925

اجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ  اجتناب کرو جھوٹی بات سے (سورۃ الحج-30)

 

"میرے ابو محرم کے مہینے میں گھر سے گئے تھے ہم اس دن سے محرم گزار رہےہیں ہم نے 19 برسوں میں محرم کے علاوہ کوئی مہینہ نہیں دیکھا"

یہ الفاظ اس شخص کی بیٹی کے ہیں جو 19 سال اپنے نام کے ساتھ قاتل کا لفظ برداشت کرتا رہا جبکہ اس نے کوئی قتل نہیں کیا تھا.21 اپریل 2004 کو جھوٹے گواہوں اور جھوٹے شواہد کے نتیجے میں سیشن جج نے اس کے والد کو تین لاکھ جرمانہ اور سزائے موت سنائی. یہ کہانی ہے مظہر حسین کی جس کی ایک شخص کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی اور کچھ عرصہ بعد اُس کے چچا کا قتل ہوتا ہے اور مظہر حسین کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا جاتا ہے اور 1998 میں اس کو جیل بھیجا گیا پھر اس کا ٹرائل شروع ہوا اس کے مقدمے کی پیروی اس کے بوڑھے باپ نے کی' وہ اپنے لاغر وجود پہ ہماری جیل اور کچہری کی ضربیں زیادہ عرصہ برداشت نہ کرسکا اور دار آخرت کی طرف کوچ کرگیا. پھر یہ ذمہ داری تایا سے چچا اور پھر بھائی نے اٹھائی. مظہر حسین ایک خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتا تھا لیکن اس کے جیل جانے کے بعد سب کچھ بک گیا اور اس کے بیوی بچے صحیح معنوں میں سڑک پہ آگئے خاندان کے بزرگوں کے یک بعد دیگرئے انتقال کر جانے سے ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا پھر مظہر حسین کے بڑے بھائی نے اس کیس کی پیروی کی اور اس کے بیوی بچوں کے اخراجات اٹھانا شروع کیے. 2010 میں اس کے بھائی نے اس کی پھانسی کی سزا پر رحم کی اپیل کی اور یہ فائل باقی دیگر فائلوں کے ساتھ دب گئی. اکتوبر 2016 میں اس فائل کی قسمت چمکتی ہے اور جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس کا فیصلہ ایک ہی سماعت میں سنا دیا کہ مظہر حسین بے گناہ ہے اور اسے با عزت بری کیا جائے جبکہ مظہر حسین کی زندگی کا دیا مارچ 2014 میں بھج چکا تھا. جیل حکام نے مظہر حسین کا جسد خاکی اس کے ورثاء کو دیا اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا لیکن اس کی فائل میں نہیں لگایا گیا اور یہ کیس ان کی وفات کے بعد بھی چلتا رہا. شاید اس لیے کہ اللہ تعالٰی نے دنیا کے سامنے اس بےگناہ انسان کی سچائی لانی تھی یا ہمیں یہ باور کروانا تھا کہ ہم ایک جھوٹی قوم ہیں جی ہاں مدعی کا جھوٹا مقدمہ کروانا پولیس کا جھوٹے شواہد پیش کرنا اور گواہوں کا جھوٹی گواہی اور جج کے جھوٹے فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم ایک جھوٹی قوم ہیں.
اسلام ایک دستور حیات ہے یہ جملہ ہم سب نے لکھا ہوگا پڑھا ہوگا یہ نہیں تو سنا تو ضرور ہوگا لیکن اس جملے کی گہرائی پہ کبھی غور نہیں کیا ہوگا. اس سے مراد یہ ہے کہ اسلام ایک لائحہ عمل ہے جس میں چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی راہنمائی ملتی ہے.  جھوٹ باظاہر ایک چھوٹا سا فعل لگتا ہے مگر اس کی تباہی مظہرحسین کے خاندان کے ساتھ ہوئے ظلم سے باخوبی لگایا جاسکتا ہے. اللہ تعالیٰ نے انسان پہ دو طرح کے حقوق مقرر کیے ہیں. 
1- حقوق اللہ 
2- حقوق العباد 
حقوق اللہ میں تمام عبادات آتی ہیں ذات میں توحید' صفات میں توحید اور صفات کے تقاضوں میں توحید. مظاہرِ کائنات میں غوروفکر کیے بغیر اللہ کی ذات' صفات اور صفات کے تقاضوں کا انکار کائنات کا سب سے بڑا جھوٹ ہے. 
حقوق العباد اور حسن معاشرت لازم و ملزوم ہیں. اسلام حسن معاشرت پہ بہت زور دیتا ہے سورۃ الحجرات میں حسن معاشرت کے آداب بتلائے گئے ہیں.  
زیر غور آیت میں اللہ جی ہمیں جھوٹ سے منع فرما رہے ہیں. کیونکہ جھوٹ ایسا عمل ہے جو زندگیاں برباد کرتا ہے جیسا کہ بہتان' تہمت' جھوٹی گواہی. ہماری عدالتوں میں جھوٹی گواہی کی وجہ سے بہت سے بے گناہ مختلف جرائم کی سزائیں سنتے ہیں. 
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دیگر مسلمان محفوظ ہوں.  (صحیح مسلم. رقم الحدیث#161) 
ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہو چکے ہیں اور ان میں مزید اضافہ ہوتاجارہا ہے. صرف ایک زبان کی وجہ سے ہی ہم بہت سے لوگوں کا دل دکھاتے ہیں. طعنہ بازی اور دوسروں کے عیب اچھالنا ہمارا قومی کھیل بن چکا ہے. ہمیں یاد رکھنا چاہئیے کہ ہمارا قومی کھیل ہاکی ہے اور اگر ہم کچھ اچھا نہیں بول سکتے تو خاموشی بہترین حل ہے.
 

بشکریہ اردو کالمز