں ایسا تاثر دیتے تھے کہ میرے کام سے سکول کے ملازمین خوش نہیں ہیں، جبکہ حقیقت کچھ اور تھی، جو میں بیان کر چکا ہوں۔ مجھے کہتے تھے کہ میں نے آپ کی ساری رپورٹ آگے پہنچا دی ہے اور سب آپ کی کارکردگی سے خوش ہیں، تاہم وہ سب سفید جھوٹ اور بکواس ہوتا تھا۔ دوسرا بڑا "کارنامہ" پرنسپل صاحب نے یہ کیا کہ پاکستان ایمبیسی، طرابلس جا کر میری جگہ دو ٹکے کے ایک پرائمری لیول کے معمولی سے استاد کو"ایڈمنسٹریٹر" لگوانے کی سفارش کی اور یہیں پر سلسلہ ختم نہیں کیا، "اکاؤنٹنٹ" کی سیٹ کیلئے دو ٹکے کی ایک جعلی ڈگری والی پرائمری لیول کی خاتون رشتے دار کو آگے کر دیا تاکہ میرے لیئے سکول میں آنے کے تمام راستے بند ہو جائیں اور اگر کوئی راستہ رہ بھی جائے تو صرف ٹیچنگ کا، جو کہ نہ تو میرا شعبہ تھا، نہ ہی مجھے اس میں کوئی مہارت حاصل تھی، نہ ہی دلچسپی تھی۔ قارئین کرام، آپ محترم جناب پرنسپل صاحب کی گری ہوئی سوچ اور "قابلیت" کا اندازہ لگائیں، جو میرے تعلیمی معیار اور تجربے کے مطابق دو سیٹیں تھیں، وہ دو ٹکے کے جعلی ڈگری والے دیہاتیوں کے حوالے کر دیں، جبکہ مجھے دو کوڑی کی ٹیچنگ پر لگانا چاہا، محض اسلیئے کہ محترم کی حرام خوری، بدمعاشی اور "رنگ رلیوں" میں کوئی رکاوٹ نہ آ جائے۔

علاوہ ازیں، سکول میں جعلی ڈگریوں والی 50 اور 60 سالہ عمر رسیدہ، بدصورت، موٹی، کالی، بدبودار، پھوہڑ حلیے اور بے ڈول جسامت کی 8 یا 10 چورنیاں تھیں، جنہوں نے پورے سکول کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھا ہوا تھا۔ سب کی سب ایک نمبر کی حرام خور تھیں۔ ان کے "کرتوتوں" کی مختصر سی تفصیل میں اس کالم کے پہلے حصے میں بیان کر چکا ہوں۔ میں نے محض ایک ہی ملاقات میں ان کی ساری "ہوا" نکال دی تھی، آج بھی پورے سکول کو یاد ہے کہ میں نے ان کا کیا "حشر" کیا تھا۔ ان میں ایک جعلی ڈگری والی چورنی، جو  سب سے زیادہ بدشکل اور بدصورت تھی، انتہائی تکبر، غرور اور بدمعاشی سے بات کرتی تھی۔ میں نے اس کا "بائیو ڈیٹا" نکلوایا تو معلوم ہوا کہ دراصل یہ ڈیفنس اتاشی کو "سپلائی" کیا کرتی ہے۔ باقی آپ سمجھ دار ہیں۔ یہ تمام چورنیاں پرنسپل صاحب کے ساتھ "خصوصی مشاورت" کرنے اور ان سے "خصوصی ہدایات" لینے کے بعد ایک گروپ کی شکل میں میرے خلاف پاکستان ایمبیسی، طرابلس گئیں اور وہاں جھوٹ کا رونا، دھونا اور مصنوعی غصہ ظاہر کر کے ڈیفنس اتاشی سے مطالبہ کیا کہ وہ مجھے "ایڈمنسٹریٹر" کی سیٹ سے ہٹا دے، ورنہ ہم اپنی ملازمتوں سے استعفاء دینے کو تیار ہیں۔ یہ دراصل ان منحوس النسل اور بدذات چورنیوں کا "طریقہ واردات" تھا اور آج دن تک ہے کہ جب بھی کوئی انہیں گردن سے دبوچ لے، تو یہ اپنے آپ کو دنیا کی "مظلوم ترین مخلوق" ظاہر کرنے کیلئے ایک دینار والا سستا، دو نمبر، دیسی کاجل بمع گلیسرین آنکھوں میں لگا کر رونے کی اداکاری کرنا شروع کر دیتی ہیں، تاکہ سامنے بیٹھے شخص کو ان پر ترس آ جائے اور وہ بغیر سوچے سمجھے ان کی ہر ناجائز بات مان لے۔ سستے اور دو نمبر کاجل کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ یہ آنکھوں سے بہہ کر گالوں اور رخسار پر پھیل جاتا ہے، جس سے دیکھنے والے کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رونے والی عورت کافی دکھی اور مظلوم ہے۔ میری ساری زندگی اس طرح کے "ڈرامے" دیکھتے دیکھتے گزر گئی ہے۔ اس کے برعکس اصلی اور مہنگا کاجل آنکھوں سے نکل کر محض ایک سیدھی لکیر کی شکل میں بہتا ہے۔ بہرکیف، یہ فرق ہر مرد کو معلوم ہے۔ وہ دوغلا ڈیفنس اتاشی کوئی بچہ نہیں تھا، اس کے بھی اپنے "مقاصد" تھے، جن کی "تکمیل" میرے "ایڈمنسٹریٹر" رہتے ہوئے ممکن نہیں تھی۔ 

مجھے ایک اور بات بھی معلوم ہوئی، جس نے میری ملازمت ختم کروانے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے تقریباً تمام چوروں اور چورنیوں نے اپنا پورا پورا "ٹبر" سکول کے اندر "گھسیڑا" ہوا تھا۔ گویا سکول نہ ہوا، "خالہ جی کا گھر" ہو گیا۔ ایک ہی خاندان کے 4 سے 6 لوگ سکول میں ملازمت کر رہے تھے۔ آپ سوچیں، اب اتنے لوگ ہوں، پھر باہر ان کے خاندان ہوں، ان کے بہن، بھائی ہوں، ان کے رشتہ دار ہوں، اوپر سے سب کا مقصد حرام خوری اور چوری ہو، تو لازمی سی بات ہے، جب میں ان میں سے کسی بھی چور یا چورنی پر ہاتھ ڈالوں گا تو اس کا "درد" سب کو یکساں محسوس ہو گا۔ ویسے بھی طرابلس میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی اکثریت "بازاری دلالوں" پر مشتمل ہے۔ لہذا میرے ساتھ بھی وہی ہوا۔ جب میں نے پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے چوروں اور چورنیوں کی گردن کو دبوچا، تو باہر بیٹھے کچھ لوگوں نے، جنہیں میری ملازمت سے کوئی لینا، دینا نہیں تھا، نہ ہی مجھ سے کوئی دشمنی تھی، بلاوجہ مجھ سے پنگا لیتے ہوئے میرے خلاف پاکستان ایمبیسی، طرابلس فون کیئے، جس میں انہوں نے "دلال" بن کر میرے خلاف جھوٹی بکواس کی اور مجھے منفی انداز میں پیش کیا۔ بعد ازاں میں نے ان کی ایک لسٹ مرتب کی اور آج تک انہیں رگڑ رہا ہوں۔ ابھی بھی ان میں سے کچھ "دلال" پوشیدہ ہیں، تاہم آہستہ آہستہ ان کے نام سامنے آتے جاتے رہے ہیں۔ یہ سب انشاء اللہ "دلالی" کرنے کے سنگین نتائج بھگتیں گے۔

اب آپ اس 14 سال کی بچی کا قصہ سنیں، جس کا ذکر میں نے اس کالم کے پہلے حصے کے شروع میں کیا تھا۔ اس بچی کا "بیان" تھا کہ میں نے اس کو "I LOVE YOU" کہا ہے۔ مجھے پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے چوروں اور چورنیوں کے خلاف معلومات اور ثبوت اکھٹا کرتے تقریباً ایک مہینہ ہو چکا تھا اور میں اپنا "کام" تقریباً مکمل کر ہی چکا تھا کہ ایک صبح محترم جناب پرنسپل صاحب نے مجھے یہ "نئی کہانی" سنائی۔ میں اسی وقت سمجھ گیا کہ یہ کیا معاملہ ہے کیونکہ میں پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کا پہلا ملازم نہیں تھا، جس پر یہ جھوٹا الزام لگ رہا تھا۔ مجھ سے پہلے بھی متعدد بیگناہ پاکستانی بھائیوں پر یہ جھوٹا الزام لگ چکا تھا اور وہ اس جھوٹے الزام میں جیل تک جا چکے تھے۔ دراصل یہ پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے چوروں اور چورنیوں کا آخری "ہتھیار" ہے۔ جب بھی کوئی شخص اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے کرے اور ان کیلئے خطرہ بن جائے، یا پھر انہوں نے کسی شخص سے اپنی ذاتی دشمنی نبھانی ہو، تو یہ اول تو اس شخص کے خلاف ہر قسم کا ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں، تاہم اس کے باوجود بھی جب وہ شخص ان کے ہاتھ نہیں آتا، تو یہ سارے پیشہ ور خاندانی چور مل کر اس شخص پر ایک جھوٹا الزام تھوپ دیتے ہیں کہ اس نے ایک 14، 15 سال کی بچی سے زیادتی کرنے کی کوشش کی ہے یا اسے "I LOVE YOU" بولا ہے، یا اسے ہاتھ لگایا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ حیرت انگیز طور پر وہ بچی بھی یہی بیان دیتی ہے، جو ان چوروں اور چورنیوں کی مرضی ہوتی ہے کیونکہ حرامزدگی اور کمینے پن میں "مہارت" رکھنے کے سبب یہ بدنسل چور اور چورنیاں اس طریقے سے اس چھوٹی بچی کا "برین واش" کرتے ہیں کہ وہ بجائے اپنی عزت کے بارے میں سوچنے کے الٹا ان چوروں اور چورنیوں کو اپنا ہمدرد سمجھنے لگتی ہے اور ویسا ہی جھوٹا بیان دیتی ہے، جیسا اسے دینے کو کہا جاتا ہے۔ 

میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ جب پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے چوروں اور چورنیوں کو محسوس ہونے لگا کہ ہم نے اس پر پیچھے سے وار کر کے اس کو "ایڈمنسٹریٹر" کی سیٹ سے ہٹا تو دیا ہے، تاہم یہ اب بھی ہمارے درمیان رہ کر ہمارے خلاف ثبوت اکٹھے کر رہا ہے، تو مکمل طور پر مجھے راستے سے ہٹانے کیلئے انہوں نے مل کر یہ سارا "کھیل" تیار کیا اور نتیجتاً ایک 14 سال کی چھوٹی بچی میرے سامنے کھڑی مجھ پر جھوٹا الزام لگا رہی تھی اور اس کا باپ غصے میں مشتعل، خونخوار انداز میں مجھے گھورتے ہوئے دھمکیاں دے رہا تھا۔ قارئین کرام، میرا اللہ گواہ ہے اور وہ دیکھ رہا ہے، میری پوری زندگی میں کبھی بھی کسی نے مجھ پر ایسا گھناؤنا اور نیچ الزام نہیں لگایا تھا، جو ان سب گندے اور ملاوٹ زدہ خون کی پیداوار چوروں اور چورنیوں نے اس دن مجھ پر لگا دیا تھا۔ میری عزت نفس مجروح ہونے کے سبب میرا دل ٹوٹ گیا تھا۔ مجھ سے وہ توہین برداشت نہیں ہوئی اور میں اپنا استعفاء لکھ کر پاکستان ایمبیسی، طرابلس چلا گیا۔ ویسے بھی مجھے جو معلومات درکار تھیں، وہ مجھے مل چکی تھیں، لہذا میرا اب مذید وہاں رکنے کا کوئی ارادہ بھی نہیں تھا۔ پرنسپل صاحب کو بہت اچھی طرح پتہ تھا کہ انہوں نے میرے ساتھ کیا کیا ہے، ان کو ڈر تھا کہ شاید میں وہاں جا کر ان کے خلاف کچھ بولوں گا، لہذا وہ بھی میرے ساتھ روانہ ہو گئے، حالانکہ میں صرف اپنا استعفاء دے کر اس گندگی سے نکلنا چاہتا تھا۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ دسمبر 2019ء کا مہینہ تھا، تب تک وہ عیاش، شرابی، زناکار، بیغیرت، ذلیل النسل ڈیفنس اتاشی لیبیا سے جا چکا تھا۔ اس کے "کرتوت" پاکستان کی وزارت خارجہ کے علم میں آ چکے تھے اور اس کو فوراً پاکستان بلا لیا گیا تھا۔ اس کے جانے کے بعد وزارت خارجہ، پاکستان نے لیبیا کیلئے آج دن تک کوئی اور ڈیفنس اتاشی نہیں بھیجا۔

پاکستان ایمبیسی، طرابلس جا کر میں کس سے ملا ؟ میرا استعفاء دیکھ کر انہوں نے کیا جواب دیا ؟ آگے کیا واقعات پیش آئے ؟ انشاء اللہ اس کالم کے اگلے حصے میں قارئین کرام کے گوش گزار کروں گا۔ جانے سے پہلے طرابلس کی اس مشہور زمانہ چورنی کے بارے میں سن لیں، جس نے میرے خلاف "گنجے چور" کا ساتھ دیا تھا۔ دراصل اس نے 2018ء میں میرے 1200 دینار چوری کیئے تھے اور جب میں نے مطالبہ کیا تو اس نے اپنے 80 سالہ بڈھے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر میرے گھر بدمعاش بجھوائے تھے، تاکہ میں اپنے مطالبے سے باز آ جاؤں۔ اس وقت میں نے اپنا مطالبہ چھوڑ دیا تھا کیونکہ مجھے لیبیا آئے محض ایک سال ہوا تھا اور میری کوئی جان پہچان اور پوزیشن نہیں تھی، تاہم بعد ازاں میں نے اس چور کی بچی اور اس کے بڈھے بوائے فرینڈ کا پورے طرابلس کے سامنے وہ حال کیا کہ 2022ء میں اس نے میری وہ رقم خود میرے گھر  بجھوائی۔ اس پیشہ ور خاندانی چورنی اور اس کے بڈھے بوائے فرینڈ پر انشاء اللہ مستقبل قریب میں تفصیلی کالم لکھوں گا اور ان دونوں کا پورا "شجرہ" بمع ان کے "کارنامے" پوری دنیا کے سامنے لاؤں گا، کیونکہ ظلم کے خلاف سر اٹھا کر مستقل مزاجی اور دل جمعی کے ساتھ سچ اور حق کے راستے پر چلنے والوں کو ہی اللہ رب العزت دنیا اور آخرت کی عزت اور کامیابی نصیب فرماتا ہے۔ ظلم کے سامنے جھکنے والوں کے مقدر میں ہمیشہ ذلت، رسوائی، ناکامی اور خاک میں ملنا ہی لکھا ہوتا ہے۔ شاعر مشرق کا مشہور زمانہ شعری مجموعہ "بال جبریل" 1935ء میں شائع ہوا تھا۔ اس کی ایک نظم "پرواز" کا ایک شعر مجھے یاد آ رہا ہے۔

جہاں میں لذت پرواز حق نہیں اس کا۔
وجود جس کا نہیں جذب خاک سے آزاد۔


 

بشکریہ اردو کالمز