488

کورونا اور ہم


کارل مارکس، ہیگل، کانٹ، افلاطون، ارسطو کے فلسفے کو پڑھنے کے بعد دماغ عام حالت سے کچھ بڑا بڑا سا محسوس ہونے لگا ہے۔ ذرا تھوڑی دیر کے لیئے سکون چاہیے تھا۔ بھلا ہو اس میڈیا کا جس نے چاروں جانب کورونا کورونا کا شور مچا رکھا ہے۔ اسی صورت حال سے نمٹنے کے لیئے مملکت خداداد کے قانون ران اور یہاں کے عظیم دانشواران جن میں مختلف طبقہ ہائے فکر رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ وہ تمام دن رات اس وبا کو پاکستان سے نکالنے کے لیئے مصروف عمل ہیں۔ ان کا نعرہ ہے۔ "کورونا جا پاکستان سے نکل جا"۔ یہاں پر نام لینا اس لیئے مناسب نہیں سمجھتا کہ مادر وطن میں بسنے والی عوام کو کوئی کام آئے نہ آئے، لعن طعن کرنے میں پہلے نمبر پر ہے۔ اور کمال ہنر دیکھئیے ان کے پاس کوئی معقول قسم کی گالی بھی نہیں۔ منٹو مرحوم کا ایک قول ہے کہ 
"میں اس آدمی سے ہر گز ہر گز اپنا سر پھڑوانے کیلئے تیار نہیں جسے سر پھوڑنے کا سلیقہ ہی نہ آتا ہو، اگر آپ کو یہ سلیقہ نہیں آتا تو سیکھئے! دنیا میں رہ کر جہاں آپ نمازیں پڑھنا، روزے رکھنا اور محفلوں میں جانا سیکھتے ہیں، وہاں پتھر مارنے کا ڈھنگ بھی آپ کو سیکھنا "۔ 
اس لیئے بندہ بشر کو اپنی زندگی عزیز ہے۔ تو بس قارئین پڑھتے رہیے سمجھنے والے سمجھ گئے ہوں گے۔ یہاں کن دانشوروں کا ذکر چل رہا ہے۔ پاکستان میں آکر کورونا کو ایک خوشی نصیب ہوئی ہوگی۔ کجا نیوز چینلز، کجا اخبار جہاں نگاہ پڑتی ہے "کورونا ہی کورونا کا رونا"

کورونا وائرس ہو یا کوئی دوسری آفت ہو، جب سے ہوش سنبھالا ہے تب سے بس ہر آفت پر سیاست دیکھی ہے۔ اس کو ہم اپنی نالائقی کہیں یا پھر کچھ اور بہر کیف وطن عزیز پر جتنے بھی مصائب آئے وہ سب کے سب سیاست کی نظر ہوئے۔ حزب اختلاف حکومت وقت کی کھال اتارتی ہے تو ویسا ہی حال حکومتی نمائندگان حزب اختلاف کا کرتے ہیں۔ مگر کوئی تجویز نہیں آتی کسی طرف سے، ہر جگہ اور ہر طرف صرف لفظی گولہ باری کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اور ایسے میں کہاں پیچھے رہنے والے ہیں وہ بڑے دماغوں والے عظیم دانشواران جنھیں کہیں بال، تو کہیں خواب نظر آتے ہیں، یا پھر وہ لوگ جو رات کو بے وقت اذانیں دے کر صبح پھر وہی کام کرنے شروع کردیتے ہیں کہ خدا کی پناہ کون کہے کہ خدا سے ان کو ڈر لگتا ہے۔ کبھی کبھی یہ عجیب سی منت گھڑت خبریں سن کر دل کرتا ہے کہ کچھ عرصے کے لیئے اس دنیا سے دور کسی دوسرے سیارے چلا جاوں، مریخ ہو آوں۔ کچھ پاپ دھو آوں، مرنے سے تھوڑا پہلے جی لوں۔ یا پھر کوئی ایسی صورت نکل آئے کے وبا آنے سے پہلے ان تمام عظیم فلسفیوں کو کسی بوتل میں بند کیا جائے۔ سچ پوچھیے اگر کورونا کو زبان ہوتی تو وہ یہ ضرور کہتا پاکستانیو! خدا کے واسطے میری جان چھوڑو۔

کورونا ایک عالمی وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ مجال ہے کہ ہماری صحت پر کوئی اثر ہو، سیاستدانوں سے عظیم دانشوروں تک سب نے اپنی اپنی دکان چمکا رکھی ہے اور بے چاری عوام کو چونا لگائے جا رہے ہیں۔ سیاستدان امداد کے نام پر ان کو چورن بیچتے ہیں تو دانشواران انھیں دیسی ٹوٹکوں کا ایک نسخہ عنایت کردیتے ہیں۔ کہیں کوئی ڈرا دھمکا کر کسی اور رستے لگا دیتا ہے۔ اب سنتے جائیے کہ ہمارے ہاں اس وبا کی دوا کے بارے میں کافی دیر پہلے سے بتائی گئی تھی۔ اوہ جناب! خدا کے واسطے اس غریب اور پسی ہو قوم پر رحم کھاو۔ اس نے کبھی اپنی حالت نہیں بدلنی مگر تم تو رحم کھاو۔ 

ہمارے کچھ حضرات کو مسجدوں کی بندش پر اعتراض ہے کہ حکومت وقت نے تمام دوسری چیزیں تو کھلی رکھی ہیں، لیکن مساجد پر تالا بندی کردی، تو حجور جان کی امان پاوں تو گزارش ہے کہ اس مصیبت کے وقت آپ عبادت گھر میں بھی کرسکتے ہیں۔ مگر روزمرہ کی چیزیں اگر نہیں ملیں گی تو عوام فاقوں سے مر جائے گی۔ میں دینی اعتبار سے اتنا واقف نہیں مگر یہ ضرور کہوں گا کہ ریاست کے احکام کی پابندی لازمی ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ اس وبا کے تدارک کے لیئے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنائے۔ اور دانشواران سے گزارش ہے کہ گمراہی سے لوگوں کو آگاہی کی طرف لے آئیں۔ 

احمدبلال 5 اپریل 2020

بشکریہ اردو کالمز