349

"پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس میں کردار کی بے حرمتی کا گھناؤنا دھندہ: تفصیلات اور حقائق (پانچواں / آخری حصہ)"

قارئین کرام، اللہ رب العزت کے انصاف کرنے کا نظام بہت واضح اور سخت ہے۔ وہ ارحم الراحمین اپنے ہر بندے کے ایک ایک عمل کا حساب اس جہان میں بھی کرتا ہے اور آخرت میں بھی اپنے عدل اور انصاف کے میزان میں ہر ایک کے عمل اور کردار کو تولے گا۔ اس جہان میں اپنے بندوں کے ساتھ انصاف کرنے کیلئے اس مالک الملک نے "مکافات عمل" کا ایک منظم نظام ترتیب دیا ہوا ہے، جس کے تحت جب بھی کوئی انسان کسی دوسرے انسان کے ساتھ ظلم یا زیادتی کرتا ہے تو اس کا بدلہ پاتا ہے، چاہے جلد پائے یا بدیر پائے۔ میرے سکول چھوڑنے کے بعد محض 6 ماہ کے اندر ہی میرے کریم رب نے اپنی لاٹھی میرے ساتھ ظلم کرنے والوں کے سر پر اس قدر زور سے ماری کہ ان کا سارا زور، بدمعاشی، فرعونیت، غرور، تکبر اور رعونت ایک پل میں خاک ہو گیا۔ سب سے پہلے پرنسپل صاحب کے سر پر اللہ کی لاٹھی پڑی۔ مجھے سکول چھوڑے محض دو مہینے ہی گزرے تھے کہ پرنسپل صاحب اپنے بیٹے کو فیڈرل بورڈ کے امتحان میں نقل فراہم کرنے کے الزام میں نوکری سے فارغ کر دیئے گئے۔ ان پر پاکستان ایمبیسی، طرابلس میں باقائدہ انکوائری کیس چلا اور انہیں گھر میں بٹھا دیا گیا۔ تقریباً دو مہینے کی انکوائری کے بعد ان پر الزام ثابت ہو گیا۔ اصولاً ان کو سکول سے نکال دینا چاہیئے تھا، تاہم جیسا کہ میں آپ کو اس کالم کے پچھلے حصے میں عرض کر چکا ہوں، میجر جنرل (ریٹائرڈ) ساجد اقبال صاحب نے بطور سفیر بہت سی غلطیاں کی تھیں، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ انہوں نے پرنسپل صاحب کو اپنی سیٹ پر دوبارہ تو بحال نہیں کیا، تاہم ان کو بطور استاد سکول میں کام کرنے کی اجازت دے دی۔ میں نے اس فیصلے کے خلاف سفیر صاحب کے ساتھ باقائدہ ایک طویل میٹنگ کی تھی۔ میں نے انہیں کہا تھا کہ یہ شخص بطور استاد بھی سکول میں رہنے کے قابل نہیں ہے، تاہم انہوں نے یہ عذر پیش کیا کہ "اس کو بطور استاد رکھنا دراصل سکول کی ضرورت ہے"، جس سے میں نے اتفاق نہیں کیا۔

بہرکیف، انسان کی سوچ بہت محدود ہے اور رب العالمین سب سے اچھا منصوبہ ساز ہے۔ پرنسپل صاحب کے بطور استاد سکول میں دوبارہ آنے کے پیچھے دراصل میرے رب کی ایک "خاص حکمت" کار فرما تھی۔ آپ میرے رب کے انصاف کرنے کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں۔ جس طرح میرا شعبہ "ایڈمنسٹریشن" تھا اور پرنسپل صاحب نے مجھے ناجائز طور پر وہاں سے ہٹا کر ایک معمولی استاد بننے پر مجبور کر دیا تھا، بلکل اسی طرح میرے رب نے اس شخص کو پرنسپل کی سیٹ سے ہٹا کر ایک معمولی استاد بنا دیا تھا۔ اول تو میرا رب اس شخص کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ بڑی سیٹ سے نیچے گر کر چھوٹے اور معمولی درجے پر آنے سے انسان کو کس قدر بے عزتی اور تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ دوم، اس شخص نے سکول کے بہت سے معاملات میں غبن اور فراڈ کیا ہوا تھا، کمیشن کھایا تھا، رشوت میں گاڑی لی تھی، پیپرز بیچے تھے، ناجائز طریقے سے بھاری رقوم لیکر فیل شدہ بچوں کو  اگلی کلاس میں پروموٹ کیا تھا، اور نہ جانے کیا کیا "کارنامے" کیئے تھے، پاکستان ایمبیسی، طرابلس نے ان تمام معاملات کی جانچ پڑتال شروع کر دی۔ اسے روزانہ فون آتا اور اپنی صفائی دینے کیلئے پیش ہونے کا کہا جاتا، تاہم وہ چھپ جاتا تھا۔ اسی دوران لیبیا کیلئے پاکستان کے نئے سفیر میجر جنرل (ریٹائرڈ) راشد جاوید صاحب نے پاکستان ایمبیسی، طرابلس میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالا۔ ان سے اللہ رب العزت نے بہت بڑے بڑے کام لیئے۔ ان کے اقدامات کے بارے میں انشاء اللہ پھر کبھی تفصیل سے پورا کالم لکھوں گا۔ بس آپ اتنا جان لیں کہ پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے تمام چوروں اور چورنیوں کیلئے وہ اللہ رب العزت کا قہر ثابت ہوئے۔ آپ ان کی انصاف پسندانہ اقدامات اور قائدانہ صلاحیتوں کا اندازہ اس بات سے لگا لیں ان کے آتے ہی سابقہ پرنسپل صاحب کو اپنے اوپر گھیرا مذید تنگ ہوتا محسوس ہونے لگا اور وہ اپنی ٹیچنگ والی سیٹ سے استعفاء دے کر سکول سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بھاگ کھڑے ہوئے۔ اپنے خلاف کھلے معاملات سے اس طرح بھاگنے کی پاداش میں پاکستان ایمبیسی، طرابلس نے ان کا "گریچویٹی فنڈ" آج دن تک ضبط کیا ہوا ہے، جو انہیں کبھی بھی نہیں مل سکے گا۔ 

میرے عظیم الشان رب نے اپنی لاٹھی کا دوسرا وار "گنجے چور" کے سر پر کیا اور اس مقصد کیلئے میجر جنرل (ریٹائرڈ) راشد جاوید صاحب کو ذریعہ بنایا۔ وہ فروری 2021ء میں بطور سفیر تعینات ہوئے تو اس کے تقریباً ایک مہینہ بعد میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔ وہ ملاقات اللہ رب العزت کے فضل سے بہت کامیاب رہی۔ انہوں نے مجھ سے بہت کچھ پوچھا اور میں نے بہت کچھ بتایا۔ میٹنگ کے اختتام پر انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ میرے فراہم کردہ ثبوتوں اور معلومات کی بناء پر تمام چوروں کے خلاف ہر ممکن کاروائی کریں گے اور انہوں نے واقعی اپنا وعدہ وفا کیا۔ اول تو انہوں نے "گنجے چور" کی گردن کو اپنے "شکنجے" میں لیا اور اس کو "ایچ-آر منیجر" کی سیٹ سے فارغ کیا، جو غیر قانونی طور پر اس کیلئے شرابی ڈیفنس اتاشی بریگیڈیئر شہزاد بھٹی نے بنائی تھی۔ آخر وہ ایسا کیوں نہ کرتا ؟ "احسانات" کا بدلہ تو چکانا ہی پڑتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں میجر جنرل (ریٹائرڈ) راشد جاوید صاحب نے "گنجے چور" کو اس کے داماد سمیت سکول سے لات مار کر باہر پھینکا اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اسے "بلیک لسٹ" کر دیا۔ انشاء اللہ اب وہ منحوس النسل کتا کبھی بھی پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس میں ملازمت نہیں کر پائے گا۔ قارئین کرام، آپ اللہ پر یقین کریں، میں نے اس دن لاتعداد لوگوں کے چہروں پر ایک عجیب خوشی دیکھی تھی اور آج بھی جب مجھے کوئی ملتا ہے تو میرا شکریہ ادا کرتا ہے، حالانکہ شکریہ ہم سب کو میجر جنرل (ریٹائرڈ) راشد جاوید صاحب کا ادا کرنا چاہیئے، جن کی دلیرانہ اور منصفانہ اقدامات کی بدولت یہ سب ممکن ہوا۔ 

علاوہ ازیں، سکول میں موجود دیگر چور، چورنیاں اور ان کے "دلال" یا "سہولت کار" بھی "مکافات عمل" کا شکار ہوئے۔ میجر جنرل (ریٹائرڈ) راشد جاوید صاحب نے کمال کر دیا تھا۔ انہوں نے تمام کتوں اور کتیوں کے گلے میں پٹہ ڈال کر زور سے کھینچا اور ان کے بہت سے غلط اور ناجائز کام بند کروائے۔ سخت ترین قوانین بنائے۔ تمام "ایڈمنسٹریشن" اپنے ہاتھ میں لی۔ سکول کے تمام چوروں اور چورنیوں نے جو گروپس بنا رکھے تھے، ان کو مکمل طور پر نہ سہی، کافی حد تک  کنٹرول کیا۔ گیٹ پر کھڑے چوکیدار تک کو گھسیٹا اور کسی کو بھی نہ بخشا۔ تعلیمی معیار پر خوب توجہ دی۔ پاکستان سے نیا پرنسپل بلوایا۔ سکول میں تزئین و آرائش کا کام کروایا۔ ضروری لوازمات مہیا کیئے اور تمام معاملات کو جتنا ہو سکتا تھا، درست کیا۔ جب میں ان پر کالم لکھوں گا تو انشاء اللہ ان کے تمام اقدامات کا تفصیلی ذکر کروں گا۔ ان کی بہت سی خوبیوں میں ایک یہ بھی تھی کہ وہ بات کو سن کر گرایا نہیں کرتے تھے۔ کم از کم اپنے بارے میں تو میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میں نے انہیں جس معاملے کے متعلق بھی آگاہ کیا، انہوں نے اس معاملے کی چھان بین ضرور کروائی اور میری پہنچائی گئی معلومات سچ ثابت ہونے پر ہر ممکن سخت ترین ایکشن بھی لیا۔ بس صرف ایک کام جو میں نے انہیں کرنے کو کہا تھا، وہ ان سے نہ ہو پایا۔

10 جنوری 2022ء کو میں نے میجر جنرل (ریٹائرڈ) راشد جاوید صاحب کو ایک خط لکھا، جس میں ان سے استدعا کی کہ پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے آئین میں "کردار کی بے حرمتی" کے حوالے سے قانون کو شامل کیا جائے۔ وہ پورا قانون اور اس سے متعلقہ بیان حلفی برائے ملازمین میں نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر اس خط کے ہمراہ انہیں بھجوائے۔ میرا موقف بڑا صاف تھا، جو میں اس کالم کے تیسرے حصے میں تفصیلاً عرض کر چکا ہوں، تاہم انہوں نے میری استدعا کا مجھے کوئی جواب نہیں دیا، جس پر میں نے یاد دہانی کیلئے انہیں 12 دسمبر 2022ء کو ایک اور خط لکھا۔ اس کا بھی انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں سمجھتا ہوں اور میرا اس بات پر کامل یقین ہے کہ پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے چوروں اور چورنیوں، خصوصاً جعلی ڈگریوں والی 50 اور 60 سالہ عمر رسیدہ، بدصورت، موٹی، کالی، بدبودار، پھوہڑ حلیے اور بے ڈول جسامت کی 8 یا 10 چورنیوں نے مختلف "طریقے" آزما کر میجر جنرل (ریٹائرڈ) راشد جاوید صاحب کو "کردار کی بے حرمتی" کے حوالے سے قانون کو پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے آئین میں شامل نہ کرنے پر مجبور کیا ہو گا، ورنہ بذات خود تو وہ ایسے انسان ہرگز نہیں تھے۔ بہرکیف، وجوہات جو بھی رہی ہوں، میرا ان سے گلہ ہمیشہ رہے گا کیونکہ وہ پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے چیئرمین تھے اور وہ چاہتے تو حق کی بالادستی کیلئے سب کی مرضی کے خلاف بھی جا سکتے تھے۔ مجھے بہت خوشی ہوتی اگر یہ نیک کام ان کے ہاتھوں ہو جاتا کیونکہ وہ ایک نیک نیت، صاف گو، قابل اور اچھے انسان تھے، تاہم اللہ رب العزت کو شاید ان کے ہاتھوں یہ کام کروانا منظور نہیں تھا۔ فروری 2023ء میں وہ بطور پاکستانی سفیر اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد لیبیا کو خیر باد کہہ گئے۔

قارئین کرام، آپ سوچیں کہ کیا ایک تعلیمی ادارے میں یہ سب کچھ ہوتا ہے ؟ کیا آپ اس کو تعلیمی ادارہ کہیں گے، جہاں اپنی چوری، حرام خوری، عیاشی اور رنگ رلیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ایک بیگناہ شخص پر 13 یا 14 سالہ چھوٹی بچی کو ڈال کر اس کو بدنام کیا جاتا ہو ؟ آپ سوچیں کہ یہ کس قدر گرے ہوئے، گھٹیا، بدذات النسل اور کمینے لوگ ہیں، جو ایک تعلیمی ادارے میں رہ کر تعلیم کی عظمت کو یوں پاؤں تلے روند رہے ہیں۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی میں اپنے رب کے فضل و کرم سے مایوس نہیں ہوا اور آج دن تک اپنی کوششیں کر رہا ہوں۔ پاکستان ایمبیسی، طرابلس میں آنے والے ہر نئے افسر سے ملتا ہوں اور ساری روداد بمع حقائق اور ثبوتوں کے ان کے سامنے رکھ کر ان سے یہی درخواست کرتا ہوں کہ بیگناہ لوگوں کی عزت کو ان بازاری چوروں اور چورنیوں سے محفوظ کر لیں۔ انسان کے ذمے کوشش کرنا ہے، باقی نتائج اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ یہ حق اور باطل کی لڑائی ہے، جس میں چاہے جتنی بھی مشکلات آئیں، جیت ہمیشہ حق ہی کی ہوتی ہے۔ یہ میرے اللہ کا فیصلہ اور قانون ہے، جلد ہو یا بدیر، وہ باطل کا منہ کالا کر کے حق کو فتح نصیب فرماتا ہے۔ مجھے اس عظیم الشان رب سے امید ہے، وہ میری محنت اور نیک نیتی کو دیکھ رہا ہے، انشاء اللہ وہ ایک دن ضرور حق کو فتح سے ہمکنار کرے گا۔ میجر جنرل (ریٹائرڈ) راشد جاوید صاحب کے ہاتھوں نہ سہی، وہ عظیم الشان رب اپنے کسی اور نیک بندے سے یہ نیک کام لے لے گا اور وہ وقت انشاء اللہ اب زیادہ دور نہیں ہے۔



 

بشکریہ اردو کالمز