پاکستان یعنی پاک لوگوں کی سر زمین 27 رمضان المبارک 1368ھ کو معرض وجود میں آیا. اس کے لیے بہت سی قربانیاں دی گئیں مالی ہوں جانی ہوں یا وقت کی یا اولاد کی.
تقسیم کے وقت پہ لکھے جانے والے ناول بے شک افسانے لگتے ہیں لیکن یہ صد فیصد سچائی پہ مبنی ہیں . 2010 میں نشر ہونے والا ڈرامہ "داستان" اس ہی موضوع کے گرد گھومتا ہے. اس میں ایک بانو نامی لڑکی جس کی آنکھوں کے سامنے اس کے سارے گھر والوں کو قتل کیا جاتا ہے. اس کو اغواء کر لیا جاتا ہے اور زبردستی سکھ مذہب قبول کرنے کو کہا جاتا ہے تو اس کا جواب ہوتا ہے کہ
"میں یہ تو بھول سکتی ہوں کہ میں نصیر الدین کی بیٹی سلیم اور فہیم کی بہن ہوں لیکن یہ نہیں بھول سکتی کہ میں ایک مسلمان ہوں".
لیکن آج ہم کیوں بھول رہے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں سکول اور کالجز میں جذبہ خیر سگالی کے طور پر ہولی' دیوالی اور پتہ نہیں کون کون سے ہندؤانہ تہوار منائے جاتے ہیں. کیا ہم اتنے بے حمیت ہو گے ہیں کہ دوسروں کے مذہبی تہوار منانے میں بھی ہمیں غیرت نہیں آتی.
من حیث القوم ہماری معلومات کی یہ صورت حال ہے کہ جب پبلک سے یہ سوال پوچھا گیا کہ 23 مارچ کو کیا ہوا تھا؟ تقریباً سب ہی پڑھے لکھے افراد تھے اور کسی ایک نے بھی تسلی بخش جواب نہ دیا. صحیح رونگٹے تو اس وقت کھڑے ہوئے جب جواب دینے والے نے کہا کہ
کچھ طاقتوں نے مل کے سازش کی تھی....
ہمیں ایک لفظ مل گیا ہے سازش جس کو ہر بات میں لگانا قومی کھیل بن گیا ہے. اس ہی لیے تو ہاکی کی کارکردگی دن بہ دن گرتی جا رہی ہے. کیونکہ ہماری محب وطنی کا یہ مقام ہے جس چیز میں لفظ قومی آجائے اس کو نظر انداز ضرور کرنا ہے. جیسے قومی کھیل تو ہاکی ہے لیکن سٹیج کرکٹ کا سجتا ہے. قومی پھول چنبیلی ہے تو ہمیں گلاب بہت پسند ہے. قومی پرندہ چوکور ہے لیکن ہمیں تو جی طوطے پسند ہیں بھئ قومی جانور مارخور ہے اور ہمیں کیا پسند ہے خرگوش اور قومی دن یعنی 23 مارچ کا ہمیں پتہ ہی نہیں. اور سب سے بڑی بات قومی زبان اردو ہے اور یہ بات آئین میں انگریزی میں لکھی گئی ہے. آج 70 سال بعد بھی اردو زبان کی بقاء کے لیے لڑنے والے ہم لوگ مطالعہ پاکستان میں اردو ہندی تنازع کو سمجھنے کے لیے
Urdu-Hindi Controvercy
کے عنوان سے پڑھتے ہیں.
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی بشارت سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے دی. آپ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے فرمایا ”میں عرب میں ہوں عرب مجھ میں نہیں میں ہند میں نہیں ہند مجھ میں ہے۔ مجھے ہند سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آ رہی ہیں۔“
جس پر علامہ اقبال نے نظم لکھی۔
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
آپ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے ایک اور موقع پر یہ بھی ارشاد فرمایا
”کہ دور فتن میں جب دین اسلام پر جمود طاری ہوگا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے ایک غیرعرب قوم ہندوستان پر جہاد کر کے دین اسلام کی عزت کو بحال کرے گی.
بفضل تعالیٰ ہم اس ملک کے باسی ہیں جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوید سنائی۔اسلام کی عزت کو بحال کرنے کے لیے ہمیں جن بشارتوں سے نوازا گیا ہے اس کے لیے تن دہی اور دلجمعی سے خود کو ایک بہترین مسلمان بنانا ہے اور اس سر زمین کو حقیقی معنوں میں اسلام کا قلعہ بنانے کی پوری کوشش کرنی ہے امت مسلمہ کو بیدار کرکے اسے خود کی اہمیت باور کروانی ہے تاکہ اصل ذمے داری نبھا کر میر عرب صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچنے والی ٹھنڈی ہواؤں میں ہمارا بھی کوئی کردار ہو. ہمیں made in Pakistan کو اہمیت دینی چاہئے تاکہ اس ملک کی اقتصادی جڑیں مضبوط ہوں اور اس سوچ کے ساتھ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطے کے ساتھ محبت رکھی ہے.
آج کل ہم ترکوں سے اسلام کی نسبت سے متاثر ہیں اور ہونا بھی چاہئے تو ان سے ہمیں یہ سیکھنا ہے کہ وہ من حیث القوم خود پہ فخر کرتے ہیں اور اپنے ملک کے ساتھ وفادار ہیں. ہمیں خود کو عزت دینی ہوگی کیونکہ ہم پہلی اسلامی ایٹمی قوت ہیں. جب تک ہم خود اپنی عزت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کوئی دوسرا ہمیں عزت نہیں دے گا.