ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 6500 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان میں سے 2000 زبانیں ایسی ہیں جن کے بولنے والے ایک ہزار سے بھی کم رہ گئے ہیں۔ یہ دن منانے کا مقصد ان زبانوں کی طرف توجہ دلانا ہے جن کی بقا خطرے میں پڑی ہوئی ہے۔
قیام پاکستان کے بعد قائداعظمؒ کی خواہش پر اُردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے پر مشرقی پاکستان میں احتجاج کیا گیا کیونکہ وہاں بنگالی بولنے والوں کی اکثریت تھی جو اپنی مادری زبان سے محبت کرتے تھے۔ عوام نے اردو کے ساتھ بنگالی کو قومی زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا جو اس وقت کی حکومت نے مسترد کر دیا۔
ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبا نے عام شہریوں کے ساتھ مل کر احتجاج شروع کر دیا۔ 21 فروری 1951 کو ایک احتجاج میں پولیس نے مظاہرین پہ گولی چلادی جس میں کئی افراد مارے گئے۔ مسلسل کئی سال کے احتجاج کے بعد 1956ء میں بنگالی کو اردو کے ساتھ قومی زبان بنا دیا گیا۔
اس کے بعد مشرقی پاکستان اور بعد میں بنگلہ دیش میں 21 فروری کو یوم تحریک مادری زبان کے طور پر منایا جانے لگا۔ 2000ءمیں ایک بنگالی نژاد کینیڈین شہری کی تجویز پر اقوام متحدہ نے ہر سال مادری زبانوں کا دن منانے کا فیصلہ کیا۔
ایک استاد نے اپنی کلاس سے سوال کیا کہ مادری زبان سے کیا مراد ہے تو ایک شاگرد نے جواب دیا کہ ماں جو عام طور جس بھی زبان میں بات چیت کرتی ہے وہی زبان مادری زبان کہلاتی ہے۔ایک بچہ گہری سوچ میں گم تھا استاد محترم اس کی خاموشی کو بھانپ گئے اور پوچھا کہ آپ کے ذہن میں کیا سوال جنم لے رہا ہے اس نے سوال کیا کہ سر جس کی ماں ہی ”گونگی“ ہو اس کی ”مادری زبان“ کون سی ہو گی۔یہ سوال بارہا جنم لے رہا ہے کہ ہماری قومی زبان اردو ہے اور مادر وطن پیدائشی طور پہ گونگے پن کا شکار ہے اس لیے اس کے سینے پہ فرنگی زبان کی مونگ دلی جا رہی ہے۔
مادری زبانوں کی تعداد بے شمار ہے لیکن چونکہ ہمارے معاشرہ سے تربیت کا عنصر ختم ہوتا جا رہا ہے اور مائیں بھی اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو چکی ہیں۔کاش مائیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے آج اپنے بچوں کو محبت ایثار برداشت صبر و تحمل تمیز و تہذیب ایمانداری اور دیانتداری کی زبان سکھائیں جس کی وجہ اس اخلاقی پستی میں ڈوبے ہوئے معاشرہ میں بہت زیادہ بہتری کے اسباب پیدا ہو سکتے ہیں
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 74 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے 66 مقامی زبانیں ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کی 40 فیصد آبادی کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع دستیاب نہیں۔
ایک طرف قومی زبان سے اتنا پیار ہے اور دوسری طرف ہم آج بھی غیروں کیطرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔قومی زبان کے ساتھ جو حشر ہم کر چکے ہیں اس کی نظیر نہیں ملتی قیام پاکستان کے لیے جو اغراض و مقاصد تھے ان میں سر فہرست اردو زبان کو رائج کرنا اور اس بیش قیمت اثاثہ کی حفاظت بھی شامل تھی۔ لیکن گزرتے وقت کیساتھ کیا کیا کھلواڑ کیے گئے،قیام پاکستان سے قبل اردو ہندی تنازعات اور قیام پاکستان کے بعد اردو بنگالی زبان کا تنازعہ شروع ہوا جس کے سدباب کے اردو اور بنگالی قومی زبانیں اور انگریزی دفتری زبان رائج کی گئی۔پاکستان دو لخت ہوگیا بنگلہ دیش بن گیا لیکن انگریزی تاحال دفتری زبان رائج ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے اردو کو دفتری زبان رائج کرنے بارے فیصلہ دے دئیے ہوئے عرصہ ہو گیا ہے لیکن تاحال ملک پہ راج کرنے والی ایک فیصد اشرافیہ آج بھی انگریزی زبان کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اگر ہم نے مہذب اور انتہائی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونا ہے تو ہمیں قومی زبان کو دفتری زبان رائج کرنا ہے اور ملک میں جاری تعلیمی نصاب کو اردو میں اشاعت کرکے معیار تعلیم بہتر کرنا ہو گا۔ اردو زبان کیساتھ علاقائی اور مادری زبانوں کو بھی نصاب کا حصہ بنانا ہو گا۔اگر ترقی کی منازل طے کرنی ہیں تو انگریزی کو بحیثیت زبان عربی جتنی اہمیت دینی ہو گی کیونکہ انگریزی بھی ایک زبان ہی ہے علم نہیں ہے۔اور اس خام خیالی سے باہر نکلنا ہو گا کہ انگریزی بولنے اور رٹنے سے ہم مہذب اور ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں۔
دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے اور ترقی کی نئی منازل طے کر رہی ہے۔ مہینوں پہ منحصر رابطے اب سیکنڈوں میں ہو رہے ہیں۔سالوں کی مسافتیں گھنٹوں اور منٹوں میں طے ہو رہی ہیں۔اقوام عالم میں معاشی علمی جدید ٹیکنالوجی پہ منحصر ترقی کے میدان میں مقابلہ کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں چائنہ کا شمار صف اول میں ہے لیکن وہاں کے نظام تعلیم سے لیکر دفتری اور قومی زبان حتی کہ سفارتکاری کی زبان بھی چائینی زبان ہی ہے۔ فر فر انگلش بولنے کو ترقی تہذیب علم نہیں گردانا جاتا۔ چائینہ کے صدور آج تک اپنی زبان میں بات کرتے ہیں امریکہ سے لیکر یورپ افریقہ آسٹریلیا جس براعظم میں قدم رکھتے ہیں چائینی زبان استعمال کرتے ہیں بڑے بڑے ممالک ان سے گفت و شنید کے لیے ترجمان کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔صف اول کے دیگر ممالک جن میں اٹلی جرمنی ڈنمارک ناروے ہالینڈ و دیگر شامل ہیں ان کی ترقی میں انکی قومی زبان نے کبھی کوئی روڑے نہیں اٹکائے ہیں۔اور نہ ہی ان کی ترقی برٹش و امریکن طرز انگلش کا کوئی کردار ہے
مادری زبان کا عالمی دن