452

"پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس میں کردار کی بے حرمتی کا گھناؤنا دھندہ: تفصیلات اور حقائق (پہلا حصہ)"

اس بچی کی عمر بمشکل 14 سال تھی اور وہ ساتھویں جماعت کی طالبہ تھی۔ ابھی کل ہی کی تو بات تھی، یعنی محض ایک دن قبل وہ میرے ساتھ ہنس کر نارمل انداز میں عزت اور احترام کے ساتھ باتیں کر رہی تھی، تاہم آج اس کے چہرے پر میں نفرت، سنجیدگی اور خوف کا ملا جلا تاثر دیکھ رہا تھا۔ یہ منظر پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے پرنسپل آفس کا تھا، میرے سامنے اس بچی کا والد بیٹھا مجھے خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا اور ساتھ میں وہ بچی ڈری اور سہمی سی کھڑی تھی۔ اپنے آپ کو پر اعتماد ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے وہ بچی بار بار مجھ سے آنکھیں چرا رہی تھی اور اس کا لب و لہجہ اور انداز و اطوار اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ اضطراب کا شکار ہے، جو "بیان" دے رہی ہے، وہ اس کو رٹوایا گیا ہے اور کسی نے زبردستی یا پھر بہلا پھسلا کر اسے یہ سب کہنے پر مجبور کیا ہے۔ قارئین کرام، وہ بچی کیا "بیان" دے رہی تھی ؟ کیوں دے رہی تھی ؟ کس کے اکسانے پر دے رہی تھی ؟ ایک ہی دن میں اس بچی کو کیا ہو گیا تھا ؟ ان تمام سوالات کے جوابات پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس میں برس ہا برس سے جاری ایک "گھناؤنے دھندے" میں پوشیدہ ہیں، جس کا آج میں اس کالم میں پردہ فاش کروں گا تاکہ پوری دنیا کو پتہ چلے کہ تعلیم کو آڑ بنا کر کون کون سے "کارنامے" سرانجام دیئے جا رہے ہیں اور ان "کارناموں" کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے بیگناہ، معصوم اور شریف لوگوں کی زندگیاں کیسے برباد کی جا رہی ہیں۔

یہ اکتوبر 2019ء کی بات ہے، مجھے لیبیا میں رہتے ہوئے کم و بیش 3 سال ہو گئے تھے۔ لیبیا کے حالات 2011ء کی جنگ کے بعد سے بدستور خراب تھے۔ مختلف جنگجو گروپس آپس میں طاقت کے حصول کیلئے لڑ رہے تھے۔ ملک میں جاری خانہ جنگی کے سبب ہر طرف عدم استحکام اور افراتفری کا ماحول تھا۔ یہی وجہ تھی کہ پچھلے تین سالوں میں مجھے ہزار کوششوں کے باوجود کسی اچھی کمپنی میں میری تعلیمی قابلیت کے موافق کوئی روزگار نہیں مل سکا تھا اور میرے مالی حالات سخت ترین زبوں حالی کا شکار تھے، جیسا کہ ایسے حالات میں عام طور پر ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے شدید مجبوری کے عالم میں اور کوئی چارہ نہ ہونے کے سبب میں نے پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس میں بطور "ایڈمنسٹریٹر" ملازمت شروع کی تھی۔ اس ملازمت کیلئے پاکستان ایمبیسی، طرابلس میں ایک اعلٰی عہدیدار، جو "ڈیفنس اتاشی" تھا، نے میرا باقاعدہ 2 گھنٹے انٹرویو لیا تھا، جس میں اس نے خود مجھے بتایا تھا کہ فلاں، فلاں شخص، فلاں فلاں طریقے سے چوری اور فراڈ میں ملوث ہے اور فلاں فلاں جگہ فلاں فلاں مسائل ہیں، جن کو آپ نے پکڑنا ہے، ان کی تفصیل بنانی ہے اور بعد ازاں ہمارے علم میں لانا ہے، تاکہ ان تمام مسائل کا سدباب کیا جا سکے۔

میں نے اپنی "جاب ڈسکرپشن" کے مطابق اپنی ڈیوٹی شروع کی اور ڈیوٹی کا آغاز "اکاؤنٹس اینڈ ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ" سے کیا، کیونکہ اس ڈیپارٹمنٹ کے بارے میں مجھے کچھ زیادہ "بریف" کیا گیا تھا۔ اس ڈیپارٹمنٹ کو ایک انتہائی کرپٹ اور بدنام زمانہ شخص چلا رہا تھا، جسے پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس میں کم و بیش 30 سال ہو چکے تھے اور اس دوران وہ متعدد بار چوری، غبن اور فراڈ کے کیس میں رنگے ہاتھوں پکڑا جا چکا تھا۔ پورے طرابلس میں اس کو آج دن تک "گنجا چور" یا "چوروں کی ماں" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مجھے لوگوں نے بتایا کہ اسے نوکری سے لاتعداد بار برطرف کیا جا چکا ہے، تاہم یہ مختلف "طریقے" آزما کر واپس آ جاتا ہے۔ اس شخص سے پہلی ہی ملاقات میں مجھ پر اس کی "قابلیت" عیاں ہو گئی تھی۔ یہ انتہائی کند ذہن اور نکھٹو انسان تھا۔ میٹرک فیل تھا اور جعلی تعلیمی اسناد پر چل رہا تھا۔ میں نے اپنی ڈیوٹی کے عین مطابق اس "خاندانی چور" سے پچھلے 3 مہینے کی آمدن اور خرچوں کی تفصیل (انکم اینڈ ایکسپینس سمری) متعدد بار مانگی لیکن اس نے مجھے ایک کاغذ تک حوالے نہیں کیا۔ تفصیل سے معاملات کو کریدنے پر مجھے معلوم ہوا کہ اس جاہل کو "اکاؤنٹنگ" یا "ایڈمنسٹریشن"  کی "الف، ب" تک معلوم نہیں تھی اور نہ ہی اس نے کوئی منظم ریکارڈ مرتب کیا ہوا تھا۔ بس برائے نام کسی "دیہاتی منشی" کی طرح ایک سادہ سے رجسٹر میں اپنی مرضی سے چند چیزوں کا اندراج کر کے رکھتا تھا، مثلاً ملازمین کی تنخواہوں اور خرچوں وغیرہ کا، باقی ہر طرف سے سب "خیر خیریت" تھی۔

علاوہ ازیں، اس بیغیرت انسان نے اپنی حرامزدگی، کمینے پن، حرامخوری، جہالت اور گھٹیا فطرت کی وجہ سے پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے لاتعداد شریف ملازمین کی ناک میں دم کیا ہوا تھا۔ اپنے آپ کو بدمعاش سمجھتا تھا۔ جو بھی ناجائز اور غلط کام ہوتا تھا، آنکھیں بند کر کے کر گزرتا تھا اور اوپر سے بدمعاشی بھی کرتا تھا۔ میرے لیئے سب سے زیادہ حیرت والی بات یہ تھی کہ اتنا سب کچھ جاننے کے باوجود کسی میں بھی اس گھٹیا النسل آدمی پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں تھی۔ میں نے وجہ معلوم کروائی تو پتہ چلا کہ یہ ذلیل النسل شخص دراصل پاکستان ایمبیسی، طرابلس کے اعلیٰ عہدیداروں کی "خاص خدمت" کرتا ہے۔ باقی آپ سمجھدار ہیں۔ آپ تمام پڑھنے والے اللہ پر یقین کریں، اس منحوس شخص کی شکل پر ایسی عجیب و غریب نحوست تھی کہ اس کو دیکھ کر نظروں کے سامنے غلاظت اور گندگی آ جاتی تھی اور ایسا محسوس ہونے لگتا تھا کہ چاروں طرف غلاظت اور گندگی بکھری پڑی ہے۔ میں نے اسی وقت دل میں تہیہ کر لیا تھا کہ اللہ رب العزت کے فضل و نصرت سے انشاء اللہ اس غلیظ انسان پر ہاتھ بھی ڈالوں گا، اسے "نشان عبرت" بھی بناؤں گا اور غریب اور شریف لوگوں کی جان بھی اس سے چھڑواؤں گا۔ بعد ازاں میں نے ایسا ہی کیا اور آج تک کر رہا ہوں۔ طرابلس میں مقیم پوری پاکستانی کمیونٹی میرے تمام اقدامات سے بخوبی واقف ہے۔

دوسری جانب "اکیڈیمکس ڈیپارٹمنٹ" تھا۔ وہاں جو "معاملات" چل رہے تھے، انہیں جان کر میں "اکاؤنٹس اینڈ ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ" کو بھول گیا۔ امتحانی پرچوں کو بیچنے اور بچوں کو بغیر امتحان دیئے اگلی کلاس میں پروموٹ کرنے کا "کاروبار" زور و شور سے جاری تھا۔ اس "نیک کام" کیلئے 6 سے 8 ہزار دینار فی سٹوڈنٹ ریٹ مقرر تھا۔ علاوہ ازیں، والدین کو مختف طریقوں سے ڈرایا دھمکایا جاتا تھا کہ اگر اپنے بچے کو ہمارے پاس ٹیوشن پر نہ رکھوایا تو امتحان میں فیل کر دیا جائے گا یا نمبر کم آئیں گے۔ اس طرح عام ٹیوشن سینٹر سے تین گناہ زیادہ رقم وصول کی جاتی تھی اور بیچارے والدین نہ چاہتے ہوئے بھی ادائیگی پر مجبور تھے۔ میں نے دیکھا، پرنسپل اور سیکشن ہیڈز کی ناک کے نیچے یہ سب کھلے عام ہو رہا تھا اور وہ آنکھیں بند کیئے بیٹھے تھے۔ دراصل اس تمام "واردات" کے کرنے والے وہ خود تھے، انہوں نے کسی کو کیا روکنا تھا۔ جتنی بھی "اجتماعی وارداتیں" یہ سب مل کر کرتے تھے، ان میں سے ہر ایک کو پہلے سے متعین شدہ "حصہ" بھی ملتا تھا اور انفرادی طور بھی ان کی "حرام کماؤ مہم" جاری تھی۔ میرے لیئے یہ سب کچھ دیکھنا انتہائی تکلیف دہ تھا کیونکہ اول تو اللہ پاک کے فضل و کرم سے میں ایسے گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں، جہاں پیدا ہوتے ہی دین اور تعلیم سے محبت اور وابستگی میرے خون میں شامل ہو گئی تھی۔ دوم، میں خود نرسری سے لیکر پوسٹ گریجویشن تک طالبعلم رہ چکا ہوں، مجھے بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ ایک طالبعلم کیلئے تعلیم کا حصول کیا حیثیت رکھتا ہے۔

میری ڈیوٹی میں ملازمین کی فائلیں چیک کرنا اور ان کو مکمل کرنا بھی شامل تھا۔ اس مقصد کیلئے جب میں نے پہلی 20 فائلیں منگوا کر دیکھیں تو میں حیران رہ گیا۔ فائلوں میں ایک سادہ سے "ملازمت فارم" کے علاوہ کچھ بھی موجود نہیں تھا اور وہ بھی ایسی حالت میں تھا کہ اس پر آدھے سے بھی کم کوائف درج تھے۔ فائلوں کی مناسب تکمیل اور انہیں ترتیب دینے کی خاطر میں نے تمام ملازمین کو ایک ایک کر کے بلانا شروع کیا، تاکہ ان سے تعارف بھی ہو جائے اور انہیں اپنے تعلیمی اور دیگر اسناد کی کاپیاں جمع کروانے کا بھی کہہ دیا جائے۔
قارئین کرام، آپ اللہ پر یقین کریں، وہاں جتنے بھی اساتذہ یا دیگر ملازمین کو میں نے تعلیمی اسناد لانے کو کہا، ان سب نے یا تو منہ بنا لیا یا لڑنا شروع کر دیا۔ یہ اس بات کی واضح دلیل تھی کہ ان سب کے تعلیمی اسناد جعلی ہیں۔ میں اپنی بات پر ڈٹا رہا کیونکہ یہ میری ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ علاوہ ازیں، میں نے اور بہت سے "معاملات" کا بھی مشاہدہ کیا، مثال کے طور پر، میں نے دیکھا کہ ہر کوئی اپنی من مانی اور بدمعاشی کر رہا تھا۔ اپنی ڈیوٹی کوئی بھی نہیں کر رہا تھا، بس ٹائم پاس اور حرام خوری پر سارا زور لگایا ہوا تھا۔ سکول کیلئے جو بھی ضرورت کا سامان منگوایا جاتا تھا، جیسے کہ صفائی ستھرائی کا سامان یا سٹیشنری وغیرہ، اس میں باقاعدہ "کمیشن" کھایا جاتا تھا۔ ذاتی اور یکتا مفادات کے پیش نظر ہر ایک نے اپنا اپنا الگ گروپ بنایا ہوا تھا اور اپنے اپنے مطلب کی غلیظ "سیاست" کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ پرنسپل صاحب کا اپنا گروپ تھا، سیکشن ہیڈز کا اپنا گروپ تھا، مختلف اساتذہ کے اپنے اپنے گروپس تھے، ایڈمن سٹاف کا اپنا گروپ تھا، غرض ایک عجیب و غریب گھٹن زدہ، بدبودار، گھٹیا، نحوست بھرا ماحول تھا اور حرام کمانے کی ایک ریس لگی ہوئی تھی، جس میں ہر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ اس کے علاوہ میں نے اور بھی "بہت کچھ" دیکھا، جو میں اپنے Vlogs میں کھل کر بیان کر چکا ہوں اور طرابلس میں مقیم پوری پاکستانی کمیونٹی نے دیکھا اور سنا ہے۔ باقی جتنے بھی میرے کالمز پڑھنے والے قارئین کرام ہیں، وہ خود سمجھ جائیں کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔ صحافتی قوائد و ضوابط اور ادب و آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میں یہاں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔

میری ڈیوٹی کا تیسرا دن تھا۔ میں نے اس دوران جو کچھ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اس کی ایک تفصیلی رپورٹ بنا کر میں نے اپنے پاس رکھ لی تھی کیونکہ پاکستان ایمبیسی، طرابلس میں انٹرویو لیتے وقت مجھے باقاعدہ طور پر تاکید کی گئی تھی کہ آپ سکول میں بطور "ایڈمنسٹریٹر" جن حالات کا بھی مشاہدہ کریں گے، 3 دن بعد اس کی ایک مکمل رپورٹ ہمیں دیں گے، جس کی بنیاد پر آپ کو آگے کا لائحہ عمل بتایا جائے گا۔ آپ کو اس حوالے سے بتاتا چلوں کہ ان 3 دنوں میں اپنا فرض سمجھ کر پرنسپل صاحب کو میں روزانہ کی بنیاد پر اپنے مشاہدے سے بدستور آگاہ کرتا رہا اور پرنسپل صاحب انتہائی وثوق اور اعتماد کے ساتھ مجھے بتاتے رہے کہ انہوں نے پاکستان ایمبیسی، طرابلس جا کر اعلیٰ عہدیداروں کو میری تمام کارکردگی کے متعلق تفصیل سے آگاہ کر دیا ہے، تاہم وہ سب جھوٹ، بکواس اور فریب تھا۔ اس بارے میں آگے جا کر تفصیل سے وضاحت کروں گا۔ تیسرے دن دوپہر کا وقت تھا، میں نے اپنی مرتب کی ہوئی رپورٹ اٹھائی اور پرنسپل صاحب سے پاکستان ایمبیسی، طرابلس چلنے کو  کہا تاکہ طے شدہ وقت پر وہاں جمع کروا دی جائے اور آگے کے لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورت کی جائے لیکن پرنسپل صاحب نے مجھ پر ایک عجیب و غریب "انکشاف" کیا۔ انہوں نے فرمایا، "ڈیفنس اتاشی صاحب نے "فرمان" جاری کیا ہے کہ آپ کو "ایڈمنسٹریٹر" کی سیٹ سے ہٹا دیا گیا ہے اور آپ کی جگہ ایک اور "محترم" کو یہ سیٹ دی گئی ہے"۔

پرنسپل صاحب کے اس "انکشاف" کے پیچھے کون کون سی پوشیدہ "کہانیاں" تھیں ؟ کون کون سے "کردار" اس میں ملوث تھے ؟ جس "محترم" کو میری جگہ لگایا گیا تھا، وہ کون تھا اور کیسے درمیان میں ٹپک پڑا تھا ؟ میں نے پرنسپل صاحب کا "انکشاف" سن کر کیا ردعمل دیا تھا ؟ اس کے بعد کیا ہوا ؟ یہ سب انشاء اللہ اس کالم کے اگلے حصے میں تفصیل کے ساتھ قارئین کرام کے سامنے رکھوں گا۔



 

بشکریہ اردو کالمز