877

ختم نبوت پہ پہرہ 

آج سحری کے وقت دور کسی مسجد سے آواز آرہی تھی کہ 
بتلا دو گستاخِ نبی کو کہ غیرت مسلم زندہ ہے 
یہ سن کہ میں یہ سوچنے پہ مجبور ہوئی کہ کیا واقعی غیرت مسلم زندہ ہے؟ آج کے مسلمان اس دور میں جی رہے ہیں جب اسلام کی کوئی باقاعدہ سلطنت موجود نہیں ہے جیسی کہ اسلام کے قیام سے لے کر 1924 تک رہی چاہے جیسی بھی لولی لنگڑی تھی لیکن ایک پر وقار قیادت موجود رہی ہے جو کہ آج مشرق سے لے کر مغرب تک کہیں نظر نہیں آتی. آج تمام مسلم ممالک کا حکمران طبقہ یہود و نصاریٰ ہی نہیں بدھشٹ اور مجوسیوں کی بھی غلامی کر رہا ہے.   عام مسلمان بھی غیروں کی نقالی میں مثالیں قائم کر رہا ہے. کشمیر سے لے کر سوریا (شام) تک مسلمان روز قتل ہو رہے ہیں اور تمام مسلم حکمران خاموش ہیں کیا ہماری غیرت زندہ ہے؟ ہم تو ان اسلاف کے وارث ہیں جو مظلوم کی ایک صدا پہ اس کی مدد کو پہنچ جاتے تھے. جہاں جسمانی قید نہیں وہاں ذہنی غلامی ہے. کیا پھر بھی ہماری غیرت زندہ ہے؟ 

 ہر سال' چھ ماہ بعد ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے کیونکہ یہ سوال ان لوگوں کے ذہنوں میں بھی کھلبلا رہا ہے جو اس قانون کو بار بار چھیڑنے کی کوشش کرتے ہیں. وہ شاید یہ نہیں جانتے کہ مسلمان چاہے کتنا ہی کمزور کیوں نا ہو جائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ان کی رگ رگ میں ہے. جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے راتوں کو جاگ جاگ کے اپنی امت کی بخشش کی دعائیں کی ہوں کیا اللہ اس امت کو بے وفائی کرنے دیں گے؟  
دشمانانِ اسلام ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کو ہلا کر دراصل مسلمانوں کا درعمل ملاحظہ کرتے ہیں اور جب مسلمانوں کا بھرپور درعمل سامنے آتا ہے تو اپنے بلوں میں گھس جاتے ہیں.  حال ہی میں قادیانیت کو بطور اقلیت منظور کیا جانے لگا لیکن جب زبردست مزاحمت سامنے آئی تو فوراً یہ بل واپس لے لیا گیا. جی الحمداللہ غیرت مسلم زندہ ہے لیکن بیمار ہے اس کو تندرست اور طاقتور کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ شاید یہ آئندہ کے حملوں کو سہ نہ پائے.اب ہمارا فرض ہے کہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرہ دیں اور فتنہ قادیانیت کو جڑ سے اکھاڑ دیں. ہر پلیٹ فارم پر اس کے خلاف آواز اٹھائیں اپنی ذمہ داری پوری کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ہماری ضرورت نہیں ہے وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس اور ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر سکتے ہیں لیکن ہمیں اپنے نام ان فہرستوں میں شامل کرنے ہیں جس میں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنے سر دھڑ کی بازی لگانے والوں کے نام موجود ہیں. 

میں جانتی ہوں کہ میرا قلم ابھی چلنا سیکھنے کی ابتدائی مرحلے پہ ہے اور بعض اوقات لڑکھڑا کر گر بھی جاتا ہے. لیکن میرا قلم بھی اس چڑیا کی صورت ہے جو اپنی چونچ میں پانی لاتی ہے اور آتشِ نمرود پر پھنیکتی ہے تاکہ اس کا نام ان میں شامل ہو جنھوں نے آگ بجھانے میں حصہ لیا. اسی طرح روزِ قیامت میرا قلم بھی ناموسِ رسالت کی حفاظت میں اٹھنے والے قلموں کی صف میں ہوگا چاہے آخری درجہ ہی پہ کیوں نا ہو... ان شاءاللہ!

بشکریہ اردو کالمز