پاکستان ایمبیسی، طرابلس میں اس وقت "ہیڈ آف چانسری" یعنی "HOC" کی پوسٹ پر محمد اسلام صاحب کام کر رہے تھے اور وہ پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے "ایجوکیشن سیکریٹری" بھی تھے۔ بہت اچھے اور شریف انسان تھے۔ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنا جانتے تھے۔ میں اپنا استعفاء لیکر سیدھا ان کے دفتر گیا۔ پرنسپل صاحب میرے سامنے والی کرسی پر براجمان ہو گئے۔ میں نے اپنا استعفاء محمد اسلام صاحب کی میز پر رکھا اور انہیں سارے "معاملے" سے آگاہ کرتے ہوئے کہا، "سر، میں اب مذید یہاں نہیں رک سکتا، نوکری جانے تک تو ٹھیک تھا، تاہم اب میری عزت کو خطرہ ہے، لہذا میں اپنی ملازمت سے ابھی اور اسی وقت استعفاء دے رہا ہوں۔" مجھے آج بھی یاد ہے، میری بات سن کر محمد اسلام صاحب کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا تھا اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے پرنسپل صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "ان سب کا تو یہ پرانا کام ہے، ہر بات کا انہوں نے مذاق بنا کر رکھ دیا ہے، اپنی حرام خوری چھپانے کیلئے یہ اچھے، بھلے عزت دار آدمی کو بدنام کر دیتے ہیں۔ابھی میں اس کو کہوں کہ دو لائینیں انگریزی میں لکھو تو یہ نہیں لکھ سکتا۔ اس کو اپنا کام تک ٹھیک سے کرنا نہیں آتا۔ میرے بس میں ہوتا تو اس کو ابھی اسی وقت پرنسپل کی سیٹ سے ہٹا کر آپ کو پرنسپل لگا دیتا۔" پھر مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولے، "آپ بلکل بھی استعفاء نہیں دیں گے، میں آپ کا استعفاء قبول نہیں کرتا، آپ یہیں رہیں گے۔" دوبارہ پرنسپل صاحب کی طرف متوجہ ہوئے اور حکم دیا، "فوراً "سکول منیجمنٹ کمیٹی" کی میٹنگ بلواؤ، اس الزام لگانے والی بچی سمیت سب کو بٹھاؤ اور فیصلہ کرو کہ اس بیگناہ لڑکے پر تم نے یہ گھٹیا اور جھوٹا الزام کیوں لگایا ہے۔ مجھے اس معاملے کی پوری تفصیلی رپورٹ چاہیئے۔" قارئین کرام، پرنسپل صاحب میرا یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے، اگر میں نے اس میں کوئی ایک بھی بات جھوٹ کہی ہے، تو وہ کھلے عام پورے طرابلس کے سامنے آ کر تردید کر سکتے ہیں۔ ویسے آپ کو بتا دوں کہ یہ چیلنج میں پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے تمام چوروں اور چورنیوں کو لاتعداد مرتبہ دے چکا ہوں، تاہم آج تین سال سے اوپر ہونے کے باوجود کوئی ایک چور یا چورنی بھی میرے کسی دعوے یا بات کی تردید نہیں کر پایا ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ مجھ پر 14 سالہ چھوٹی بچی کا الزام لگنے سے پہلے میں اپنی ملازمت سے ناجائز طور پر برطرفی کا کیس اس وقت کے لیبیا میں پاکستانی سفیر میجر جنرل (ریٹائرڈ) ساجد اقبال صاحب کے پاس لے کر گیا تھا، تاہم انہوں نے تمام ثبوت اور حقائق جاننے کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا تھا۔ میں نے ان کے سامنے کھل کر تفصیل سے اس بدذات اور عیاش ڈیفنس اتاشی بریگیڈیئر شہزاد بھٹی اور پرنسپل صاحب کے تمام "کارنامے" بیان کیئے اور انہیں اپنے "انٹری ٹیسٹ" کی کاپیاں بھی فراہم کیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ جن دو "قابل نمونوں"نے میرے ساتھ بیٹھ کر "انٹری ٹیسٹ" دیا تھا، وہ دونوں فیل ہیں اور ان کے "انٹری ٹیسٹ" پرنسپل صاحب نے چھپا دیئے ہیں۔ میں نے سفیر صاحب کو چیلنج دیا کہ اگر آپ کو میری باتوں پر شک ہے، تو ابھی اور اسی وقت پرنسپل صاحب کے چہیتے ان دونوں "قابل نمونوں" کو بلائیں، میرے ساتھ بٹھائیں اور اپنے سامنے ایک اور "انٹری ٹیسٹ" لے لیں، ابھی اسی وقت فیصلہ ہو جائے گا کہ میں سچ بول رہا ہوں یا پھر میں بھی آپ کے سکول کے "میراثیوں" کی طرح محض "الف لیلیٰ کی داستان" سنا رہا ہوں۔ تاہم، میرے ہر چیلنج سے سفیر صاحب بھاگ گئے کیونکہ وہ اس بیغیرت ڈیفنس اتاشی بریگیڈیئر شہزاد بھٹی پر اندھا اعتماد کرتے تھے اور اسی خامی کی بدولت انہوں نے بہت سے غلط فیصلے کیئے تھے، جس کا انہیں ادراک تک نہیں ہو سکا تھا۔ شاید پاکستان کی وزارت خارجہ نے انہیں لیبیا میں سو کر وقت گزارنے کیلئے بھیجا تھا، بلکل اسی طرح جیسے اس بدذات النسل، شرابی ڈیفنس اتاشی بریگیڈیئر شہزاد بھٹی کو عیاشی، زناکاری اور حرامخوری کیلئے بھیجا تھا۔
اب "سکول منیجمنٹ کمیٹی" کی میٹنگ کا احوال سن لیں۔ محمد اسلام صاحب کی ہدایت پر میں نے ایک خط پرنسپل صاحب کے نام لکھا، جس میں مطالبہ کیا کہ میرے اوپر 14 سال کی چھوٹی بچی کو "I LOVE YOU" بولنے کا جو جھوٹا الزام لگا ہے، اس حوالے سے "سکول منیجمنٹ کمیٹی" کی میٹنگ بلوائی جائے اور مجھ سمیت تمام فریقین کو اس میٹنگ میں بٹھا کر ثابت کیا جائے کہ میں نے کب اور کس کے سامنے یہ حرکت کی ہے۔ میٹنگ والے دن پرنسپل صاحب کے علاوہ "سکول منیجمنٹ کمیٹی" کے چار معزز ممبران موجود تھے، جن میں دو پاکستانی جبکہ دو لیبین تھے۔ میں نے دیکھا کہ پرنسپل صاحب نے نہ تو اس چھوٹی بچی کو بلایا تھا، نہ اس کے والد کو، اس کے بلکل برعکس پرنسپل صاحب نے اپنی ایک "وفادار" سیکشن ہیڈ کو بٹھایا ہوا تھا۔ محترمہ کا تعلق بھی لیبیا سے تھا۔ میٹنگ شروع ہوئی تو میں نے اپنا مدعا بیان کیا جو کے تمام معزز ممبران نے غور سے سنا اور سن کر پرنسپل صاحب اور ان کی "وفادار" سیکشن ہیڈ کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے جواب مانگا۔ اب آگے کی کہانی بڑی دلچسپ اور مضحکہ خیز ہے۔ آپ کو سن کر ہنسی آئے گی۔ مجھ پر لگائے گئے جھوٹے الزام کا جواب دینا تو دور، دونوں نے اس کا ذکر تک نہیں کیا اور میری طرف اشارہ کر کے کہنے لگے کہ "اس کو بطور ٹیچر رکھا گیا ہے لیکن اس نے ٹھیک سے نہیں پڑھایا اور اس کے خلاف ہمارے پاس شکایات آئی ہیں۔" یہ سن کر میری ہنسی نکل گئی۔ قارئین کرام خود سمجھ سکتے ہیں، یہ تو وہ بات ہوئی کہ آپ کسی سے پوچھیں کہ آپ کا نام کیا ہے اور جواب میں وہ کہے کہ میں نے آج سفید قمیض پہن رکھی ہے۔ "سکول منیجمنٹ کمیٹی" کے ممبران بھی حیران تھے۔ انہوں نے پرنسپل صاحب اور ان کی "وفادار" سیکشن ہیڈ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا، "ہم یہاں میٹنگ کس حوالے سے کرنے آئے ہیں؟ اس لڑکے پر ایک چھوٹی بچی نے گھٹیا الزام لگایا ہے، ہم اس الزام کی بات کرنے آئے ہیں جبکہ آپ ہمیں اس لڑکے کی ٹیچنگ کے بارے میں بتا رہے ہیں، یہ سب کیا بکواس ہے ؟" جواب میں دونوں بالکل خاموش تھے۔ جواب تھا ہی نہیں تو کیا دیتے ؟ پرنسپل صاحب تو مکر ہی گئے اور سارا ملبہ اپنی "وفادار" سیکشن ہیڈ پر ڈالتے ہوئے کہا کہ "ان کو شکایات ملی ہیں، مجھے نہیں"۔
قارئین کرام، اللہ پاک عزتیں دینے والا قادر بادشاہ ہے۔ اس عظیم الشان رب نے مجھے عزت دینی تھی۔ پرنسپل صاحب اور ان کی "وفادار" سیکشن ہیڈ چونکہ سفید جھوٹ بول رہے تھے اور سیدھا جواب دینے کی بجائے کبھی ایک پہاڑ اور کبھی دوسرے پہاڑ پر پتھر مار رہے تھے، لہذا "سکول منیجمنٹ کمیٹی" کے ایک پاکستانی ممبر کو چھوڑ کر باقی کے تین ممبران نے پرنسپل صاحب کی "وفادار" سیکشن ہیڈ کو گردن سے دبوچتے ہوئے کہا، "آپ اس لڑکے کی تعلیمی قابلیت پر الزام لگا رہی ہیں ؟ آپ کو یہ بات کرتے ہوئے پہلے 10 مرتبہ سوچنا چاہیئے کہ آپ کس پر الزام لگا رہی ہیں۔ ہم اس لڑکے کی تعلیمی قابلیت سے بہت اچھی طرح واقف ہیں۔ کم از کم آپ تو اس پر بلکل بھی انگلی نہیں اٹھا سکتی ہیں، آپ نے تو خود پڑھا کچھ اور ہے اور پڑھاتی کچھ اور ہیں۔" مجھے ابھی بھی یاد ہے، یہ سن کر پرنسپل صاحب کی "وفادار" سیکشن ہیڈ کا منہ مار کھائے ہوئے کتے کے جیسا ہو گیا تھا اور پرنسپل صاحب چوروں کی طرح آنکھیں چرا رہے تھے۔ معاملات ہاتھ سے نکلتے دیکھ کر پرنسپل صاحب کی "وفادار" سیکشن ہیڈ بھاگنے لگ گئی اور کہنے لگی، "مجھے دیر ہو رہی ہے"، تاہم تینوں معزز ممبران نے اسے تین مرتبہ واپس اپنی جگہ پر بٹھایا اور مسلسل اس سے سوالات پوچھتے رہے، جن کا اس نے ایک بھی جواب نہیں دیا۔ چوتھی مرتبہ وہ بھاگنے میں کامیاب ہو گئی۔ مجھے سب سے زیادہ حیرت اس ایک پاکستانی ممبر وسیم شریف صاحب پر ہو رہی تھی، جسے بہت اچھی طرح معلوم تھا کہ حق پر کون ہے لیکن بجائے حق کا ساتھ دینے کے وہ الٹا پرنسپل صاحب اور ان کی "وفادار" سیکشن ہیڈ کا ساتھی بن گیا، آنکھیں سفید کر لیں اور پوری میٹنگ میں کھل کر میری مخالفت کی۔ مجھے آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ محض ایک رات میں وسیم شریف صاحب نے بلاوجہ میرے ساتھ آنکھیں کیوں سفید کر لی تھیں ؟ جہاں تک میرا اپنا مشاہدہ ہے، سکول میں ہیجڑے کی شکل والی ایک اور سیکشن ہیڈ تھی، جس کے ساتھ روزانہ پرنسپل صاحب اپنے آفس کا دروازہ اندر سے لاک کر کے تین، تین گھنٹے کی طویل "میٹنگ" کیا کرتے تھے۔ اس ہیجڑے کی شکل والی بازاری عورت کے ساتھ وسیم شریف صاحب کے گھریلو تعلقات تھے۔ پرنسپل صاحب کے کہنے پر اس بازاری عورت نے وسیم شریف صاحب کو میرے خلاف "رام" کر لیا ہو گیا۔ اس کے علاوہ اور کوئی بھی وجہ مجھے نظر نہیں آتی۔ بہرکیف، ایک پاکستانی بھائی ہونے کے ناطے مجھے وسیم شریف صاحب سے ہمیشہ گلہ رہے گا۔
میٹنگ کا اختتام ہو چکا تھا۔ وسیم شریف صاحب کو چھوڑ کر "سکول منیجمنٹ کمیٹی" کے باقی تین ممبران نے مجھے ہر طرح سے قائل کرنے کی کوشش کی کہ میں اپنا استعفاء واپس لے لوں، تاہم جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، میرا دل ٹوٹ چکا تھا اور آسمان کی طرف دیکھ کر میں نے اللہ رب العزت سے انصاف کرنے کی التجاء کرتے ہوئے پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کو خیرباد کہہ دیا۔ میرا رب سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اس رب پر میرے یقین کے عین مطابق میرے سکول چھوڑنے کے محض دو مہینے بعد ہی "مکافات عمل" کا ایک عجیب سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کی کہانی انشاء اللہ اس کالم کے اگلے حصے میں بیان کروں گا اور کوشش کروں گا کہ اگلا حصہ آخری ہو۔ جاتے جاتے حبیب جالب کے چند اشعار یاد آگئے۔
دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے۔
دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے۔
خاموشی پر ہیں لوگ زیر عتاب۔
اور ہم نے تو بات بھی کی ہے۔
مطمئن ہے ضمیر تو اپنا۔
بات ساری ضمیر ہی کی ہے۔
