تِتلی اپنے پَروں کے بَل اُڑتی ہے اس کی اُڑان مُختصر ہوتی ہے۔اُڑنے کے باوجود اِس کو پرندوں کے بجائے حشرات میں شمار کیا جاتا ہے۔حشرات یا کیڑے مکوڑے کُرہ ارض پر پائے جانے والے غیرفقاری جانوروں کا سب سے بڑا گروہ ہے، جن کی لاکھوں اقسام اب تک دریافت کی جاچکی ہیں۔ عموماً ان کی چھ یا چھ سے زائد ٹانگیں ہوتی ہیں۔ ان میں سے کچھ رینگنے والے کیڑے ہوتے ہیں جبکہ کچھ اُڑنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
آج کل مختلف تعلقات رشتوں مفادات کو طرح طرح کے نام دئیے جا رہے ہیں۔پُرانے بزرگوں کی غذائیں خالص تھیں تو ان کے جذبات رکھ رکھاؤ ان کے جسم اور عصاب کی طرح انتہائی مضبوط ہوتے تھے۔اس لیے ان کے تعلقات عزت احترام اِحساس خون جس بھی معیار پہ استوار ہوتے تھے لیکن خلوص کی دولت سے مالامال ہوتے اور تکلفات کی شیرینی کی ملاوٹ اور اخلاقی گرواہٹ سے پاک ہوتے۔
اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا اعزاز بخشا اور اس کی سہولت کےلیے اس کُرہ ارض میں بھرپور رنگینیاں عطا فرمائی۔انسان کی مانند پھولوں پھلوں کے پودوں اور اجناس کی فصلوں اور چوپایوں اور جانورں میں بے پناہ خوبیاں بھی عطا کیں۔ان خوبیوں کو اشرف المخلوقات اپنے اپنے انداز میں تلاش کرنے میں سرکرداں رہتے اور ان اسباب کی خوبیوں کو بطور تشبیہ استعمال کرتے ہیں۔جس کی انگنت مثالیں موجود ہیں۔
اردو ادب میں تشبیہات معاملہ فہمی اور بات کا مفہوم عیاں کرنے میں مدد دیتی ہے۔اردو کی پڑوسی زبان پنجابی جس کا رسم الخط فارسی ہی ہے اس میں تشبیہات کا عمل دخل بھی عجیب و غریب ہے۔
تعلقات اور رشتوں میں مقدس سمجھا جانے والا دوستی کا رشتہ ہوتا ہے۔دوست کی تعریف کرنا اور سننا سب کو برابر ہی بھاتا ہے۔
بقول رومی کشمیر
جو کوئی کسے دا عاشق ہوندا اسے دی گل کردا
سو سو عذر بہانے کر کے مرنے اوہدے ای مردا
لیکن غذاؤں کی خالص پن کا قحط خُون اِحساس اِحترام اور دوستی کے رِشتوں پہ بھی پڑا ہے۔دوستی کے انمول رشتہ کو استوار کرنے کی ہمت اور احترام و خلوص کے رشتوں کو دوستی کا نام دینا رقم طراز کے بس میں نہیں ہے۔کیونکہ اس حساس رشتوں میں میرے آئیڈیل خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی سیرت مبارکہ ہے۔میری سوچ آج اکیسویں صدی عیسویں میں بھی تقریباً چودہ سو سال پہلے کی غارِحراء میں رکی ہوئی ہے جہاں ایثار و قربانی اتنی کہ یار کی یاری میں یار کی نیند میں خلل اس قدر نا پسند کہ زہریلا سانپ ایڑی پہ ڈستا رہے لیکن یار کی یاری کی خاطر اف تک بھی نہ کریں اورگہری اور مضبوط دوستی نبھانے والوں کےلیے تاقیامت یارِ غار کی مثال بن کر اس لمبی اور اذیتناک اور کٹھن مسافت کے مسافروں کو روشنی مہیا کی۔ جہاں اعتماد و اعتبار اتنا کہ یار کی بات سنے بغیر یار کی عرش پہ معراج کی تصدیق کر دیں اور ”صدیق ؓ “ کا لقب بھی حاصل کیا۔
فی زمانہ دوستی کے اطوار بدلتے گئے اِخلاص کے پکے رنگ کو تکلفات نے زنگ آلود کر دیا۔ دوستی کے پروں کو منافقت اور خیانتوں نے کاٹ پھینکا اور بقول شاعر
نہ خدا ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے
ٹویٹر پہ ایک ٹرینڈ دیکھا کہ ”یار میرا تتلیاں ورگا“ اس کی کھوج میں پڑنے پہ وقت ضائع کیا تو کوئی یار کو مختلف مختلف طریقوں سے یاد کر رہا تھا جیسے
نہ جیسے کون سا نشہ کرتا ہے
یار میرا ہر ایک سے وفا کرتا ہے۔
وفاؤں کی داستان سنیں تو مزید نسل نو کے عہد شباب کے یار کی تعریف سننے کو دل چاہا تو پھر جب آواز آئی کہ
کدی اس پھل تے کدی اُس پھل تے
یار میرا تتلیاں ورگا۔۔۔ یار میرا تتلیاں ورگا
تو ہم بخوبی سمجھ گئے عہد حاضر کا تازہ خون جنہیں تتلیاں بیان کر رہا ہے اور لٹکنے مٹکنے کی اچھل کود کر ایڑی چوٹی کا زور لگا کر تعریفیں کر رہا ہے۔ ہمارے ٹین ایج دور میں جب اعلیٰ اخلاقی روایات قدرے اہستگی سے زوال پذیر ہو رہی تھیں تو ایسی بھونڈی حرکات کرنے والے کو ”بھونڈ“ تو پکار لیتے تھے لیکن تتلی جیسی معصوم سے تشبیہ نہ دیتے تھے اور نہ اس اخلاق باختہ ہوس کے ہچاریوں کو ”یار“ کہہ کر اس پاکیزہ رشتے کی توہین کرتے تھے۔
یار میرا تتلیاں ورگا