ارض پاک میں ہر جگہ "کورونا کورونا" کا رونا رویا جارہا ہے۔ تو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ نیا لکھنے کو من کر رہا ہے۔ پچھلے ایک ہفتے سے"سیلف قرنطینہ" میں عجیب خیالات کا ایک بے ہنگم رش، ہر طرف خوف و ہراس، بازار ویران، اور سڑکوں پر آوارہ کتوں کا مٹر گشت، جہاں پہلے سڑک پار کرنے سے پہلے سو بار سوچنا، ادھر ادھر دیکھنا، خوب احتیاط اور سنبھال کر سڑک پار کرنا پڑتی تھی۔ اب وہ سب آسانی سے نہیں بلکہ آنکھیں بند کرکے کیا جارہا ہے۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں مقید ہیں۔ سوچ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ کہ چینل تبدیل کر لیا جائے، ایک ہی بات سن سن کر دل اچاٹ ہوگیا ہے۔ توکچھ نیا لکھا جائے تاکہ کم از کم کوئی سر کا بوجھ ہلکا ہو۔ جسیا کہ فیض احمد فیض لکھتے ہیں
"اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا"
ہاں جی تو بالکل کچھ ایسا ہی ہے کہ مملکت خداداد میں اور بھی مسائل ہیں کورونا کے علاوہ، اسی سلسلے میں آج آپ کو اپنے وطن کی مختصر لفظی سیر بھی کرواتا ہوں اور وہاں کے مسائل سے آگاہ بھی کرتا ہوں۔
میں اکثر سنتا ہوں اور میں اس کو اپنا ذاتی تجربہ بھی اگر کہہ دوں تو برا نہ ہوگا۔ کہ اگر کسی جگہ کی آپ کو قدر محسوس کرنی ہو تو اس سے ذرا دوری اختیار کیجیئے،،،، اور پھر دیکھیئے کیسا لطیف احساس پیدا ہوگا آپ کے دل میں اس جگہ کے لیے۔ بالکل ایسا ہی کچھ میں محسوس کررہا ہوں اپنے شہر جعفرآباد کے لیئے جو کہ مست توکلی کے دیس یعنی بلوچستان کا پسماندہ ترین علاقہ ہے۔ مگر وہاں کے لوگ بڑے دلوں کے اور پسماندہ نہیں ہیں۔ کہنے کو اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ احساس کمتری، بنیادی حقوق سے محروم، اس صوبے کے لوگ نہایت شاندار روایات کے حامل ہیں۔ ابھی چند منٹ پہلے ایک مہربان نے واٹس ایپ پر بلوچی گانا بھیجا، جسے سننے کے بعد شہر اقتدار میں بیٹھے اسوقت میں آپ کو اپنے گاوں سے کوئٹہ کا سفر کروا رہا ہوں۔ نصیر آباد ڈویثرن کے ان وسیع میدانوں کو دیکھ رہے ہو، جہاں شاید کوئی اکا دکا انسان ہی نظر آئے۔ پانی کا دور دور تک کوئی نام و نشان ہی نہیں۔ زمیں پٹھی ہوئی، دور دور تک نہ کوئی درخت، نہ کوئی حیوان، بس یہ وسیع و عریض حدود تک کھلے میدان اپنی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت دے رہے ہیں۔ ( جو کہ کچھی کینال اور پٹ فیڈر کینال سے آباد کیئے جاسکتے ہیں) مگر آباد ہوں تو کیوں؟ بلوچستان کہ یہ سادہ لوح عوام معاشی فائدہ حاصل کریں تو کیوں؟
مگر خیر رہنے دیجئیے میں آج آپ کو اپنے وطن کی سیر کروانے نکلا ہوں۔ مگر ساتھ میں اپنی محرومیوں کا ذکر کرنا اس لیئے مفید ہے کہ مجھے "غدار" نہ کہا جائے۔ کیوں کہ بنیادی حق مانگنا "غداری" نہیں۔ ایک گھنٹہ اور 30 منٹ کا سفر طے کرنے کے بعد اب ہم ایشیاء کے سب سے قدیم شہر (سبی) اور جسے اسی نسبت سے ایشیاء کا سب سے گرم ترین شہر کا اعزاز بھی اسے ہی حاصل ہے۔ اس سے گزر رہے ہیں۔ مگر یقین کیجیے یہ اب بھی کئی حوالوں سے قدیم ہے۔ مگر ان محرومیوں کا مختصر ذکر کر چکا ہوں۔ اس کے علاوہ اور بھی ہیں مگر وہ سب کہنے کی اجازت یہ ریاست مجھے نہیں دیتی۔ میں صرف اپنے اندر آزاد ہوں اور باہر قید!!!!!!! کبھی آپ خشک پہاڑ دیکھے ہیں۔ ان کے اوپر بکریوں کا ایک ریوڑ جو پہاڑ پر کہیں خوش قسمتی سے اگر کوئی درخت ہو تو اس پر جمع ہوتی ہیں۔ کتنی بھلی لگتی ہیں۔ اور پھر وادی بولان کے میٹھے چشموں کا گہرا پانی۔۔۔۔۔۔ سونے پر سہاگا ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں لکھنے کے لیئے سب سے مفید جگہ پہاڑ ہیں یا پھر ان کے ساتھ بہتے یہ چشمے ہیں۔ یہ آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کو بالکل اپنے جیسا شفاف بنادیتے ہیں۔ بہر حال اگر ان خشک پہاڑوں کے درمیان بل کھاتی ہوئی ریل کی پڑڑیاں ہوں تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ اس حوالے سے خوش قسمت ہوں کہ مجھے دو تین مرتبہ کوئٹہ سے اپنے گاوں تک ریل کا سفر کرنے کا موقع ملا۔ نہایت ہی شاندار سفر، پہاڑوں کے درمیان بل کھاتی اور آہستہ چلتی ٹرین اور پھر انگریز دور کی سرنگیں۔ بہت کمال کا منظر ہوتا ہے۔ ( مگر یہ بات قابل غور ہونے کے ساتھ قابل تشویش بھی ہے کہ یہ سب انگریز سرکار کی مہربانیاں ہے کہ انھوں نے اس صوبے کی غریب عوام کو یہ سہولت دے دی۔ ورنہ اس کی امید نہ تھی۔ یہاں پر مرزا غالب کا ایک شعر یاد آتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
بلوچستان واقعی بہت خوبصورت ہے، اس کے خشک پہاڑ نہایت ہی دلکش ہیں۔ ان کی خشکی میں ایک عجیب اپنائیت ہے۔ جو مجھے کبھی شہر اقتدار کی "مارگلہ" پہاڑی کا نہیں ہونے دیتی۔ اس کے علاوہ اگر آپ کوئٹہ کے بالائی علاقے، کچلاک، خانوزئی، زیارت، لورالائی سے لیکر ژوب تک کا سفر کریں تو یہ تمام علاقہ قدرتی معدنیات اور بیش بہا باغات سے بھرے ہوئے علاقے ہیں۔ مجھے یاد ہے۔ میں اپنے کالج کیطرف سے ایک دفعہ سنجاوی ڈیم کے سیر و تفریح کے لیئے گیا تھا۔ وہاں پر موجود سیب کے باغات میں سے ایک سیب لیا تھا۔ مجھے آج بھی اس سرخ سیب کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے۔ کس قدر شیریں تھا!!!!!!!
سفر بخیر اب ذرا زبان زدعام مسائل کا ذکر کر لیتے ہیں۔ دارلحکومت میں موجود پاکستان کے دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے واے میرے کئ جاننے والے، دوست احباب اکثر مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ "بلوچستان کے حالات کیسے ہیں؟ وہاں پر لوگوں کو لوٹا جاتا ہے؟ وہاں پر تو دہشتگردی ہے؟ وہاں پر تو لوگوں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر مارا جاتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ جیسے سوالات!!!!!!! مجھے ذہنی کوفت میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ یہ لوگ آخر کیوں میرے دیس کے بارے میں ایسا سوچتے ہیں۔ آج سوچا ہے کہ ان کو جواب دیا جائے۔ بلوچستان کے لوگ جن کے گھر سے گیس نکلتی ہے وہاں پر موجود لوگ اس قدرتی نعمت سے محروم ہیں۔ وہاں کے لوگ بھلا کیسے دہشتگرد ہوسکتے ہیں؟ وہاں پر بنیادی سہولیات نہ ہونے جیسے ہیں؟ وہ لوگ کیوں دہشتگرد بنیں گے؟ وہاں پر تعلیم نہیں، پہننے کےلیئے انہیں مناسب چپل موجود نہیں، کبھی دیکھو میرے بلوچستان کے بچے کو، کبھی پڑھو اس کا معصوم چہرہ، تمھیں مایوسیوں کی ان گنت داستنیں ملیں گی۔ وہ کیسے دہشتگرد بن سکتا ہے؟(اتنے مسائل ہونے کے باوجود اور اتنی ناانصافیوں کے بعد بھی یہ بات میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ جس ملک میں مست توکلی جیسا درویش دفن ہو، جس کا پیغام صرف امن ہی امن تھا، اس کا باسی دہشتگرد نہیں ہوسکتا، ہاں مگر اپنے حققوق کے لیئے ضرور لڑ سکتا ہے۔ آواز اٹھا سکتا ہے۔ اور یہ اس کا آئینی حق ہے۔ مگر افسوس یہ صرف شامل دستور ہے۔ ہم پر لاگو نہیں ہوتا۔ تو ایسے میں خوشحال بلوچستان کا نعرہ صرف اور صرف یہاں کی سادہ عوام کے ساتھ دھوکہ ہے۔ اور بڑی معذرت کیساتھ یہ عرض کرتا چلوں، محرومیوں کو اگر دیکھنا چاہتے ہیں۔ تو کبھی میرے وطن کا چکر لگائیے، جو کہ ہر قدرتی وسائل سے بھرا پڑا ہے۔ جس کے پہاڑ سونا ہیں۔ وہ پھر ایسی محرومیوں کا شکار کیوں ہے۔ اس کا جواب وہاں کا باسی آپ کو اپنی زبانی بتائے گے۔ میرا دیس تو امن کا دیس ہے۔ وہاں کے لوگ بے شک محرومیوں اور مسائل سے گھرے ہوئے ہیں۔ مگر وہ آج بھی آپ کا کھلے دل سے استقبال کریں گے۔ لہذا سیر کے ساتھ ساتھ مسائل پر توجہ کر لیجیئے اور "مست توکلی کے دیس" کے بارے میں اپنے ابہام کو ختم کیجیئے۔ مزید مسائل پر لکھنے کےلیئے قلم ساتھ نہیں دے رہا۔ اپنے مضمون کا اختتام حسب توقع کسی قول یا پھر کسی شعر پر کرتا ہوں تو آج جناب جون ایلیاء کا ایک شعر پیش خدمت ہے۔
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں