ہر سال ماہ رمضان دینی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے. جی ہاں منایا جاتا ہے خوشی' جوش' گلیمرس کے ساتھ سوائے خشوع و خضوع کے ہر طریقے سے منایا جاتا ہے. مساجد میں نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے فلاحی کاموں میں بھی رفتار تیز ہوتی ہے لیکن سیلفیوں اور فوٹوگرافی کے جوہر بھی قابلِ دید ہوتے ہیں. بازاروں میں رش بڑھ جاتا ہے چیزوں کے داموں کو پر لگ جاتے ہیں جو چیز رمضان سے پہلے دس روپے کی ہوتی ہے رمضان میں تیس چالیس تک ضرور پہنچتی ہے اور اس کے پیچھے امریکہ کی کوئی سازش نہیں ہوتی. ہمارے مسلمان ذخیرہ اندوز پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں کیونکہ رمضان سال میں صرف ایک دفعہ آتا ہے. ہماری مجبور غریب عوام مہنگائی کا رونا روتے ہوئے ساری ساری رات بازار میں خریداری کرتے ہوئے مقدس راتیں تلاش کرتی ہے لیکن آج کل کورونا کی وجہ لُوڈو اور پب جی میں مصروف ہے. ہمارے فنکار سارا سال اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اس قدر محنتی ہیں کہ رمضان میں فل ہوم ورک کر کے آتے ہیں اور ہمیں دین سیکھاتے ہیں اور ان سے بھی زیادہ معصوم ہم ہیں جو ٹی وی کےآگے بیٹھ کے ان کی پرایمان باتوں سے مستفید ہوتے ہیں اور اپنی آنکھوں میں اُمڈ آنے والے آنسو صاف کر کے ہوسٹ کے کپڑوں کا برانڈ نوٹ کرتے ہیں.ہوسٹ کی دینی معلومات پر واہ واہ کرنا بھی ہم پر واجب ہوتا ہے. ہم سادہ لوح معصوم لوگ رمضان کی پر نور راتوں میں قرآن کی تلاوت یا نوافل کی ادائیگی کی بجائے ارطغرل غازی کے پر جوش اور ولولہ انگیز جہادی جذبات پرنم آنکھوں کے ساتھ سحری تک دیکھتے ہیں. ہمارا تو کوئی قصور نہیں ہے یہ شیطان ہی ہمیں نیکیوں اور ریا کاری سے پاک اعمال کے قریب نہیں جانے دیتا... لیکن شیطان تو قید میں ہے پھر کون ہے جو ہمیں رمضان اور عام دنوں میں فرق محسوس نہیں ہونے دیتا؟ وہ ہمارا نفس ہے یقین کریں شیطان بے چارے کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے. من حیث القوم یہ ہمارے لیے فکر کا مقام ہے.
1031