چینل سبسکرائیب کریں

1986ء میں بلیک اینڈ وائٹ   ٹیلی ویژن جب گھر میں آیا تو اس کی اہمیت کا اندازہ لگانے کا تصور موجودہ  سوشل میڈیا کی گُڑتی لے کر پیدا ہونیوالی  نیو جنریشن کے بس کا روگ نہیں۔  ٹیلیویژن کا ڈش انٹینا ایک  لمبے بانس کی مدد سے  گھر میں موجود شہتوت دریک یا بیری کے درخت کے اوپر باندھنا پھر اس کی ڈائریکشن تصویر صاف ہونے تک سیدھی کرنا،واہ کیا ہی دور تھا۔ایک آدھ چینل ہوتا اور ٹیلیویژن میں آٹھ چینل گھمانے تک کی گنجائش ہوتی تھی۔حالات میں بہتری آئی تو ریمورٹ کنٹرول رنگین ٹی وی اپنے ساتھ پی ٹی وی کے ایک دو چینل کا مزید اضافہ لے کر آیا ۔اس کے بعد ڈش اور اب کیبل اور الیکٹرونک میڈیا کی ترقی کی وجہ سے چینلز کی بھرمار ہے۔انٹرنیٹ سروس آئی تو آہستہ آہستہ ٹیلیویژن کی افادیت کم ہونا شروع ہو گئی۔

میرا دوست ”بوٹا“ جو گالاں کڈ کڈ کے تھک گیا تھا ایک دن اُداس بیٹھا تھا کہ قریب سے گزرتے ایک حاجی صاحب نے اس سے پریشانی کی وجہ پوچھی۔حاجی صاحب جو نیم  بھی ہیں اپنے جُگاڑ پہ تھے کہ اس کو کوئی ٹِڈھ پیڑ ہو گی یا کمر درد اس کو ایک آدھ پھکی اور معجون تھما کر سو پچاس کا جگاڑ لگا لوں گا۔لیکن ”بُوٹے“ نے کہا کہ میں موبائل پہ گالاں کڈ کڈ کے رَج گیا ہوں پوسٹوں پہ خالی کمنٹ اور لائک ملنے سے میری بھوک ختم نہیں ہو رہی ہے میں مزید پیسے کمانا چاہتا ہوں مجھے کوئی حل نکال کر دیں۔حاجی صاحب نے کہا کہ میرا ایک دوست بڑے شہر میں سیٹل ہے وہ فیس بک پہ بڑی لمبی لمبی تحریریں لکھتا ہے۔ بڑا سیانہ بندا ہے میں اس سے مشورہ کر کے کل تمہیں کچھ بتاؤں گا۔بوٹا دل ہی دل میں بُڑبڑایا اور خود سے گویا ہوا بھلا ہو حاجی صاحب آپ کا بڑے شہر والے صاحب کی طرف سے آج تک خیر کی کوئی خبر نہیں آئی۔خیر دوسرے دن حاجی صاحب اور ”بُوٹے“ کا آمنا سامنا رستے میں ہو گیا۔بھائی صاحب اپنی شلوار کو گھٹنوں تک اٹھائے گندے پانی سے کپڑوں کو بچاتے ہوئے ”بوٹے“ پہ رستوں کی کشادگی اور صفائی کا لیکچر جھاڑنے لگے تو ”بوٹا“ کہنے لگا حاجی صاحب میرے کام کا کیا کیا ہے۔۔۔؟

حاجی صاحب لوگوں کو برُا بھلا کہنے لگے کہ لوگ اپنے گھر کا پانی رستے میں چھوڑ دیتے ہیں۔کروڑوں روپے مکانوں پہ لگا کر چند فیٹ پانی کے پائپ رستے میں نہیں ڈال سکتے۔  تو ”بوٹا“ بولا  فیر لوگ کیندے نے ”بوٹا گالاں کڈدا“۔میرے کم دا کی کیتا جے، حاجی صاحب نے اس کو ٹرخاتے ہوئے کہا کہ بوٹا بھائی  آپ یو ٹیوب چینل بنا لیں۔یقین کریں اس کام میں بڑے پیسے ہیں ۔

بالآخر ”بُوٹے“ نے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی مدد سے اپنا ”یوٹیوب چینل“ بنا لیا لیکن بڑا پریشان تھا کہ پیسے کمانے کےلیے ”سبسکرائبر“ اور ”ویڈیو آور“ کہاں سے پورے کرے۔پھر ”بُوٹے“ نے فیس بک پہ دھمکی اپڈیٹ کی کہ جو جو میرا چینل سبسکرائب نہیں کرے گا اس کو انفرینڈ کر دونگا۔دھمکی کب کارگر ثابت ہونی تھی پھر بُوٹے نے ایک آدھ ویڈیو یوٹیوب پہ اپلوڈ کی اور واٹس ایپ پہ ہر گروپ میں ہر کنٹیکٹ نمبر پہ چینل سبسکرائب کرنے کی گزارش کی۔لیکن اس میں بھی کوئی کامیابی نہ مل سکی۔دوسروں کی ویڈیو دیکھ دیکھ کر جس میں دس پندرہ بار دہرایا جاتا کہ ”ہمارا چینل سبسکرائب کریں“ اور بیل کے ”آئیکن“ کو دبائیں تاکہ آپ کو ہر ویڈیو کا زبردستی نوٹیفیکشن مل سکے۔تاہم ایک فقرہ بار بار دہراتے پکا  ورد بن کر اس کی زبان پہ جاری ہوگیا کہ ”ہمارا چینل سبسکرائیب“ کریں۔

اسی اثناء رات کے جگراتوں کی وجہ سے ”بوٹے“ کی کھانے پینے سونے کی روٹین بری طرح متاثر ہوئی کہ ایک دن ”بوٹے“ کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے شروع ہوگئے اور بوٹے کا دست و قہ کی وجہ سے حالت غیر ہوئی تو اس نے محلے کے ڈاکٹر کو کال کی۔ڈاکٹر صاحب گھر آگئے اور ”بوٹے“ سے پوچھا کہ اس نے کل کیا کھایا پیا تو بوٹا بولا کہ ڈاکٹر صاحب ہم آپ کو بتاتے ہیں کے ہم نے ناشتہ میں کیا  کیا کھایا تھا لیکن آپ اس سے پہلے ”ہمارا چینل سبسکرائب“ کریں۔”بوٹے“ کو بڑ بڑاتے دیکھ کر  بوٹے کی بیوی نے ڈاکٹر صاحب کو بتایا کہ انہوں نے روٹی اور سالن کھایا تھا۔ڈاکٹر صاحب نے پوچھا سالن کس چیز کا بنا ہوا تھا۔۔؟

 بوٹا بات کاٹتے ہوئے  بولا ڈاکٹر صاحب میں آپ کو بتاتا ہوں لیکن پہلے ”آپ ہمارا چینل سبسکرائب“ کریں۔

ڈاکٹر صاحب نے بوٹے کی زوجہ سے پوچھا کہ سالن کس چیز کا بنایا تھا تو بوٹے کی بیوی نے جواب دیا گوشت۔۔۔۔

ڈاکٹر صاحب نے مزید پوچھا کہ کس چیز کا گوشت۔۔۔؟

 درمیان میں بوٹا بات کاٹتے ہوئے ایک بارپھر بولا کہ میں آپ کو بتاؤں گا لیکن اس سے پہلے آپ” ہمارا چینل سبسکرائیب“ کریں۔بالآخر ڈاکٹر صاحب نے اپنا موبائل ”بُوٹے“ کے ہاتھ میں تھما دیا کہ چاچا توں پہلے آپ اپنا ”چینل سبسکرائب“ کر لے۔بوٹے نے چینل سبسکرائب کیا تو بیوی نے بتایا کہ گائے کا گوشت بنایا تھا تو اس میں گوشت کو گلانے کےلیے سوڈے کااستعمال مقدار سے زیادہ کیا تھا بوٹا نے اس گھورتے ہوئے پوچھا تم سوڈے کے بے تحاشا استعمال کی ترکیب کہاں سے لائی ہو۔۔۔؟

 اس نے کہا سرتاج آپ ہی کے یوٹیوب چینل سے۔بوٹے نے بیوی کو بے تحاشا گالیاں دینا شروع کر دیتا ہے اور ڈاکٹر صاحب وہاں سے نکلنے میں عافیت سمجھتے ہے اتنی اثناء میں بوٹے اور اس کی بیوی کی لڑائی کی ویڈیو بوٹے کے چینل سے اپلوڈ ہو چکی ہوتی ہے ڈاکٹر کے موبائل پہ نوٹیفیکیشن ملتے ہی ویڈیو یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ بوٹے اور اسکی بیوی کی لڑائی کی ویڈیو دیکھنے سے پہلے  ”ہمارا چینل سبسکرائب“ کریں

بشکریہ روزنامہ آج