593

بدیسی

ارض پاک جہاں پر انھوکے لیڈران، دنشوران، اور اعلی ذہن کی حامل عوام کی کثرت ہے۔ وہاں پر اس کی تاریخ بھی کافی دلچسپ اور پر اسرار قسم کی ہے۔ استاد محترم فرماتے ہیں "تاریخ جب عقیدہ بن جائے تو قومیں بانجھ بن جاتی ہیں۔ اس حقیقت سے مفر نہیں کہ واقعی ہم اب بانجھ قوم ہیں۔ رمضان المبارک کے مہینے کی یا اس سے پہلے کی بات ہے کہ مادر وطن میں ہیروز کا ذکر چھڑا ہر بچے بوڑھے، جوان، کی لبوں سے معتبرانہ انداز کی صورت میں ہیروز کے قصیدے بر آمد ہورہے تھے۔ بھلا ہو خانصاب کا کہ انھوں نے ایک نئی مصیبت ہمارے گلے ڈال دی۔ یعنی اپنے ارطغرل میاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے اس ہیرو کی بات کرتے ہیں جس کا ذکر پہلے کر چکا ہوں۔ اسی حوالے سے ایک تحریر سوشل میڈیا پر نظروں سے گزری، تو وہاں چند دوست جو مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنے ہیروز پر گرما گرم بحث کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک کا تعلق عرب سے تھا اور دوسرے محترم ترکی سے تعلق رکھتے تھے۔ کیا تیسرے دوست کے تعارف کی ضرورت ہے؟ یقینا آپ اس کو کسی دیومالائی قصے سے تشبیہ دے رہے ہوں گے۔ مگر ایسا بھی نہیں۔۔۔۔۔ وہ حضور اپنے دیسی بابو تھے (یعنی مادر وطن سے تعلق رکھتے تھے) ان کی جب باری آئی تو جناب والا بڑی رعب دار طریقے سے بول پڑے کہ ہم مسلمانوں کے ہیرو محمد بن قاسم ہیں اور انہی کی وجہ سے آج ہم مسلمان کا ایک نام ہے۔ خیر بات کے اختتام پر عرب باشندے نے کہا جناب وہ تو عرب تھے آپ تو ہند اور سندھ کے تھے، تو وہ کیسے آپ کے ہیرو ٹھہرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ گہری خاموشی، کوئی جواب ہوتا تو ضرور دیتے، خیر رہنے دیجیئے۔


اب ذرا اس قوم کی اعلی ذہنیت کا اندازہ لگائیے کہ جنھوں نے تاریخ کو بھی مسخ کرکے رکھ دیا۔ لیکن یاد رکھئیے تاریخ بڑی بے درد ہے جو کبھی معاف نہیں کرتی۔ کافی دنوں تک اس موضوع پر کجا فیس بک اور اخبارات کے ایڈیٹوریل بڑے لوگوں نے اس پر اپنی ماہرانہ رائے دی اور خوب صفحے کالے کیئے۔ مگر مجال ہے کہ تاریخ کی کسی کتاب کا مطالعہ کیا ہو۔۔۔۔۔ راقم اپنی خوش بختی سمجھتا ہوں کہ اسی سلسلے میں ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب "سندھ خاموشی کی آواز" کا مطالعہ کیا۔ اس مطالعے کا مقصد ایک دانشور کو جواب دینا تھا۔ کہ جنھوں نے راجہ داہر اور محمد بن قاسم کی سندھ پر حملے کی وجوہات کو بیان کرتے ہوئے مذہبی رنگ چڑھا دیا۔ کوئی مجھے سمجھا سکتا ہے کہ تاریخ کیا مذہبی ہوسکتی ہے؟ 

اس کتاب کا اگر آپ میں سے کوئی مطالعہ کرنا چاہے تو آسانی سے مارکیٹ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کا بغور مطالعہ انتہائی لازمی ہے تاکہ ہم کو تاریخ سے واقفیت ہونی چاہیے، عربوں کو سندھ کس لیئے فتح کرنا پڑی؟ اس کو فتح کرنے کی اصل غایت کیا تھی؟ اور محمد بن قاسم اتنا لشکر جب سندھ پر حملہ کرنے نکلتے ہیں ان کی عمر اس وقت اتنی نہیں تھی کہ وہ وسیع پیمانے پر ایک فوجی لشکر کی سپہ سالاری کرتے؟ اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں سندھ کی عوام کی معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی میں کیا تبدیلی آئی؟ کیوں کہ سندھ ہمیشہ غیر ملکی فوجوں کی آماجگاہ رہی، جو یہاں سے گزرتا وہ سندھ پر قابض ہو جاتا اور جو تاریخ سندھ لکھی گئی کیا یہ عوامی تاریخ ہے؟ کیوں کہ اس وقت ہر فاتح نے اپنے انداز کی تاریخ لکھی اور اس میں صرف اپنے قصیدے لکھوائے گئے۔ عام عوام کا اس تاریخ میں کوئی ذکر نہیں ملتا، اور جب تک تاریخ عوامی انداز میں نہیں لکھی جائے گی تب تک ہم اس تہذیب اور ثقافت وہاں کے رہن سہن پر کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے۔ 

اب اسی طرح ایک اور مصیبت اس قوم پر ارطغرل کی صورت میں نازل ہے۔ کیا خوب خانصاب کیا کہنے، عوام تو کرونا، بھوک، بے روزگاری، سے مر رہی ہے۔ مگر آپ نے اس سب سے بچنے کے لیئے انہیں ارطغرل دیکھنے کا مشورہ دے دیا۔ بھوکے مرو، بے روزگاری سے مرو، ارطغرل دیکھو، دراصل اس میں آپ کا کوئی قصور ہے ہی نہیں، اس دھرتی کے عوام مہنگائی، بےروزگاری اور دوسرے مصائب کا شکار ہوکر اپنا ذہنی توازن کھوچکی ہے۔ اس لیئے اب یہ خالی دماغ کسی کام کے نہیں رہے۔ کیوں کہ ان کی اصل تاریخ تو اب مطالعہ پاکستان کی صورت میں جو ان کے ذہنوں میں بٹھائی گئی ہے یہ اسی پر گرہ باندھ چکے ہیں کہ اس سے آگے اب دنیا ختم ہوچکی ہے۔ اس لیئے اب عصر حاضر میں اس قوم کی قدر کوئی نہیں رہی۔ لہذا ارطغرل دیکھئیے اور اندھے کنوئیں میں چھلانگ لگایئے۔ شاید حلیمہ سلطانہ اسلامی لباس پہنے وہاں آپ کو مل جائے۔۔۔۔۔۔ 

اسی بہتی گنگا میں جہاں سب نے ہاتھ دھوئے وہاں پر سرکاری مورخ بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے والے ان سرکاری مورخوں کو خوب جانتے ہیں۔ آپ کو حیرت ہوگی یہ سب جان کر کہ پاکستان کے نامور سرکاری کالم نگار کافی عرصے سے جو ملک کے سب سے معتبر میڈیا ایجنسی سے جن کا تعلق ہے۔ انھوں نے محمد بن قاسم کے موضوع پر ایک کالم لکھا اور اس میں کسی تاریخی کتاب کا کوئی حوالہ تک نہیں دیا۔۔۔۔۔ یہاں کی وہاں پھینکتے رہے۔ اور المیہ یہ کے وہاں پر محمد بن قاسم کی عمر زیر بحث تھی۔ کیا یہ تاریخ کا استحصال نہیں؟ اگر ایسے نامور لوگ بھی اس طرح لکھیں گے تو پھر ہمارا کیا ہوگا؟ تاریخ کو مذہبی نقطہ نظر سے ہٹ کر دیکھیں، اپنے ہیروز کو تلاش کریں۔ اپنی اصل تاریخ کو پڑھیں، آپ فاتح نہیں تھے، آپ مفتوح تھے۔ بے شک آپ خود کو جتنا مرضی تاریخ سے چھپا لیں۔ مگر آپ کی یہ کوشش ناکام ہوگی۔ کیوں کہ تاریخ کبھی نہیں چھپ سکتی۔

اس قوم کی بدنصیبی کو کیا نام دیں، کہ جس کی اصل تاریخ ہی گمشدہ ہے۔ اور اس کا انحصار اب مطالعہ پاکستان کی سرکاری تاریخ پر ہے۔ اور پھر یہی تاریخ بدیسیوں سے بھری پڑی ہے، اور ہم انہی کو اپنا ہیرو تسلیم کرچکے ہیں۔ تو عافیت اسی میں ہے کہ یہ کہہ کر جان خلاصی کی جائے "خبردار اگر کسی نے ہمیں دیسی کہا، ہم بدیسی ہیں"


 

بشکریہ اردو کالمز