صاحبوں ایک بڑے رہنما کا مشہور قول ہے "غربت خیرات سے نہیں عدل سے ختم ہوتی ہے"۔یقینا عدل و انصاف ہی ہمارے دین کی بنیاد ہے۔اسلام نے زکواۃ کا جونظام دیا ہے اسکی پورے عالم میں کوئی نظیر نہیں ملتی ہے۔ ماضی میں مسلم سلطنتوں میں ایسے ادوار بھی آے ہیں کہ زکواۃ لینے والا کوئی نہ تھا ،یعنی معاشی نظام بہترین اور عروج پر تھا۔اب یہ حال ہے کہ عوام تو زکواۃ ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے مگر حکومتیں عالمی امداد مانگنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔اسلام نے زکواۃ کے علاوہ صدقات و خیرات کی اہمیت پر بڑا زور دیا ہے اسکے فضائل مذہبی اور سماجی سطح پر کھل کر بیان کیے گئے ہیں۔کراچی شہر دنیا میں ان تمام کاموں میں اولین سطح پر آتا ہے۔ہمارے ملک میں مختلف سماجی تنظیموں نے خیراتی ادارے بنانے میں حکومتوں سے زیادہ ذمہ داری نبھائی ہے ، خیراتی ہسپتال ہوں یا دسترخوان ہر سطح پر بھرپور کام کیا ،مساجد کی تعمیر میں بھی مسلمانوں نے بھر پور حصہ ڈالا۔اب معاشرے کا جائزہ لیں تو مانگنے والوں کی تعداد میں برابر اضافہ ہورہا ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہا، اسکی ایک بڑی وجہ خراب معاشی حالات بھی ہیں،مگر اللہ نظام چلا ہی رہا ہے۔شہر کی سڑکوں پر کبھی کوئی ہاتھ میں بیلچہ لیے کام نہ ملنے کی وجہ سے مانگتا نظر آتا ہے تو کہیں پر کوئی نوجوان گود میں بچہ اور ساتھ میں زوجہ اور بے تاثر چہرہ لیے بیٹھا ہوتا ہے ،کہیں کوئی بزرگ چہرے پر زمانے بھر کی پریشانیاں سجائے جنت کی راہ دکھا رہا ہوتا ہے۔ مردوزن کے درمیان والے بھی پیچھے نہیں ہیں ،ضروریات تو انکی بھی ہیں،اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صدقات و خیرات سے ہسپتال بنائے جاسکتے ہیں ،مچھلی کھلائی جاسکتی ہے تو کیا مچھلی پکڑنا نہیں سکھا سکتے ،کچھ تنظیموں نے ہنرمندی سکھانے کا کام بھی شروع کیا ہے جو خوش آہند بات ،پر آمدنی اٹھنی خرچہ روپیہ معیشت کیسے آگے بڑھے گی ، خیرات کا پیسہ اگر کسی کا پیٹ بھرتا ہے تو اسکو خرچ بھی کرنا پڑتا ہے ایک معاشی پہلو خیرات و صدقات کا یہ بھی ہے،لیکن سوچنے کی بات یہ کہ اجتماعی حیثیت میں یہ تمام پیسہ ہسپتال ، یا دسترخوان بنانے کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے ،یا نہیں مثلا کوئی کارخانہ لگادیا جائے کوئی بڑا اسٹور کھول دیا جائے جس سے روزگار بھی جنم لے ،اور ہر شعبہ کے ہنرمند اس میں رضاکارانہ طور پر اپنا حصہ ڈالیں باعزت روزگار بھی ملے گا اور معیشت بھی رواں دواں ہوگی۔۔اب اسکی دینی وضاحت عالم دین زیادہ بہتر کرسکتے ہیں۔عموما یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ خیرات دینا زیادہ پسند کرتے ہیں لیکن مزدور سے پورا بھاو تاو کرتے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
342