254

بدلتے بیانات

صاحبوں پاکستانی سیاست میں سیاست دانوں کے بیانات میں سیاسی ضرورت کے تحت اتار چڑھاو آتا جاتا رہتا ہے۔آجکل ایک مثبت رویہ نظر آرہا ہے وزیر خارجہ جناب بلاول بھٹو صاحب کی نہایت متاثر کن تقریر جس میں اپنے بزرگوں کے سیاسی رویوں پر مثبت تنقید۔تو دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف کے بے ربط الفاظ میں بہتری کی باتیں ،تادم تحریر عوام ابھی امید پر ہی زندہ ہے۔دوسری طرف دیگر سیاست دان چاہے حکومت میں ہوں یاں حزب اختلاف میں یا ایوان سے بلکل باہر ، عوام کے مسائل اور ہریشانی کی فکر میں آنسو بہاتے نظر آتے ہیں۔بہرحال IMF سے قرضہ ملا حکومت خوش ہوئی عوام کی خوف اور بھوک کی آزمائش مزید بڑھ گئی ۔معاشی ماہرین خاصکر ہر دلعزیز شبر صاحب جو اپنی ہر تقریر میں آپکو ٹیکس دینا ہوگا ورنہ آپکی آنے والی نسلوں کو پریشانی ہوگی کی گردان کرتے نظر آتے تھے۔ وہ بھی موجودہ نظام سے سخت نالاں نظر آتے ہیں، مگر ٹیکس کی رسی دراز ہوتی ہی جارہی ہے ۔اور عوام میں نظریہ ہجرت فروغ پارہا ہے ،بہرحال درد عوام جاگ رہا ہے تو یہ ایک اچھی سوچ ہے ، پر ہر سیاستدان بشمول خانصاحب ہر سیاست دان ضرورت ایجاد کی ماں ہے کے نظریے پر عمل کرتا نظر آتا ہے۔
بہرحال مثبت رویوں کے بازگشت ایک بہترین سوچ اور بہترین تحریک ہے۔سیاست عوامی خدمت کا نام ہے ،وسائل اور مواقعوں کی منصفانہ تقسیم ہر مسئلے کا حل ہے، سبکی سیاست بھی پاکستان کے دم ہی سے ہے۔
یہ وطن سبکا ہے،سب ہیں پاسبان اسکے

بشکریہ اردو کالمز