یکم مئی محنت کشوں کا عالمی دِن

 

محنت کرکے کمائی کرنے والا کو اللہ تعالیٰ دوست رکھتے ہیں۔حضرتِ انسان کو جب بھی اختیار ملا ہے تو اس نے قانون فطرت میں مداخلت کی بھرپور کوشش کی۔قدرت نے یہ اختیار اگر دولت سے نوازا تو جاگیردارنہ سوچ نے جنم لیا اور کمزوروں کے حقوق سلب کرنے شروع ہوگئے اگرقدرت نے طاقت کا اختیار عطا کیا تو باقی انسانوں کو چیونٹی سمجھ کر پاؤں تلے روندھ ڈالا۔ انسانی تاریخ میں چند سنہرے سال ہونگے جب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ  سرمایہ قوت کے اختیارات کو بنی نوع انسان کے فائدہ کےلیے استعمال کیا اور اپنا نام اس تاریخ میں امر کیا۔

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں 

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

موجودہ مہذب دنیا کی تاریخ ایک آدھ صدی پرانی ہے۔سرمایہ دار معمولی اجرت کے عوض مزدوروں سے دن میں بیس بیس گھنٹے کام لیتے رہے۔ظلم آخر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔بالآخر مزدوروں نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے تحریک شروع کرنے کی ٹھان لی۔سرمایہ داروں جاگیرداروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے حقوق کے حصول کے تقاضے کرنے شروع کر دیئے۔ ردعمل کے طور پہ مزدوروں محنت کشوں کو پہلے سے مشقت صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

یوم مئی کا آغاز 1886ء میں محنت کشوں کی طرف سے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کے مطالبے سے ہوا۔ ٹریڈ یونینز اور مزدور تنظیمیں اور دیگر سوشلسٹک ادارے، کارخانوں میں ہر دن آٹھ گھنٹے کام کا مطالبہ کیا۔

اس دن امریکا کے محنت کشوں نے مکمل ہڑتال کی۔ تین مئی کو اس سلسلے میں شکاگو میں منعقد مزدوروں کے احتجاجی جلسے پر حملہ ہوا جس میں چار مزدورہلاک ہوئے۔ اس بر بریت کے خلاف محنت کش احتجاجی مظاہرے کے لیے ( Hey market square ) میں جمع ہوئے۔ پولیس نے مظاہرہ روکنے کے لیے محنت کشوں پر تشدد کیا اسی دوران میں بم دھماکے میں ایک پولیس افسر ہلاک ہوا تو پولیس نے مظاہرین پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس کے نتیجے میں بے شمار مزدور ہلاک ہوئے اور درجنوں کی تعداد میں زخمی ،اس موقعے پر سرمایہ داروں نے مزدور رہنماؤں کو گرفتار کر کے پھانسیاں دی۔ حالانکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا کہ وہ اس واقعے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے مزدور تحریک کے لیے جان دے کر سرمایہ دارانہ نظام کا انصاف اور بر بریت واضح کر دی۔ ان ہلاک ہونے والے رہنماؤں نے کہا ۔ ’’تم ہمیں جسمانی طور پر ختم کر سکتے ہو لیکن ہماری آواز نہیں دباسکتے ‘‘

اس جدوجہد کے نتیجے میں دنیا بھر میں محنت کشوں نے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار حاصل کیے ۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد یکم مئی عالمی یوم برائے مزدور منائے جانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

مزدور اپنی ہمت و محنت سے جو خدمات سر انجام دیتا ہے اس کا معاوضہ بہت معمولی رقم کی صورت میں اسے ملتا ہے۔ اس معاوضے کو طے کرتے وقت ہمارے یہاں نہایت کنجوسی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے حالانکہ محنت کا جائز معاوضہ نہ دینا، استحصال ، حق مارنا ، پورا حق ادا نہ کرنا اور ظلم کرنا یہ وہ اعمال ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ان بڑی برائیوں میں شمار کیا ہے جن کا اس کے ہاں غیر معمولی مواخذہ ہوگا۔سیرت رسولؐ میں مزدور کو اس کی اجرت پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں اور مرکز میں مینیم ویج بورڈ (Minimum Wages Board) موجود ہیں۔ جن کے قیام کا مقصد غیر ہنر مند مزدور کی کم از کم اجرت کا تعین کیا جائے اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری، غربت اور معاشی بدحالی کے باعث مزدوروں کو بہت ہی کم اور من مانے معاوضہ پر کام پر نہ لگایا جائے۔ لیکن افسوس کے دوسرے اداروں کی طرح یہ ادارہ بھی اپنا مئوثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ پاکستان ورکرز کنفیڈریشن نے جی ایس پی پلس اور پاکستان میں معیاراتِ محنت پر عمل درآمد کے چیلنجز کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ مرتب کی ہے جس میں ایک کنبہ کے کم از کم ماہانہ اخراجات چالیس ہزار پانچ سو روپے ہیں۔ لیکن آج بھی ملک کے چھوٹے شہر تو ایک طرف وفاقی دارلحکومت میں ایسے ادارے بھی موجود ہیں جہاں کام کے اوقات بارہ بارہ گھنٹے ہیں اور اجرت پندرہ سے سترہ ہزار ہے ۔ اقوام عالم میں یورپ کم از کم اجرت کے معیار سے نکل کر معقول اجرت (Living Wages) کے معیار تک پہنچ چکا ہے اور ہم اب تک کم از کم اجرت اور اوقات کار ہی طے نہیں کرپائے ہیں۔

 

پاکستان کے تقریباََ ہر شہر کے صنعتی علاقوں میں بے شمار چھوٹے غیر رجسٹرڈ یونٹس کام کررہے ہیں۔ جن کے مالکان اپنے اداروں کو رجسٹرڈ کروانے سے اجتناب کرتے ہیں، ان یونٹس میں کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد  5سے لے کر 50 تک ہوتی ہے۔ جن سے ملازمت کی شرائط، اجرت اور اوقات کار زبانی بنیادوں پر طے کیے جاتے ہیں۔ ایسے اداروں صنعتوں کے مزدور سوشل سیکورٹی، ای او بی آئی، حادثے کی صورت میں موت، معذوری یا زخمی ہونے کی صورت میں علاج معالجے کی سہولیات سے محروم ہیں۔

 

مستقل نوعیت کی پیداوار حاصل کرنے اور منافع کمانے والے اداروں میں عارضی اور کنٹریکٹ لیبر کا دور دورہ ہے۔ یہ نظام سرکاری، نیم سرکاری اداروں، کارپوریشنز حتیٰ کہ کالج یونیورسٹیوں میں بھی رائج ہے۔ روزانہ اجرت اور ٹھیکداری نظام جو 1985کے بعد سے بتدریج فروغ پاتا آرہا ہے۔ اس نظام میں جن اداروں کو کام کے لیے مزدروں کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اس مقصد کے لیے قائم کردہ اداروں کو آگاہ کر تے ہیں، جو ایک طے شدہ کمیشن پر مزدور فراہم کردیتے ہیں۔ ان سے کام لینے والا ادارہ ان کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا بلکہ ان کے تمام معاملات کا ذمہ دار انھیں فراہم کرنے والا ادارہ ہوتا ہے۔ ایسے ملازمین کو نہ تو تقرر نامہ دیا جاتا ہے اور نہ ہیں ای او بی آئی یا سوشل سیکورٹی کی سہولت حاصل ہوتی ہے ۔

 

پاکستان میں ایک غیر روایتی ذریعہ روزگار بھی ہے، ان میں گلی گلی آواز لگا کر سبزی فروخت کرنا، غبارے بیچنا ، چوڑیاں فروخت کرنا، اچار فروخت کرنا، چادریں اور کھیس فروخت کرنا، قلفیاں فروخت کرنا ، گھروں میں رنگ و روغن اور فرنیچر ٹھیک کرنے والے، سیمنٹ ، شکر اور گندم کی بوریاں اٹھانے والے اور ایسے بے شمار شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں جو ملک کی معیشت میں اور روزگار کے مسائل حل کرنے میں تو کردار ادا کرتے ہیں لیکن جو روایتی شعبہ جات میں کام کرنے والوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ یہ ہمارے ملک کا وہ طبقہ ہے جس کا سارا دارومدار اس کی اپنی ہمت اور محنت پر ہے۔ اگر اسے کسی بیماری یا حادثے اور ضعیفی کا سامنا ہو تو اس کے پاس کو ئی راستہ نہیں ہے ۔

 

ایک سروے کے مطابق پاکستان میں محنت کش افراد کی تعداد تقریباََ 60 ملین ہے جو کل آبادی کا 33 فیصد ہے۔ آبادی کے اس ایک بڑے حصے کو جن مسائل کا سامنا ہے ہماری سیاسی و مذہبی جماعتیں اس موضوع پر بات کرنے کے لیے بھی تیا ر نہیں ہیں۔

یوم مئی کی تقریبات ان مسائل کی نشاندہی کی حد تک مؤثر ہیں لیکن انکے حل کے لیے یہ کاوشیں کافی نہیں ہیں۔دنیا بھر میں جاری لاک ڈاؤن سے ایک محتاط اندازے کے مطابق مزید پچاس کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے آنے کا خدشہ ہے۔ایسے میں ہمیں مکمل پلاننگ کی ضرورت ہے۔وطن عزیز نے جس طرح پچھلے عشرہ میں بجلی کا شدید بحران کاسامنا کیا اور لمبی تگ و دو کے بعد اس پہ قابو پا لیا تو غیر یقینی طور پہ بیروزگاری میں اضافہ ہوا جس کی وجہ نعم البدل کے طور پہ چلنے والی چھوٹی صنعتیں جن میں جنریٹر، یو پی ایس، بیٹری، اسٹریپلائزر، سے خاصے تعداد میں لوگوں کا منسلک ہونا تھا۔عدم پلاننگ کی وجہ سے ان لوگوں کےلیے متبادل روزگار کا بندوبست نہ ہونا تھا۔اسی طرح سب حالیہ لاک ڈاؤن کے پیش نظر سوشل ڈسٹنس کی اصطلاح متعارف ہوئی ہے اس کے نتیجہ میں  شادی بیاہ کی لمبی لمبی رسوم و رواج میں اختصار اور دیگر پارٹیوں ہوٹلنگ وغیرہ میں کمی آ جائے گا اس انڈسٹری سے لاکھوں لوگ منسلک ہیں ان کےلیے بھی بروقت متبادل روزگار کا انتظام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں اس بحران کےبعد مزید بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے

 

بشکریہ روزنامہ آج