بوٹا گالاں کڈدا

ایک آدمی اپنی  سابقہ چالیس سالہ غلطیوں گناہوں کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کے بعد تلافی کےلیے تبلیغی جماعت کےہمراہ چالیس دن (چِلہ لگانے) کے لیے نکلا۔دینی مسائل سے نابلد اور گفتگو و تقریر کے ہنر سے نا آشنا اپنی جماعت کے ہمراہ جس بھی نئے گاؤں یا مسجد میں جاتا تو امیر قافلہ جو گفتگو اور تقریر کے رموز و اوقاف سے قدرے بہتر شناسا تھے اس کا تعارف ایسے کراتے کہ یہ ہیں بھائی محمد بوٹا جو چالیس سال چرس کا نشہ کرتے رہے روپے پیسے کی ہیرا پھیری کرنا چوری کے کُکڑ کھانے اور لوگوں کے  جنگلوں  سے لکڑیاں چوری کاٹ کر فروخت کرنا ان کےلیے معمولی کام تھے۔اب صرف یہ بے تحاشا گالیاں دیتے ہیں باقی معمولات ہماری تربیت کے زیر اثر انہوں نے چھوڑ دئیے ہیں۔خیر انتالیس دن یہ تعارف گلی محلہ آلے دوالے کرایا جاتا رہا چالیسویں دن محمد بوٹا جو خربوزے کو خربوزہ دیکھ کہ رنگ پکڑتا ہے پہ عمل پیرا اب پنجابی میں تقریر کرنا سیکھ گیا خیر چالیسواں دن آیا تو محمد بوٹا کا تعارف کرانے کے بعد اور اس دعا کہ ساتھ وہ گالیاں دینا بھی بند کر دیں گے،انہیں جامع مسجد میں اظہار خیال کا موقع دیا تو محمد بوٹا حاضرین سے گلوگیر لہجہ میں آنکھوں میں آنسو اور پنجابی زبان میں لوگوں سے مخاطب ہوا کہ

"میرے بھائیو۔۔۔۔۔

بندہ ناچیز کُھل کے تے چھپ کے چالیس سال بہتیرے گناہ کیتے پر رب قادر غفور ورحیم نے میرے گناہواں تے پردہ پایا فیر پنچتالی دہاڑے پہلاں میں انہاں کول آیا اینھاں نوں ساری کہانی سنائی کہ اے کجھ میں کر دیتا تے گالیاں تے میرا کنٹرول نہیں جے۔فیر جیہڑے گناہ کسے نوں نہیں سی پتہ، اینھاں گلی گلی محلے محلے آلے دوالے جا کے لوگاں نوں دسے۔

ہن وی اے کیندے نے کہ ”بوٹا گالاں کڈدا“

”بوٹا گالاں کڈدا“ سوشل میڈیا پہ ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔اخلاقی زبوں حالی کا شکار معاشرہ جو اقوام عالم میں ایمانداری کے حوالے سے  کی گئی رینکنگ میں تنزلی کا شکار ہے اور مملکت خداداد پاکستان میں رائج الوقت نظام کو تیزاب سے غسل دینے کی اشد ضرورت محسوس ہوتی نظر آتی ہے۔ اور ایسے میں سیاسی اور سماجی مسائل پہ لوگ اس ٹرینڈ کو شئیر کر رہے ہیں۔ معاشرتی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئےحل کے بجائے خالی بحث و مباحثہ کی زینت بنانے والوں کے لیے آج رقم طراز کا خصوصی موضوع  "بوٹا گالاں کڈدا" پیش خدمت ہے

جب گلستان میں ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہو،تھڑے پہ بیٹھے ملنگ سے لے کر اقتدار و اختیار کے ایوانوں کی کرسیوں پہ بیٹھے خائنوں اور بد دیانتداروں کا راج ہو تو بوٹے کے پاس گالاں کڈنے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں ہوتا۔

والدین گھروں میں بچوں پہ توجہ نہیں دیتے ویڈیو گیمز دل بہلانے کے لیے دے دیتے ہیں اور رزلٹ خراب آئے تو سکول والوں کے سر جا چڑھتے ہیں انکی اپنی ذمہ داریاں یاد کروائیں تو ” کہندے نے بوٹا گالاں کڈدا“

آئے روز سڑک پہ حادثات معمولی سی بات ہیں ون ویلنگ کرنے والے بچے ہاتھ پاؤں تڑوا کہ بستر سے لگ جاتے ہیں ان کو سمجھانے کی کوشش کریں تو کہتے ہیں کہ ”بوٹا گالاں کڈدا“

غریب والدین اپنی جھکی کمر پہ اپنی بیٹی کے جہیز کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں لڑکے والوں کو سمجھائیں کہ جہیز لعنت ہے تو جہیز لینے والے کہتے ہیں کہ ”بوٹا گالاں کڈدا“

مرگ فوتگی پہ شریعتِ اسلامیہ پہ عمل کر کے بے جا رسومات ختم کرنے کا بولیں تو پھر بھی گلہ کہ ”بوٹا گالاں کڈدا“

لوکل ٹرانسپورٹ پہ 13بندوں کی منظوری ہوتی ہے اورٹرانسپورٹر حضرات  22مسافر بٹھا کر بھی زائد کرایہ وصول کرنے سے باز نہیں آتے اگر پولیس پھر بھی کارروائی نہ کرے تو” کہندے نے بوٹا گالاں کڈدا“

انسانی مسیحا جب سرکاری ہسپتال میں فارماسسٹ کمپنیوں اور پرائیویٹ لیبارٹریز  کے نمائندے بن کے بیٹھ جاتے ہیں تو پھر انکو بھی گلہ یہی ہے کہ ”بوٹا گالاں کڈدا“

سرکاری اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکول میں پڑھاتے ہیں اور انکو بھی یہی گلہ ہے ”بوٹا گالاں کڈدا“

بجلی کا ایک ملازم اپنے دس رشتہ داروں کو مفت بجلی فراہم کروا کہ بھی گلہ کرتا ہے کہ ”بوٹا گالاں کڈدا“

بیس روپے سرکاری فیس کا فرض، پٹواری پانچ سو روپے میں بنا کر دیتے ہوئے بھی یہی گلہ کرتا ہے کہ ”بوٹا گالاں کڈدا“

ھر چیز پہ دگنا منافع کمانے والا تاجر اور ٹیکس چوری سینہ زوری اور بھر لو تجوری کے منشور پہ کاربند سیٹھ کو بھی گلہ ہے کہ ”بوٹا گالاں کڈدا“

عوام کو بلدیاتی نظام سے کوسوں دور پھینک کے اپنے ٹاؤٹوں کے ذریعے معاملات چلانے والے اور ہر پراجیکٹ میں باقاعدہ بھتہ وصول کرنے والے اور نام نہاد ووٹ کو عزت کی بات کرنے والے سیاستدان بھی سرے بازار ایک ہی گلہ کرتے نظر آتے ہیں  کہ ”بوٹا گالاں کڈدا“

ناقص میٹریل استعمال کرنے،اوپر تا نیچے کمیشن کی نہریں بہانے والے؛اور سرِعام رشوت دے کر ٹھیکے لینے والے کو بھی گلہ ہے ”بوٹا گالاں کڈدا“

انتظامی آفیسران جو اپنے گھر میں بیوپاریوں سے صبح روز تازہ پھلوں کی پیٹیاں وصول کرکے عوام کو من مانی قیمتوں پہ فروخت کرنے کی اجازت دیتے ہیں  کو بھی گلہ ہے کہ ”بوٹا گالاں کڈدا“

ہر سرکاری بل پہ نظریں جمائے اورمرنے والے ساتھی ملازم کے ڈیتھ کلیم سے بھی اپنا حصہ وصول کرنا نہ بھولنے والے اکاؤنٹ آفیسران کو بھی یہی گلہ ہے کہ ”بوٹا گالاں کڈدا“

سر راہ فٹ پاتھوں پہ دکان کا سامان لگا کررستہ بند کرنے والے دکانداروں کو بھی گلہ ہے کہ ”بوٹا گالاں کڈدا“

چار منزلہ مکان پہ دو کروڑ لگانے والے اور رستہ چار فٹ چھوڑنے اور اس پہ دس ہزار کی کنکریٹ کےلیے حکومت سے سکیم کے منتظر کو بھی گلہ ہے کہ ”بوٹا گالاں کڈدا“

نیم حکیم خطرہ جان ۔۔۔۔۔نیم ملا خطرہ ایمان 

”پر فیر وی لوکی کہندے بوٹا گالاں کڈدا“

بشکریہ روزنامہ آج