243

انتخابات اور کرسی کے متوالے

صاحبوں انتخابات کی آمد آمد ہے ،ماحول میں انتخابی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے۔صرفِ ہم سچے باقی عقل کے کچے کی گردان پھر سے زور پکڑ رہی ہے۔قومی انتخابات ہوں یا صوبائی، ادارتی ہوں یا تعلیمی ، مملکت خداداد میں ہر انتخاب ایک ہی طرح کے اصولوں پر لڑا جاتا ہے جسکا بیانہ عوامی سطح پر زیادہ مقبول ہوتا ہے وہ بازی لے جاتا ہے۔ازل سے ہی حضرت انسان خودنمائی کی خواہش رکھتا ہے ،نمایاں ہونا مشہور ہونا زیادہ سے زیادہ امیر ہونا یا کچھ کر گزرنے کا جزبہ انسان میں بدرجہ اتم موجود ہے۔انہی عوامل نے سیاست کو جنم دیا ،گروہ بندی شروع ہوئی اور جدید سیاست میں جماعتیں بننا شروع ہوگئ ۔نظریاتی ،مذہبی عقائد پر مبنی کام شروع ہوئے ۔ زیادہ تر معاشروں میں اور اداروں میں بھلے وہ تعلیمی ہی ہوں دو طرح کے نظریات پائے گئے اور دو بڑی جماعتیں انتخابات میں ایکدوسرے کے مد مقابل نظر آتی ہیں ،چھوٹی جماعتیں یا آزاد امیدوار الحاق کرلیتے ہیں ۔ اور بیچارے غیر جانبدار لوگ وہ تنقید کا نشانہ بنتے ہیں ۔حالنکہ غیر جانبدار لوگ صرف ایمانداری سے اپنا کام کرنا چاہتے ہیں اور اچھے تخلیقی کاموں میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے مگر افسوس انہیں موقع نہیں ملتا۔ اب آتے ہیں کام کرنے انداز کی طرف ایک جماعت معاشی پہلوووں پر بہت زیادہ توجہ دیتی ہے،کے کماو اور معاشی اہداف حاصل کرو۔ایک جماعت کا نظریہ احتسابی ہوتا ہے ،وہ الزامات اور نکتہ چینی کی بنیاد پر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کے عوام پہلے معاشی سیاست دانوں کو موقع دیتے ہیں پھر احتسابی جماعت کی طرف رخ کر لیتے ہیں، پھر احتساب سے سوائے قانونی الجھنوں کے جب کچھ حاصل وصول نہیں ہوتا، بلکہ قانونی کارروائیوں کو بھگتانے میں خاصہ پیسہ بھی نکل جاتا ہے ،پھر دوبارہ ،پیسہ بننانے کا ہنر جاننے والے آنکھ کا تارہ بن جاتے ہیں ۔بہرحال یہ کھیل عرصہ دراز سے یونہی چل رہا ہے ۔بہر کیف عالمی سطح پر سوچ میں کافی تبدیلیاں آرہی ہیں روایتی انتخابات اب جدید دور میں داخل ہورہے ہیں اب لڑائی معاشی ہے ،معیشتیں اپنے وسائل بڑھانے اور مسائل کم کرنے میں لگی ہوئی ہے۔عوام کو بھی اندازہ ہوگیا معاشی لحاظ سے ملک یا ادارہ دونوں کا خودمختار ہونا اور مضبوط ہونا بہت ضروری ہے ،مگر نظام کا شفاف ہونا بھی ضروری ہے تاکہ بدعنوانی کے عنصر کو ختم کیا جاسکے ، کیونکہ دیکھا گیا ہے قانونی پیچدگیوں کیوجہ سے بعض اوقات عوامی بہتری کے کاموں میں بہت رکاوٹیں آتی ہیں اور عوام کا بڑا نقصان ہوتا ہے اور حزب اقتدار جماعتیں اپنے اقتدار کو طول دینے کیلیے ہر حربہ استعمال کرتی ہیں اور حزب اختلاف سب غلط ہے کا ڈھنڈورا پیٹتی رہتی ہے،ضروت اس امر کی ہے کے انتخابی نظام شفاف اور آسان ہو ،اور وہ تمام طریقے جن سے عوامی ترقی میں رکاوٹ آتی ہو،انکو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے ،تاکہ احتسابی اور معاشی ترقی میں توازن پیدا کیا جاسکے ۔ ہمیں ملکر اسپر سوچنا ہوگا ۔کی ذہانت کو فوقیت دینی ہے یا سیاست۔

بشکریہ اردو کالمز