پرنسپل صاحب کا "انکشاف" چونکا دینے والا تھا۔ مجھے بالکل بھی سمجھ نہیں آئی کہ یہ کیا ہوا ہے اور آخر اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے، کیونکہ میں تو محض اپنی ڈیوٹی کر رہا تھا اور وہ سب کچھ کر رہا تھا، جس کا مجھے کرنے کو کہا گیا تھا، پھر آخر ایسا کیا ہو گیا کہ محض 3 دن پہلے جو شخص( ڈیفنس اتاشی) میری تعریفیں کر رہا تھا، میری تعلیمی قابلیت کو سراہ رہا تھا، میرے نغمے گا رہا تھا اور مجھے چوروں پر ہاتھ ڈالنے کا کہہ رہا تھا، وہی آج بنا کسی وجہ کے اور کوئی نوٹس دیئے بغیر مجھے نوکری سے فارغ کر کے میری جگہ ایک ایسے شخص کو لگا چکا تھا، جو محض ایک معمولی سا پرائمری لیول کا استاد تھا اور جسے "ایڈمنسٹریشن" کی تعریف تک معلوم نہیں تھی۔ میں فوراً سمجھ گیا کہ معاملات اتنے سیدھے نہیں ہیں، جیسے نظر آ رہے ہیں۔ میں نے باریک بینی کے ساتھ اور تفصیل سے معاملات کی چھان بین کرنے کا اسی وقت اپنے آپ سے وعدہ کر لیا، تاہم پہلے میں خود اس دوغلے ڈیفنس اتاشی سے ملنا چاہتا تھا تاکہ اس کے دوغلے پن کی وجہ اس سے براہ راست جان سکوں۔ میں نے پرنسپل صاحب کو ساتھ لیا اور پاکستان ایمبیسی، طرابلس گیا لیکن وہ دوغلا ڈیفنس اتاشی مجھ سے چھپ گیا اور پرنسپل صاحب کی زبانی مجھے کہلوایا کہ اب ایک "انٹری ٹیسٹ" یعنی "تحریری امتحان" ہو گا، جس میں "ایڈمنسٹریٹر" کی سیٹ کیلئے اور بھی امیدوار حصہ لیں گے، لہذا آپ بھی شامل ہو جائیں، اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ سیٹ کسے دی جائے۔
میرے لیئے یہ ایک انتہائی مضحکہ خیز بات تھی، اتنی کہ میری ہنسی نکل گئی تھی۔ بلاشبہ آپ تمام قارئین کرام بھی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کس قدر بھونڈا مذاق ہے کہ ایک شخص کا دو گھنٹے تفصیلی انٹرویو ہوا، اس کو باقاعدہ بریف کیا گیا کہ کیا کیا کرنا ہے اور اب محض 3 دن بعد اس کو کہا جا رہا ہے کہ آپ "ایڈمنسٹریٹر" کی سیٹ کیلئے "انٹری ٹیسٹ" دیں گے۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنے نااہل لوگ پہلی مرتبہ دیکھے تھے کہ جن کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ "انٹری ٹیسٹ" ملازمت دینے سے پہلے لیا جاتا ہے، ملازمت دینے کے بعد نہیں لیا جاتا۔ دراصل ایک چھوٹا بچہ بھی باآسانی سمجھ سکتا تھا کہ یہ سیدھا سیدھا ایک بہانہ تھا، مجھے انہوں نے بطور "ایڈمنسٹریٹر" رکھنا ہی نہیں تھا اور یہ فیصلہ وہ کر چکے تھے۔ کیوں کر چکے تھے، یہ میں انشاء اللہ آگے جا کر تفصیل سے بتاتا ہوں، آپ پہلے "انٹری ٹیسٹ" کی روداد سنیں۔ اصولاً تو یہ ہونا چاہیئے تھا کہ میں فوراً "انٹری ٹیسٹ" سے انکار کر دیتا، تاہم مجھے نہ تو کسی بات کا ڈر تھا اور نہ ہی پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے ملازمین کی طرح میری ڈگری جعلی تھی، لہذا میں نے "انٹری ٹیسٹ" میں بیٹھنے کی حامی بھر لی اور میرا وہ دانشمندانہ فیصلہ آج دن تک میرا ساتھ دے رہا ہے۔ "انٹری ٹیسٹ" دو سیٹوں کیلئے ہوا۔ ایک "ایڈمنسٹریٹر" کی سیٹ کیلئے اور دوسرا "اکاؤنٹنٹ" کی سیٹ کیلئے، لہذا میں نے اپنی مرضی سے دونوں سیٹوں کیلئے "انٹری ٹیسٹ" دینے کا فیصلہ کیا۔میں نے دیکھا کہ "ایڈمنسٹریٹر" کی سیٹ کیلئے پرائمری لیول کے اس معمولی سے استاد کو بٹھایا گیا تھا، جسے "ایڈمنسٹریشن" کی تعریف تک معلوم نہیں تھی۔ دوسری جانب"اکاؤنٹنٹ" کی سیٹ کیلئے ایک جعلی ڈگری والی پرائمری لیول کی خاتون کو بٹھایا گیا تھا، جو پرنسپل صاحب کی رشتے دار تھی اور ان کے گاؤں سے تعلق رکھتی تھی۔ ان دونوں "قابل ترین امیدواروں" کی "قابلیت" طرابلس میں مقیم پوری پاکستانی کمیونٹی کو بہت اچھی طرح معلوم تھی اور آج دن تک معلوم ہے۔ میں آگے چل کر آپ کو تفصیل سے بتاؤں گا کہ ان دونوں "قابل ترین امیدواروں" کو میں میرے مقابل کس نے اور کیوں بٹھایا تھا۔
آپ "انٹری ٹیسٹ" کی طرف آئیں۔ جب "انٹری ٹیسٹ" مکمل ہو گیا تو میں نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت دو کام کیئے۔ اول، میں نے اپنے موبائل فون سے اپنے دونوں "انٹری ٹیسٹ" کی تصاویر لے لیں تاکہ اگر مجھے کہا جائے کہ آپ فیل ہیں، تو میرے پاس ثبوت رہے کیونکہ میں "ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم-بی-اے)" ڈگری ہولڈر ہوں۔"ایڈمنسٹریشن" اور "اکاؤنٹنگ" دونوں میرے اپنے مضامین ہیں۔ علاوہ ازیں، اللہ کے فضل و کرم سے ان دونوں فیلڈز میں مجھے 12 سال کا تجربہ ہونے کی بدولت مہارت حاصل ہے۔ دوسرا کام میں نے یہ کیا کہ "انٹری ٹیسٹ" کے بعد میں نے جان بوجھ کر دونوں "قابل ترین امیدواروں" سے الگ الگ ان کے "انٹری ٹیسٹ" کے متعلق پوچھا تو دونوں کے رنگ پیلے پڑھ گئے اور دونوں نے اعتراف کیا کہ انہیں "انٹری ٹیسٹ" کی کوئی سمجھ نہیں آئی۔ مثال کے طور پر، آپ اس بات سے اندازہ لگا لیں کی "اکاؤنٹنٹ" کی سیٹ کیلئے جعلی ڈگری والی پرائمری لیول کی خاتون امیدوار کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے "ماسٹرز آف کامرس" کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے، تاہم جب میں نے "انٹری ٹیسٹ" میں "اکاؤنٹنگ ایکویشن" کے متعلق آئے ایک سوال کے متعلق ان سے پوچھا، تو محترمہ فرمانے لگیں کہ "میں نے تو یہ کبھی پڑھا ہی نہیں ہے"، حالانکہ آپ "اکاؤنٹنگ" پڑھنے والے فرسٹ ائیر کے ایک عام سے طالبعلم سے پوچھ لیں، اس کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ "اکاؤنٹنگ" کی تقریباً ہر کتاب میں جو سب سے پہلی چیز پڑھائی جاتی ہے، وہ "اکاؤنٹنگ ایکویشن" ہے۔
بہرکیف، "انٹری ٹیسٹ" کے اگلے دن محترم جناب پرنسپل صاحب نے مجھے بتایا کہ "آپ کا "انٹری ٹیسٹ" پاکستان ایمبیسی، طرابلس کے افسران نے دیکھا تک نہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ "ایڈمنسٹریٹر" کی سیٹ پر اس پرائمری لیول کے معمولی سے استاد کو جبکہ "اکاؤنٹنٹ" کی سیٹ پر اس جعلی ڈگری والی پرائمری لیول کی خاتون (جو پرنسپل صاحب کی رشتے دار تھی) کو لگا دیا جائے۔ قارئین کرام، آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ یہ سراسر زیادتی اور انصافی تھی اور کھلے عام بدمعاشی تھی۔ وہ دو ٹکے کا بدعنوان، کرپٹ، دوغلا اور بدکردار ڈیفنس اتاشی نہ جانے اپنے آپ کو کیا سمجھ بیٹھا تھا۔ صرف وہ ہی نہیں، پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس کے تمام چوروں اور چورنیوں نے مل کر میری پیٹھ پر "وار" کیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ میرے ساتھ ایک "کھیل" کھیلا گیا ہے لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا کہ آخر میرے ساتھ یہ "کھیل" کیوں کھیلا گیا ہے ؟ کون، کون اس "کھیل" کا "کھلاڑی" ہے ؟ اس "کھیل" کو کھیلنے والوں کے پس پردہ مقاصد کیا کیا ہیں ؟ ان تمام سوالات کے جوابات جاننے کیلئے میں نے پلاننگ کے تحت پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس میں بطور استاد ملازمت شروع کر دی۔ اب ظاہری سی بات ہے، میں کوئی پرائمری لیول کا معمولی سا استاد تو تھا نہیں، نہ ہی یہ میرا شعبہ تھا، نہ ہی میں وہاں پڑھانے گیا تھا۔ میں نے وہاں رہ کر معلومات اکٹھی کرنی شروع کر دیں۔ تقریباً ایک مہینے تک مختلف طریقوں سے معلومات اکٹھی کرنے کے بعد جو حقائق میرے سامنے آئے، وہ حیران کر دینے والے تھے۔ میں نے کبھی سوچا تک نہیں تھا کہ تعلیم جیسے مقدس فریضے کو آڑ بنا کر ایسے ایسے گھناؤنے کام بھی کیئے جا سکتے ہیں۔ تمام حقائق آپ کے پیش خدمت ہیں۔
دراصل ہوا کچھ یوں تھا کہ جب میں نے پاکستان ایمبیسی سکول، طرابلس میں بطور "ایڈمنسٹریٹر" اپنی ڈیوٹی شروع کی تو وہاں موجود تمام چوروں اور چورنیوں کے ہاتھ، پاؤں پھول گئے اور ہر ایک کے پاؤں کے تلوؤں سے پسینے نکلنا شروع ہو گئے کیونکہ میں اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے کر رہا تھا۔ "اکاؤنٹس اینڈ ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ" کے "گنجے چور" کو اپنی فکر پڑ گئی کہ آج نہیں تو کل، میری چوری اور فراڈ پکڑا جائے گا اور نوکری جانے کے ساتھ ساتھ جو ہزاروں دینار کی حرام کمائی کا سلسلہ ہے، وہ بھی رک جائے گا۔ اسی طرح پرنسپل اور سیکشن ہیڈز معصوم بچوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل کر ہزاروں دینار حرام کما رہے تھے، لہذا ان کو اپنی فکر پڑھ گئی۔ جعلی ڈگریوں والوں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے کیونکہ ان پر کبھی کسی نے اس طرح ہاتھ نہیں ڈالا تھا۔ میں نے تو ایک طرح سے ان کی گردنیں دبوچ لی تھیں، تاہم میرا اللہ گواہ ہے، میں کسی کا بھی دشمن نہیں تھا، میں صرف اور صرف اپنی ڈیوٹی کر رہا تھا تاکہ جو رزق کماؤں، وہ حلال ہو۔ آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ "انفرادی فکر" کے علاوہ تمام چوروں اور چورنیوں کو "اجتماعی فکر" بھی لاحق ہو گئی تھی، کیونکہ سب کے سب ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے اور مل جل کر "وارداتیں" کرتے تھے۔ انہیں صرف اپنی ہی نہیں، دوسروں کی فکر بھی کھا رہی تھی کیونکہ ان سب کو بہت اچھی طرح معلوم تھا کہ اگر ہم میں سےکوئی ایک بھی گرفت میں آ جاتا ہے، تو ہم سب کا پکڑے جانا بھی یقینی ہے، لہذا ایک دوسرے کے مخالف ہونے کے باوجود سب چور اور چورنیاں آپس میں مل گئے اور مشترکہ طور پر مجھے "ایڈمنسٹریٹر" کی سیٹ سے ہٹانے کہ کوششیں شروع کر دیں۔
اس ضمن میں کی گئی "کوششیں" ملاحظہ فرمائیں۔ سب سے پہلے "گنجے چور" نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ چونکہ یہ بدنسل کی اولاد اپنے "عاشق" یعنی اس دوغلے ڈیفنس اتاشی کی "خاص خدمت" کیا کرتا تھا، لہذا مجھ پر وار کرنا اس کیلئے بہت آسان ثابت ہوا اور محض ایک "رات" میں "گنجے چور" نے میری سیٹ پر لات مار دی۔ دوسرا کام "گنجے چور" نے یہ کیا کہ جس دن میری ملازمت ختم ہوئی، اس شام اس نے مجھے فون کیا اور جان بوجھ کر مجھ سے ہمدردی بھری باتیں کر کے مجھے مشتعل کر دیا۔ میں پہلے ہی اپنے ساتھ ہوئی ناانصافی کی وجہ سے شدید ترین غصے میں تھا اور مجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ میرے ساتھ یہ سب کیوں ہوا ہے اور اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، لہذا میں نے غصے میں اس دوغلے ڈیفنس اتاشی کو ماں، بہن کی گالیاں دیں۔ میں اس وقت "گنجے چور" کی "اصلیت" بالکل بھی نہیں جانتا تھا اور مجھے بالکل معلوم نہیں تھا کہ "گنجا چور" لوگوں کے فون اور باتیں ریکارڈ کرتا ہے۔ "گنجے چور" نے میری وہ گالیاں ریکارڈ کر کے اپنے "عاشق" کو بجھوا دیں۔ میری ملازمت تو ویسے بھی نہیں رہی تھی، "گنجے چور" نے مجھے بلاوجہ بدنام کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تیسرا کام "گنجے چور" نے یہ کیا کہ طرابلس میں 30 سال سے مقیم ایک مشہور زمانہ چورنی کو استعمال کرتے ہوئے اس سے میرے خلاف پاکستان ایمبیسی، طرابلس فون کروایا۔ وہ چور کی بچی میری پرانی دشمن تھی، لہذا اس کو موقع مل گیا اور وہ میرے خلاف "گنجے چور" کے ہاتھوں بری طرح استعمال ہوئی۔
"گنجے چور" کے علاوہ اور کون، کون مجھے "ایڈمنسٹریٹر" کی سیٹ سے ہٹانے میں ملوث تھا اور ان کے پس پردہ مقاصد کیا تھے ؟ جس مشہور زمانہ چورنی کو "گنجے چور" نے میرے خلاف استعمال کیا، وہ میری دشمن کیوں تھی اور میرے خلاف استعمال ہونے کی پاداش میں اس نے کیا نتائج بھگتے ؟ اس کے آگے کیا کیا واقعات پیش آئے ؟ یہ سب کچھ بمع مذید تفصیلات اور حقائق انشاء اللہ اس کالم کے اگلے حصے میں عرض کروں گا۔
