صاحبوں سیاست بھی ایک عجب کھیل ہے ، خاص طور پر مملکت خداد کی سیاست، ہر روز ایک نیا بیانہ ایک نئی ٹرک کی بتی جسکے پیچھے سادہ لوح عوام چل پڑتے ہیں خاصکر وہ جنکے ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، پاکستان میں ووٹنگ کا روایتی طریقہ کا رائج ہے یعنی کاغذ پر پسندیدہ پارٹی کے نشان پر مہر لگائیں اور سکھ شانتی پائیں ، اس طریقہ کار کو خان حکومت نے خودکار مشینی طریقے سے بدلنے کی کوشش کی ،جسکو آج کی متحدہ حکومت یا گزرے ہوئے کل کی متحدہ حزب اختلاف نے مسترد کردیا ، وجہ ایک وزیر باتبدیر نے یہ بتائی کے ہمارے ووٹر کی اکثریت غیر تعلیم یافتہ ہے وہ اس مشینی ناہنجار طریقہ کار کا جمہوری استعمال نہیں کرپائیں گے، اب بیچارے وزیر باتبدیر سے کوئی پوچھے کے بھائی آپکی پارٹی پینتیس برس حکومت پر قابض رہی عوام کو اتنا تعلیم یافتہ نہ بناسکی کے جدید دور کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوسکے، اور مشین سے ووٹ ڈلوانا تو چھوٹا مسئلہ ہے، اصل میں تو عوام کو اتنا باشعور بنانا ضروری تھا کہ وہ صحیح اور غلط امیدوار کو پہچان سکیں ،جو کہ نہ ہوسکا آج بھی بریانی اور قیمے والے نانوں کا بول بالا ہے۔بات ہورہی تھی ساس بھی کبھی بہو تھی اور سیاست کے کھیل کی مماثلت کی ،ہماری تمام سیاسی پارٹیاں ہر روز ایک نیا بیانیہ ایک نیا شوشہ چھوڑتی ہے اور تمام جیالے عوام میڈیا کے تعاون سے اسکے پیچھے لگ جاتے ہیں،کبھی کسی کی ذاتی زندگی کی چھان بین کسکی بیٹی کس کے ساتھ بھاگی کبھی گھڑی بیچنے کے شوشے،، کبھی اس بات کا ڈھنڈورا کے مرشد نے پیرنی سے شادی کرلی ،کبھی کسی لیڈر کی گلابی انگریزی پر لعن طعن تو کبھی کسی لیڈر کو لگنے والی گولیوں کا حساب کتاب۔یہ کھیل گذشتہ پچھتر برس سے مملکت خداد میں جاری وساری ہے ،پر گزشتہ چار سال سے اپنے نکتہ عروج پر ہے ، اور تو اور کیا سیاست دان، محافظین ،معاشی ماہرین اور علما تک اس کھیل کا کردار بنانے گئے ہیں،کبھی ایکسٹنشن کا معاملہ زیر بحث ،تو کبھی اربوں کی جائداد کا حساب کتاب،کبھی کون بنے گا نیا سربراہ اسپر بایس کروڑ عوام کی نیندیں حرام ،کونسہ فیصلہ
آئین کے مطابق ہے اسپر قانونی داو پیچ سے بھرپور قانونی ماہرین کے بے حساب الجبرائی تبصرے ،رہ گئے معاشی ماہرین وہ بھی ایکدوسرے کو مورد الزام ٹہرانے میں پیچھے نہیں ،ایک کہتا ہے میں نے ڈیفالٹ سے بچایا پھر نکالے جانے پر کہتا ہے ملک ڈیفالٹ کرنے والا ہے،جبکہ دوسرا ماہر کہتا ہے کہ تمام پچھلے بیکار تھے ملک کا معاشی نظام بگاڑ کر چلے گئے ، علما بھی عوام کو سیدھی راہ پر ڈالنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں مگر ہر روز ایک نئی شاہراہ کھدی ہوئی ہوتی ہے ،
ساس بھی کبھی بہو تھی کا ڈرامہ ایک طویل عرصہ چلا اور بالآخر ختم ہوگیا اب لوگ تارک مہتا کا الٹا چشمہ کے گن گاتے ہیں،پر ہماری سیاست کا سیریل شاید قیامت تک چلے گا۔
المختصر عوام ،سیاست دان، علما ،ادارے ،اور معیشت دان سب ملکر سوچیں کے اس کبھی نہ ختم ہونے والے سیریل کا اختتام کیسے کیا جائے ہر کہانی کا ایک خوشگوار انجام ہوتا ہے، اور آخر میں سب ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں، نجانے پاکستانیوں کے نصیب کب جاگے گے ،جو دوسری ہجرت کرگئے وہ چین سے ہیں شاید کسی حد تک پر ملک کے لیے فکر مند،اور پہلی ہجرت والے ابھی تک پہلے والے خواب کی تعبیر کا انتظار کررہے ہیں ،
ہمیں اب کسی نئے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نئے سیریل کا آغاز کرنا ہوگا اور جلد ہی کہیں دیر نہ ہوجائے
250