مولانا ابوالاعلی موددی اردو کے بارے میں لکھتے ہوئے فرمایا
"ایک قوم کا رسم الخط اور اس کی زبان، اس کی تہذیب اور قومیت کی بقا و فنا میں فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔ کسی قوم کو اگر دوسری قوم میں تبدیل کرنا چاہیں تو اس کی زبان اور رسم الخط کو بدل دیجیئے۔ رفتہ رفتہ خود بخود دوسرے سانچے میں ڈھلتی ہے"
اب ذرا خود غور کیجیئے ہم نہ تین میں ہیں اور نہ تیرہ میں ہیں۔ اپنی زبان کو کم سمجھ کر ایک طرف کرکے ہم نے مغربی اقدار کو اپنایا اور پھر انگریزی کو اپنی مادری زبان کے برابر والی حیثیت دے دی۔ مگر افسوس ہم جن کی نظر میں اپنی عزت بنانا چاہتے تھے، وہ حیثیت ہمیں پھر بھی نہ مل سکی۔ بندہ ناچیز جب کبھی اسلام آباد کی ان پر رونق علاقوں کی آورہ گردی پر نکلتا ہوں جہاں پر "لوکل بدیسی" رہتے ہیں۔ بے خودی کا یہ عالم کہ گمان ہووے ہے کہ میاں جی کہیں ہم انگلستان کی کسی مشہور ریستوران میں تو نہیں بیٹھے، ابھی گمان کو یقین کی شکل دینا باقی ہوتا ہے کہ خود کو پیارے پاکستان میں پاتا ہوں۔ وہاں موجود حجام کی دکان کی پاس دو پاکستانی گورے آپس میں انگریزی میں گفتگو کر رہے تھے۔ اب غضب دیکھیئے!! میاں انگریزی تو بول رہے ہو، پھر یہ منہ کاہے ٹیڑھا کررہے ہو۔ اس کا جواب ہم میں سے کسی کے پاس نہیں۔ ہم بھی زیر لب مسکرائے اور وہاں سے چل دئیے۔ ان کی حتی المکان کوشش یہ تھی کہ کسی طور انگریز بن جاویں، لیکن ایسا کچھ ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہا تھا۔ اسی خوشگوار تجربے نے مجھے اردو زبان کی یاد دلا دی۔ کیا شائستہ اور تہزیب سے بھر پور زبان ہے۔ لیکن افسوس مادر وطن میں ابھی تک اس کے نفاذ کا کوئی جامع حل نہیں مل سکا یا پھر حل نکالنا ہی نہیں چاہتے؟ یہ سوال اپنی جگہ بدستور رہے گا؟
طالب علم ہونے کا ناطے کبھی کبھی آئین پاکستان کا مطالعہ کرتا ہوں۔ 1973 کا آئین جب پڑھتا ہوں تو اس کا آرٹیکل251 چیخ چیخ کر بتاتا ہے حضور میری جانب بھی نظر گھمائیے۔ میں بھی آپ کا حصہ ہوں۔ آرٹیکل 251 یہ واضح بتاتا ہے۔
"پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔ اسے دفتری، تعلیمی اور دیگر مقاصد کے لیئے استعمال کرنے کے لیئے آئین کے نفاذ کے پندرہ سال کے اندر اندر انتظامات کیئے جائیں۔ اردو زبان کو انگریزی زبان کی جگہ لینے کا انتظام کرنے تک انگریزی کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
ان تمام باتوں کو یک طرف کرکے ذرا آئین کی رو سے دیکھیے ، کہ آئین جو ایک ریاست کا بنیادی ترین حصہ ہے۔ جس کے بغیر کسی ریاست کا تصور ممکن ہی نہیں،
جو کہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اردو ہی پاکستان کی سرکاری زبان ہے۔ اور آئین کے نفاذ کے پندرہ سال کے اندر اندر اردو کو بطور سرکاری زبان استعمال کرنے کے اقدامات کیئے جائیں، 47 سال گزر جانے کے باوجود آج بھی ہم اپنی زبان کی نفاذ کےلیئے کوئی اقدامات نہ کر سکے مگر اس کے برعکس ہم نے انگریزی کو ضرور فروغ دیا۔ بڑی معذرت کیساتھ اس کو فروغ دینے میں سب سے بڑا ہاتھ ہماری میڈیا کیا ہے۔ جس نے اردو اور انگریزی کا ناجائز ملاپ کرکے اپنی نئی اردو تشکیل دی۔ اردو اور انگریزی کے اس ملاپ سے پیدا ہونے والی نئی اردو نے ہمیں اس شش و پنج میں مبتلا کردیا ہے کہ ہم کیا بول رہے ہیں اور کیا بولنا چاہتے ہیں۔ اور اسطرح اردو کی حثیت روز بروز کم ہوتی گئی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اردو زبان کی حیثیت آنے والی نئی نسل کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ بے شک ان لوگوں کی کاوشوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ جنھوں نے اردو کو نافذ کرنے میں اپنا کردار اداکیا۔ جس میں عدالت عظمی کے سابق چیف جسٹس، جسٹس جواد ایس خواجہ، جو بطور چیف جسٹس آف پاکستان، 25 روز تک اس عہدے پر فائز رہے۔ مگر اپنی سبکدوشی سے ایک دن پہلے انھوں نے اردو کے نفاذ کے حق میں فیصلہ دیا۔ اور فیصلے میں لکھا۔
آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا تاخیر فوراََ نافذ کیا جائے
جو میعاد ( مذکورہ بالا مراسلہ مورخہ 6 جولائی 2015 مقرر کی گئی تھی جو خود حکومت نے مقرر کی ہے، اسکی ہر حال میں پابندی کی جائے، جیسا کہ اس عدالت کے روبرو عہد کیا گیا ہے۔
قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے وفاقی اورصوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔
تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا ترجمہ کر لیا جائے۔
بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے نگرانی کرنے والے اور باہمی ربط قائم رکھنے والے ادارے آرٹیکل 251 کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس دفعہ کا نفاذ یقینی بنائیں۔
وفاقی سطح پہ مقابلے کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے میں حکومتی ادارے مندرجہ بالا سفارشات پر عمل کیا جائے۔
ان عدالتی فیصلوں کا جو عوامی مفاد سے تعلق رکھتے ہوں جو آرٹیکل 189 کے تحت اصولِ قانون کے کی وضاحت کرتے ہوں لازماََ اردو میں ترجمہ کروایا جائے۔
عدالتی مقدمات میں سرکاری محکمے اپنے جوابات حتیٰ الامکان اردو میں پیش کریں تاکہ شہری اس قابل ہو سکیں کہ اپنے قانونی حقوق نافذ کروا سکیں۔
اس فیصلے کے اجراء کے بعد اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اہلکار آرٹیکل 251 کے احکامات کی خلاف ورزی جاری رکھے گا تو جس شہری کو بھی اس کی خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان یا ضرر پہنچے گا اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔
خواجہ صاحب کے اس فیصلے پر کتنا عمل ہوا۔ یہ ہم سب بہتر سے جانتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات ضرور کرنا چاہوں گا۔ میں انگریزی کا قطعی طور پر مخالف نہیں ہوں۔ یہ بین الاقوامی رابطے کی زبان ہے۔ مگر آپ نے تو اس کو سر کا تاج بنادیا ہے۔ یہ نہایت ظلم ہے اپنی مادری زبان کے ساتھ۔ یہ میری خوش بختی ہے کہ میں اردو زبان و ادب کا طالب علم ہوں۔ اور اسی سلسلے میں یہ میرا فریضہ ہے کہ میں اردو کو فروغ دینے کی اپنے تیئں ایک کوشش کروں۔ مگر یہاں پر ایک سوال بنتا ہے جو میں من ہی من اپنے آپ سے کرتا ہوں۔ تو قارئین کے سامنے بھی یہ سوال رکھتا ہوں کہ
"جب پاکستان بنانے والوں کی نظر میں اردو کو ایک اہمیت حاصل تھی، اس کے علاوہ تحریک پاکستان میں شائع ہونے والے رسالے اخبارات سب اردو میں تھے اور اسی بدلے آزادی کے نعرے کو ایک تقویت ملی تو پھر ایسی کیا ضرورت آن پڑی کہ اردو کو آج وطن عزیز میں نافذ کرنے کےلیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے؟"
یہ سوال اپنی جگہ کافی اہمیت کا حامل بھی ہے۔ اور اقتدار کے ایوانوں کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے۔ کہ میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں؟ آج جب ہم ترقی یافتہ ملکوں کا جائزہ لیتے ہیں کہ ان کی ترقی کا راز کیا ہے؟ تو جواب یہی ملتا ہے کہ "ترقی کا راز اپنی زبان میں ذریعہ تعلیم ہے" بہر کیف اس کے پیچھے بہت ساری وجاہات ہیں۔ یہاں پر آپ کے ساتھ ایک ذاتی مشاہدے کا تذکرہ کرتا چلوں۔ ابھی یہ پچھلے سال کی بات ہے کہ ہمارے وزیراعظم صاحب اقوام متحدہ کے ایک طویل دورے پر تھے۔ کشیمر معاملے پر انہوں نے وہاں پر بات کی۔۔۔۔۔۔۔ تو گاوں سے ایک دوست نے فون پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا
"آج تو ہمارے خان صاحب چھا گئے، یہی وہ مرد مجاہد ہیں جو کشمیر کی آواز اٹھاویں گے۔ میں نے نہایت ہی معصومانہ طور پر سوال کیا۔۔۔۔۔ لالا جی سناو پھر کیا سمجھے آپ اس تقریر سے، کچھ اپنا تجزیہ پیش کیجیے۔ آگے سے جواب یہی تھا۔ تقریر انگریزی میں تھی سمجھ کچھ نہیں آیا(؟؟؟؟؟)
وہاں پر موجود دوسرے ممالک کے سربراہان بھی اس اجلاس میں شریک تھے اور ان میں سے اکثریت نے اپنی زبان میں تقریر کی اور اپنی عوام کو یہ پیغام دیا کہ آپ بھی سمجھیں ہم آپ کی آواز کس موئثر انداز میں رکھ رہے ہیں۔ لیکن افسوس ہمیں یہ توفیق بھی نصیب نہ ہوئی۔ اردو کے فروغ میں ہمارے چند گنے چنے ادارے جو دن رات اپنا کام کر رہے۔ جس کی سب سے بڑی مثال "ادارہ فروغ قومی زبان ہے" جس کی کاوشیں کسی سےڈھکی چھپی نہیں۔
المختصر یہ گزارش کرنا چاہوں گا۔ اپنی زبان پر فخر کریں۔ یہی ہماری ترقی کا ضامن ہے۔ اس کی قدر کریں اور اسے فروغ دیکر اپنا فرض عین پورا کریں۔ اور حکام بالا سے یہ گزارش بھی کروں گا۔ اگر آپ اپنی زبان کو اہمیت دیں گے۔ دنیا میں آپ کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اردو کے نفاذ پر تیزی سے کام کریں۔ آخر میں ہمیشہ آپ کے لیئے ایک شعر ضرور لکھتا ہوں۔ آج کا شعر نہایت ہی شفیق اور مہربان دوست جناب نفیس فاروق صاحب کا ہے۔ جن سے ایک دفعہ روالپنڈی آرٹس کونسل میں ملاقات ہوئی۔
مثل_گل ہے خوشبو جیسی ہے
وہ تو بالکل اردو جیسی ہے
(نفیس فاروق)