517

خدارا ہمارے حال پر رحم کریں، ہمیں معاف کیجیئے۔


بات سائسنی نظریے اور سائنسی حقیقت سے شروع کرتے ہیں۔ نظریات پر مشتمل بات کو ایک واضح مثال سے اگر پیش کیا جائے تو یوں کہا جاتا ہے کہ کائنات کی پیدائش کے بارے میں مختلف سائنسدانوں کے اپنے اپنے نظریات ہیں، کسی نے کائنات کو ایک بگ بینگ کا پیش خیمہ قرار دیا، تو اسی طرح کچھ سائنسدان اسے بہت سارے بگ بینگ کا پیش خیمہ قرار دیتے ہیں۔ اس لیئے تخلیق کائنات کی بات ابھی تک سائنس کی دنیا میں ایک نظریے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور ابھی تک اسے حقیقت تسلیم نہیں کیا گیا۔ کیوں کہ سائنسی دنیا میں نظریات کا آنا کوئی نئی بات نہیں، سائنسی انہی نظریات کے بنیاد پر چلتے ہوئے حقیقت کی متلاشی ہے، اگر تخلیق کائنات کے حوالے سے نظریات میں تبدیلی آئے گی تو انہی بنیادوں پر نئی تحقیق ہوگئ، جس کے ذریعے نئے نظریات جنم لیں گے، پرانے نظریات خود بخود اپنی وقعت کھودیتے ہیں۔ 

اسی طرح اگر ہم سائنسی حقائق کی بات کرتے ہیں تو اس کی مثال یوں لے سکتے ہیں کہ ہائیڈروجن اور آکسیجن ملکر ایک تیسری چیز بناتے ہیں جسے ہم پانی کہتے ہیں۔ تو یہ ایک سائنسی حقیقت ہے، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی کہ ہم نے تجربہ کیا، ایک بار نہیں کئی بار ہم تجربہ کرچکے ہیں۔ تو لہذا یہ بات اب ایک سائنسی حقیقت کی بنیاد پر تسلیم کی جاتی ہے۔ مگر بات یہاں پر کشور حسین کی چند کرشماتی ہستیوں کی ہے جن کی اپنی تو کوئی تحقیق سرے سے ہے ہی نہیں اور نہ ہی اس بارے میں کوئی مطالعہ بھی ہے۔ مگر چونکہ ان کے پیر صاحب کا جاری کردہ فرمان ہے تو یہ واقعی سچ ہی ہے۔ تو آپ آنکھیں بند کرکے اس پر عمل پیرا ہوں، خبردار اگر پیر صاحب، کی شان میں کوئی گستاخی کی، پیر صاحب دنیا کا پہلا اور آخری سچ ہیں۔ جی تو یہ ان پیر صاحب کی بات ہورہی جن کی سائنسی تحقیق اور کارنامے آجکل زبان زد عام ہیں۔ میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہر تحقیق اور نئی بات میں مذہب کی ٹھیکداری کیسی؟

حضرت صاحب اپنی اعلی علمی اور روحانی فیض کی رو سے فرماتے ہیں کہ زمین ساکن ہے اور سورج زمین کے گرد گردش کر رہی ہے۔ ( مان لیتے ہیں کہ یہ حضرت صاحب کا روحانی کمال ہے) یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ ان کے مریدین جو اندھی تقلید سے ایک بھیٹر چال چل رہے ہیں۔ کیا ان کی اس پر کوئی اپنی تحقیق ہے؟ میری دانست میں تو انھوں نے کبھی اس بات پر غور کرنے کی زحمت ہی نہیں کہ اس بات کی کوئی تصدیق فرما لی جائے۔ مگر وہ کرتے بھی کیوں؟ کیوں کہ اعلی حضرت کا فرمان حرف آخر اور اس دنیا کا آخری سچ جو ٹھہرا!!!!! یہ غلطی ان کی نہیں بلکہ ہماری سطحی سوچ کی ہے۔ ہم اتنے راسخ العقیدہ ہیں کہ ہم نے صرف ایک ہی نقطہ نظر پر اندھا اعتماد کرنا ہوتا ہے۔ مغربی معاشرہ اتنی تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور تحقیقی دنیا میں آج وہ ہم سے اتنا آگے نکل چکے ہیں کہ ہم ان کے مقابلے کا تصور ہی نہیں کرسکتے۔ اور ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک چار سو سال پہلے کے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں۔ جو کہ اب ایک سائنسی حقیقت بن چکی ہے۔ آج سے چار سو سال پہلے اطالوی سائنسدان، ماہر ریاضیات اور فلکیات گلییلو نے اس نظریے کو مسترد کردیا کہ زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ اس نے دوربین کی مدد سے اس چیز کا مشاہد کیا اور اس وقت کے سائنسدان کوپرنیکس کے نظریے کو تقویت دی کہ زمین ساکن نہیں بلکہ سورج کے گرد گردش میں ہے۔ اور اسی کی پاداش میں اسے سزا سنائی گی اور کلیسا نے اسے سزا سنا دی۔ 

یہ بات اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں اندھی تقلید کے حمایتی جاکر کتابوں کا مطالعہ کریں اور نظریات کے بنا پر مشاہدہ کریں۔ مگر خدا کے لیئے اس بھولی بھالی عوام کو گمراہ مت کریں اور ان کا ایسا استحصال مت کریں۔ گلیلو سے تو معافی منگوائی گئی کہ اس نے کلیسا کے خلاف جاکر یہ کام کیا۔ مگر بعد میں اسی کلیسا نے اس کے نظریات کو مان لیا۔ مگر افسوس اس وقت گلیلو نہیں تھا۔ ہمارے علما حضرات کو نہ جانے کیوں تحقیقی باتیں ہضم نہیں ہوتیں۔ کسی نے کیا خوب کہا کہہ مولویوں کے صرف دو نظام ہی درست کرت ہیں ایک بچے پیدا کرنے کا نظام اور دوسرا ہاضمے کا نظام۔ اس کے علاوہ وہ ہر چیز سے پاک پوتر ہیں۔

یہاں اس بات کا ذکر شاید لازمی ہے کہ ہماری ترجحیات یہ نہیں کہ ہم نے ترقی اور تحقیق کا راستہ چھوڑ دیا، ہم نے غور و فکر کرنا چھوڑ دیا۔ ہم مغربی معاشروں کے مقابلے میں بالکل پیچھے رہ گئے۔ ہماری ترجحیات یہ ہیں کہ چاند دیکھنے سے سائنس کا کیا تعلق یہ تو سراسر علماء دین کا حق غصب کیا جارہا ہے۔ ہماری ترجیحات یہ ہیں کہ ایٹم بم کس نے بنایا اور کس کے کہنے پر بنا، اور کس کہنے پر ایٹمی دھماکے کیئے گیے۔ مگر آج تک ہمیں یہ خیال کبھی نہیں آیا کہ اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت اور دنیا میں ساتویں ایٹمی طاقت ملک کی عوام کی حالت زار یہ ہے کہ کرونا جیسی وبا میں ان کی حکومت اپنے ملک کے غریب طبقے کو بنیادی سہولیات دینے سے محروم ہے۔ ہمارے بڑے عظیم دانشواران کی دانشمندی کا عالم یہ ہے کہ انھیں یہ سوجھتی ہے کہ قائداعظم گورنر جرنل کا حلف لینے سے پہلے کونسی کرسی پر اور کس طرف براجمان تھے۔ اس ماضی پرستی اور بت پرستی کو میں کیا نام دوں؟ 

میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگوں کو میری تحریر ناگوار گزرے گی۔ مگر یہ ایک دردمندانہ گزارش ہے کہ خدارا تقلید اور عقیدہ پرستی، بت پرستی سے باہر نکلو، غور و فکر کرو، اللہ تعالی کلام پاک میں ارشاد فرماتے ہیں۔ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے۔ کیا تم اس کائنات میں غور نہیں کرتے کہ اس کو میں نے کیسے تخلیق کیا۔ میں اسلام کا مخالف نہیں مگر ایسی اندھی تقلید اور بھدے اور سطحی عقیدوں سے اوب چکا ہوں۔ علامہ اقبال کیا خوب فرما گئے:

تھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!

مملکت خداداد آج پھر سورج اور زمین کے شور سے گونج رہا ہے۔ جس کی اصل غایت صرف اور صرف مذہب اور سائنس کا تصادم ہے، عملی طور پر یہی نظریات بعد میں یہ کہہ کر تسلیم کیے جاتے ہیں کہ "اس بارے میں تو چودہ سو سال پہلے کلام مجید میں بتایا جا چکا ہے" اسی لیئے گلیلو پہلے کلیسا کے حضور معذرت خواں تھا۔ تو آج اعلی حضرت کی روحانی تعلیمات سے شکست کھا چکا ہے۔ اور یہ بھوکی ننگی، عقل سے عاری قوم کا بندہ خاکی، دست بستہ ہے کہ

"خدارا ہمارے حال پر رحم کریں، ہمیں معاف کیجیئے"

بشکریہ اردو کالمز