جناب طارق عزیز ۔۔۔ہم شرمندہ ہیں

 

ایک ابر کا  ٹُکڑا  کہاں  کہاں  برسے... 

 تمام دشت ہی پیاسا دِکھائی دیتا ہے...

 

جنابِ طارق عزیز اپنی عمر عزیز پوری کرنے کے بعد ابدی حیات کی جانب خاموشی سے ایک اور منزل طے فرما چکے ہیں۔

 مملکتِ خداداد پاکستان ایک بہترین مقرر مدبّر مفکر  سے محروم ہو گئی ہے۔طارق عزیز کی وجہ شہرت ان کا ٹی وی پروگرام ”نیلام گھر“ تھا جو بلیک اینڈ وائٹ ٹیلیویژن دور میں انٹرٹینمنٹ کا واحد ذریعہ تھا۔ان وقتوں میں  پڑھاکو قسم کے بچوں کےلیے ٹیلی ویژن شجر ممنوعہ قرار دیا جا چکا تھا۔اگر بچے پڑوسیوں کے گھر ٹی وی دیکھنے چلے جاتے تو گھر والوں کا پڑوسیوں سے گلہ ہوتا تھا کہ یہ ان کے ہونہار آئن سٹائن قسم کے بچوں کو بگاڑنے کی ایک سازش رچائی جا رہی ہے۔تاہم اتنی پابندیوں کے باوجود ٹیلیویژن کے سامنے جانے کی اجازت اس وقت ملتی جب جمعرات کے ویک اینڈ پہ ”نیلام گھر“ رات سات بج کر پچاس منٹ پہ شروع ہوتا۔

طارق عزیز دوڑتے ہوئے ہوئے  ہاتھ میں مائیک پکڑے بازو اوپر کیے پرُتپاک انداز میں ہال میں جلوہ گر ہوتے تو سامعین ہال کے اندر اور گھروں میں ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہوئے بھی والہانہ کھڑے ہو کر استقبال کرتے۔اس استقبال میں گھر میں کوئی اڑوس پڑوس سے آیا ہوا چھوٹا بچہ پیڑی موڑھے یا سٹول سے کھڑا ہوتا تو اس کی سیٹ پہ لیٹ میں آنیوالے کسی ماما یا چچا کا قبضہ بھی ہوجاتا۔اس کے بعد گرج دار آواز میں حسب روایت طارق عزیز فرماتے۔

”اِبتداء ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے“

اس کے بعد گیم شو ایک آدھ گانا شعر و شاعری کا مقابلہ اور کار کےلیے کوئز سیگمنٹ بھی ہوتے۔عوام کے مجمع کے دھیان کو ہال اور گھروں میں منتشر تک نہ ہونے دینا یہ جناب طارق عزیز کا خاصہ تھا۔ میاں بیوی کی باہم ہم آہنگی جاننے بارے سیگمنٹ جس میں ان کا مخصوص فقرہ جو ہماری یادوں کے دریچوں میں محفوظ ہو چکا ہے کہ ”صاحب کو وہاں لے جائیں جہاں میری آواز ان کے کانوں تک نہ پہنچ سکے“۔اس نیلام گھر اور طارق عزیز شو کی مملکت خداداد پاکستان میں بہترین مقرر شاعر پیدا کرنے اور سب سے بڑھ کر سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں  میں بزمِ ادب کے انعقاد کے ذریعے اردو ادب کےلیے گراں قدر خدمات سر انجام دیں ہیں۔

پنجابی شعراء کے کلام کو عام کرنے،مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارنامے سر انجام دینے والوں کو اپنے پروگرام میں نئی نسل سے روشناس کرانے میں جناب طارق عزیز کا بہت اہم کردار ہے۔

 

‏چار دن آنکھ میں نمی ہو گی

مر بھی جائیں تو کیا کمی ہو گی

 

جناب طارق عزیز مرحوم و مغفور میں جذبہ حب الوطن کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا تو یہ الفاظ ان کے شایان شان نہیں ہیں۔بلکہ اس میں درستی مطلوب کہ کہ آپ ”سراپا حب الوطن“ تھے۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی جائیداد پاکستان کے نام کی ہوئی تھی جو آپ کی وفات کے بعد چار کروڑ ستر لاکھ مالیت  قومی خزانہ کا حصہ بن چکی ہے۔

 

پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والے جناب طارق عزیز آپ کے جذبہ حب الوطنی کو سلام عقیدت لیکن ہم شرمندہ ہیں کہ

آپ کی وقف شدہ جائیداد کی رقوم اشرافیہ کے اللے تللوں میں خرچ ہو جائے گی

اس رقم سے اصغر خان کیس طرز لوگوں کے ضمیروں کی خرید و فروخت ہو گی۔

ہم شرمندہ ہیں

اس وقف شدہ رقم سے لندن میں اشرافیہ جائیدادیں بنائیں گے

ہم شرمندہ ہیں

اس وقف شدہ رقم کو منی لانڈرنگ کے ذریعے دبئی پہنچایا جائے گا۔

ہم شرمندہ ہیں

اس وقف شدہ رقم سے ماڈل ٹاؤن میں گولیاں چلائی جائیں گی

ہم شرمندہ ہیں

اس وقف شدہ رقم سے سرکاری آفیسران کے اہل خانہ سیر سپاٹے کریں گے

ہم شرمندہ ہیں

اس وقف شدہ رقم کو شوگر مافیا کو سبسڈی کے نام پہ سونپ دیا جائے گا

ہم شرمندہ ہیں

اس وقف شدہ رقم کو ریمنڈ ڈیوس طرز کیس میں کسی کو دیت دی جائے گی

ہم شرمندہ ہیں

اس وقف شدہ رقم سے آصفہ بختاور مریم بزدار خانم سرکاری بلڈنگوں کے نام رکھے جائیں گے 

ہم شرمندہ ہیں

اس وقف شدہ رقم سے اشرافیہ کو اندرون ملک و بیرون ملک مفت فضائی ٹکٹ مہیا کیے جائیں گے

ہم شرمندہ ہیں

اس وقف شدہ رقم سے ممبران سینٹ و قومی اسمبلی عمرے اور حج ادا کریں گے اور بیرون ملک علاج کی سہولت بھی اٹھائیں گے۔ 

ہم شرمندہ ہیں

اس وقف شدہ رقم سے گورنر ہاؤس کے مور دانہ چگیں گے

ہم شرمندہ ہیں

اس وقف شدہ رقم سے پچپن روپے فی کلو میٹر میں ہوائی جہاز پہ وزیراعظم آفس میں آیا جایا کریں گے۔

ہم شرمندہ ہیں

اس وقف شدہ رقم سے سب جیلوں میں قیدی شھد اور زیتون کا تیل پیے گے 

ہم شرمندہ ہیں

چار چار باریاں لے کر حکومتیں کرنے والے۔مُلک کے اعلیٰ ترین عہدوں پہ فائز سیاہ و سفید کے مالک اپنی جائیدادیں پاکستان کو سونپ کر جائیں گئے ہر گز نہیں بلکہ وہ اپنی اولادوں اور انکی اولادوں کو حق حکمرانی ہی سونپں گئے۔

”جنابِ طارق عزیز“ آپ کا ”پاکستان زندہ باد“ لیکن ”ہم شرمندہ ہیں“

بشکریہ روزنامہ آج