سماجی انصاف کا عالمی دن

 

دنیا بھر میں سماجی انصاف کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے۔ آج اقوام متحدہ کے تحت پاکستان سمیت دنیا بھر میں سماجی انصاف کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر سے غربت کا خاتمہ، ملازمتوں کے مساوی مواقع کی فراہمی سمیت سماجی انصاف کے لیے دیگر اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔ تمام انسانوں کو یکساں حقوق کی فراہمی کے لیے ہر دور میں کوششیں ہوتی رہی ہیں جس میں کبھی انسان کو کامیابی حاصل ہوئی تو کبھی ناکامی کا سامنا رہا۔ سماجی انصاف کا عالمی دن اسی مقصد کے حصول کے عزم کا اعادہ ہے جس کو منانے کا فیصلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2007میں کیا تھا۔ اقوام متحدہ کا ادارہ عالمی ادارہ محنت اس سلسلے میں عوامی شعور کی بیداری کے لیے مختلف تقریبات کا اہتمام کرتا ہے جن کے ذریعے معاشرے میں بہتری لانے کے لیے سماجی انصاف کے قوانین اور قواعد پر عمل کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔

 

اس دن کو منانے کا ایک مقصد  ملازمتوں کے یکساں مواقع فراہم  کر کے غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔دنیا کی ایک چوتھائی آبادی آج بھی بنیادی ضروریات سے محروم ہے اس کے سدباب کےلیے اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے وقتا فوقتا اقدامات کرتے رہتے ہیں لیکن حوصلہ افزاء نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔جس کی بنیادی وجہ معاشی لحاظ سے کمزور ممالک پہ مستحکم ممالک کی اجاداری  اور جنگی جنون کارفرما ہیں۔

روزگار کی فراہمی کے بعد اہم پہلو اور اس دن کے منانے کا مقصد سماجی انصاف کی فراہمی ہے۔مہذب ممالک انصاف کی فراہمی  کو اول  ترجیح دیتے ہیں جبکہ پسماندہ ممالک میں انصاف  کی فوری اور عدم فراہمی ہی غربت لاقانونیت بےروزگاری کو جنم دینے کا موجب ہے۔ سماجی عدل و انصاف کی عدم فراہمی ہی معاشرہ میں عدم برداشت میں اصافہ کاسبب ہے۔ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ انصاف کا حصول ایک مشکل اور ناممکن ہوتا جا رہا ہے اب تو وقت کے وزیراعظم بھی انصاف کی عدم فراہمی کا رونا رو رہے ہیں۔اول تو انصاف کی فراہمی کا تصور بھی نہیں ہے دوسرا انصاف کء حصول کےلیے قارون کا خزانہ دستیاب ہونا ضروری ہے۔لوگ از خود قتل کے بدلے قتل کی روایات دہراتے نظر آتے ہیں۔جرگہ اور پنجائیت کو فروغ مل رہا ہے جہاں پر بھی بااثر افراد اخلاق اور قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہیں۔فرسودہ روایات غیر شرعی اور غیرقانونی سزائیں اس پنجائیت اور جرگہ کی مرہون منت ہیں جن میں نابالغ بچیوں کی ستر سالہ بابے سے شادی،بدلے کےطور ونی اور زندہ درگور، علاقہ بدر جیسی سزائیں جنم لے رہی ہیں۔

آج جب دنیا گلوبل ویلیج بن گئی ہے اوراس  ”پِنڈ“ میں مختلف مذاہب کے ماننے والے پڑوسی بن کر رہنے لگے ہیں، سماجی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے پڑوسیوں کے حقوق اور ان کے ساتھ زندگی گذارنے کے آداب انتہائی اہمیت رکھتے ہیں،  خاتم النبین  حضرت محمدؐ کی پاکیزہ سیرت میں ہمیں ایسے نمایاں نقوش ملتے ہیں جو ہر پہلو سے بہترین راہنمائی فراہم کرتے ہیں، آپؐ نے شرعی طور پڑوسیوں کو میراث میں حصہ دینے کے خدشہ تک کا اظہار فرمایا ، اور تعلیمات میں  مذہب کے فرق سے قطع نظر اس شخص کو سب سے بُرا کہا ہے جس کی دل آزاریوں اور تکلیفوں سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں، 

ایک سماج کے لوگوں کے درمیان پُرامن بقائے باہم اور خوشگوار زندگی کا سب سے بہتر نمونہ اور اصول ”میثاق مدینہ“ کے نام سے ہمارے سامنے موجود ہے، رسول کریم صلى الله علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ آئے تو وہاں کے مختلف قبائل اور اہل مذاہب کے ساتھ آپ صلى الله علیہوآلہ وسلم نے معاہدہ فرمایا، یہی معاہدہ ”میثاق مدینہ“ ہے، اس کی دفعات کتنی مدبرانہ اور معقول ہیں، اس کا اندازہ ان کے الفاظ سےکیاجاسکتاہے۔

۱- سب لوگ ایک ہی قوم کے فرد سمجھے جائیں گے، یہودی مسلمانوں کے ساتھ ایک قوم ہے اور دونوں کو اپنے اپنے مذہب پر عمل کی آزادی ہوگی۔

۲- اگرمعاہدہ کرنے والے کسی قبیلہ پر کوئی دشمن حملہ آوار ہوگا تو تمام قبیلے مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔

۳- شریک معاہدہ قبیلوں کے تعلقات خیرخواہی، نفع رسانی اور نیک اطواری پر مبنی ہوں گے، تاکہ جبر پر، اور خلاف اخلاق امور میں کوئی اعانت نہیں کی جائے گی۔

۴- یہودیوں اور مسلمانوں کو برابر حقوق حاصل ہوں گے۔

۵- مظلوم کی ہر حال میں مدد کی جائے گی

 

انسانی سماج کا ایک اہم حساس اورتشویشناک  مسئلہ ماحولیاتی آلودگی کا ہے اور اس کی تباہ کاریوں سے انسانی معاشرہ لرز رہا ہے، رسول اللہ صلى الله علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ میں اس سے متعلق اصولی ہدایت کیسی روشن ہے۔ رسول اللہ صلى الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان درخت لگائے گا اس سے جوانسان یا پرندہ بھی کچھ کھائے گا تو اس کا اجر و ثواب درخت لگانے والے کو ملے گا۔ ہرے بھرے درختوں کو کاٹنے سے رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے دوران جنگ بھی منع فرمایا ہے۔ آپ صلى الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص کسی ٹھہرے ہوئے پانی میں رفع حاجت نہ کرے، پانی کے بے جا خرچ کو روکنے کی ہدایت رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم کی حیات مبارکہ  میں اتنی تھی کہ کہا گیا کہ اگر کوئی شخص ندی کے کنارے بیٹھ کر پانی کا استعمال کرے تو بھی وہاں ضرورت سے زیادہ خرچ نہ کرے۔ عام راستوں اور گذرگاہوں پر کوئی گندی چیز پھینکنے، یا غلاظت کرنے کو آپ صلى الله علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا، بلکہ راستوں سے کسی بھی نقصان دہ چیز کو ہٹانے کی تعلیم فرمائی۔ بازار کی اشیاء خوردنی میں ملاوٹ اور نفع خوری کے لیے دھوکا دہی آج عام شیوہ ہوتا جارہا ہے، رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا ہ جو دھوکا دہی سے کام لے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ایک بار آپ صلى الله علیہ وسلم بازار میں ایک سامان کے اندر ہاتھ ڈالا جو اوپر سے خشک سامان اندر سے تر نکلا، آپ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دھوکا ہے، تر حصہ کو اوپر کرو۔

صفائی ستھرائی کو رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے آدھا ایمان قرار دیا، روزانہ پانچ وقتوں کی نمازوں کے لیے وضو کرنے کی صورت میں جسم کے ان اعضاء کو دھونے کی ہدایت جو عموما کھلی رہ کر مختلف جراثیم اورماحولیاتی عوامل کا نشانہ بنتے رہتے ہیں، کرونا وائرس کے بچاؤ کی تدابیر میں ناک کی پانی سے متعدد بار صفائی کا کہا جا رہا ہے۔

سماجیات کی بہتری کے لیے ہر پہلو میں اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استفادہ کیا جا سکتا ہے وگرنہ دن منانے کا مقصد سوا وقت کے ضیائع کے کچھ نہیں

بشکریہ روزنامہ آج