644

اقبال ہم شرمندہ ہیں۔۔۔ 

 

آج ہم اپنا 73واں یوم پاکستان منا رہے ہیں اس ملک کے ملنے کی خوشی میں طوفان بدتمیزی برپا کرتے ہیں جس کے ہم حقدار نا تھے۔ اس ملک کا ہمیں مل جانا ایسا ہی ہے جیسے بندر کے ہاتھ ماچس کا آنا، جو نا صرف دوسروں کا نقصان کرتا ہے بلکہ اپنا ہاتھ بھی جلا لیتا ہے ۔ ان 73 سالوں میں اس ملک کا ہم نے جو حال کیا ہے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے یہ تمام باتیں ہم با خوبی جانتے ہیں۔ 

 

        اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آئے روز ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ انسان نگاہیں چرانے پہ مجبور ہو جاتا ہے۔ کسی بھی قوم کے وقار کا انحصار اس کے نوجوانوں کی عزت و وقار پر منحصر ہوتا ہے۔ ہمارے نوجوان مہذب پن کی وہ مثالیں قائم کررہے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ آج ہمارے معاشرے میں ہر رشتے کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے چند دنوں پہلے ایک نوجوان کی اپنی ماں پہ زدکوب کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی، ایک بہن اپنے سگے بھائیوں کی قید سے بیس سال بعد آزاد کروائی گئی جسے صرف اس لیے قید کیا گیا تاکہ وراثت میں سے حصہ نا دینا پڑے یہ بھی ان بھائیوں کا اپنی بہن پہ احسان تھا کہ اس سے جائیداد کے عوض اس کی زندگی کے صرف بیس سال لیے، اس کی سانسیں نہیں لیں۔ حال ہی میں مسجد وزیر خان میں بغیر میوزک کے میوزک ویڈیو کی شوٹنگ ہوئی اور رقص پیش کیا گیا۔ ہم مسجد اقصی اور مسجد بابری کا رونا روتے ہیں جبکہ ہم  اپنے شہر کی مسجد کو ان خرافات سے محفوظ نہیں رکھ سکے۔ یہ وہ ملک ہے جس کے حصول کے وقت اکابرین نے کہا تھا کہ یہ(پاکستان) امت کے لیے مسجد کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

      آج اگر ہمیں یہ آزادی میسر نہ ہوتی  اور ہم ذہنی غلامی کے ساتھ ساتھ جسمانی غلامی میں بھی مبتلا ہوتے تو شاید ہمارے ذہن ایسے ناپاک خیالوں سے پاک ہوتے۔ ہم ان مہاجرین سے روزِ قیامت نگاہیں نا ملا پائیں گے جن کے ابھی تک ایک آنسو کا بھی قرض نہیں اتار سکے۔ ہم اقبال سے شرمندہ ہیں جس کے شاہینوں نے دنیا فتح کرنی تھی اور دوبارہ ثریا تک مقام حاصل کرنا تھا وہ پستیوں میں ڈوب گئے ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ہم اگست کا مہینہ نہایت ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائیں گے اور سڑکوں پہ ساری رات اُدھم مچائیں گے ۔

          پاکستان زندہ باد

             پاکستان پائندہ باد

بشکریہ اردو کالمز