ابھی چند دن پہلے کی بات تھی، ملک بھر میں ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس اسٹاف کے ساتھ اظہار ہمدردی کی جارہی تھی۔ اس کو میں اپنی خاصیت جانوں یا پھر چھٹی حس کا کمال، میرے ذہن میں اس وقت ایک خیال پنپنے لگا تھا، کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ ویسے عرف عام میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ قربانی کے جانور کو قربانی سے پہلے اس کی خوب خاطر تواضع کی جاتی ہے۔ اس کے ہر چیز کا خوب اہتمام کیا جاتا ہے۔ تو مجھے اس وقت کچھ سازش کی بو آنے لگی، اور سوچ رہا تھا کب میدان جنگ سجے گا۔
اس طرح کے واقعات پہلے بھی کئی بار کشور حسین کے مختلف اضلاع میں پیش آئے ہیں۔ اتنا دور نہیں جاتے ابھی یہ ایک دو ماہ پہلے کی بات ہے۔ وکلاء اور ڈاکٹرز حضرات کی ایک زبردست مہابھارت ہوئی ہے۔ جہاں پر ایک وزیر موصوف بھی اس جنگ کا نشانہ بنے۔ ایک معزز شہری کی طرح میرا تعلق بھی کسی نہ کسی طرح ان دونوں طبقات سے لازمی پڑتا ہے۔ تو لکھتے ہوئے احتیاط کا عنصر لازمی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو جب ان سے کام پڑے اور یہ کہتے رہیں "آجا مورے بالاماں تیرا ہی انتظار ہے"
لیکن یہاں یہ بات کہنا نہایت ضروری ہے۔ ایک دفعہ استاد محترم نے بھی اس چیز کی اصلاح فرمائی کہ کسی ایک فرد یا ایک گروہ کی وجہ سے کسی ادارے کو گالم گلوچ یا تنقید کا نشانہ بنانا بالکل غلط ہے۔ کیوں کہ کوئی بھی فرد اپنے کیئے کا خود ذمہ دار ہوتا ہے نہ کہ ادارہ اس کا ذمہ دار ہے۔ بات کو زیادہ طول دینے کا کوئی مقصد نہیں اور نہ ہی اس مصروف زندگی میں کسی کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ لمبی تحریریں پڑھے۔
آج بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں پیش آنے والے اس ناخوشگوار واقعے کا ذکر کرتا چلوں۔ حفاظتی کٹس اور دوسری ضروری اشیاء کی عدم دستیابی کی وجہ سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، بلوچستان نے وزیر اعلی ہاوس کے سامنے دھرنا دیا۔ جن کو منتشر کرنے کے لیئے پولیس نے ڈنڈوں لاتوں، مکوں کا بے دریغ استعمال کیا۔ وہ منظر ایک منی جنگ (چھوٹی نوعیت کا جنگ) کا منظر پیش کر رہی تھی۔ جہاں پر 6 اہلکار ایک ڈاکٹر کو گھسیٹ کر گاڑیوں میں ڈال رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کسی گاڑی میں سامان لوڈ کیا جارہا ہو، اور اس میں جسمانی اعضاء کا بے دریغ استعمال اس چیز کی گواہی دے رہے تھے۔ کہ واقعی پولیس اہلکار ڈاکٹرز حضرات سے سخت نالاں تھے اور کئی برس پرانا حساب چکتا کر رہے ہوں۔ لیکن اس کے علاوہ وہ مناظر کبھی نہیں بھولیں گے جب مجھ آپ جیسے کئی لوگ انہی ڈاکٹرز کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے تھے۔ لیکن آج ہونے والا یہ دلخراش واقع اس چیز کا عملی ثبوت ہے کہ مادر وطن میں کس کی کتنی اہمیت ہے؟
لیکن اس پس منظر میں دیکھا جائے تو بیچارے ڈاکٹرز کا یہ احتجاج کسی حد تک بہتر تھا۔ کہ انھیں وہ تمام حفاظتی چیزیں فراہم کی جائیں۔ جس سے وہ اپنی حفاظت کرکے دوسرے لوگوں کی جان بچائیں۔ مگر حکومت بلوچستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل ہی نہیں تھا کہ وہ ان پر لاٹھی چارج نہیں کرواتی تو کیا کرتی؟۔ وفاقی حکومت سے منظور شدہ فنڈز اگر موجود تھے تو اشیاء کی فراہمی میں اتنی تاخیر کیوں کردی؟ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس تمام دنگے فساد میں نقصان کس کا ہوا ہے؟ وہ بیچاری عوام جس کا پرسان حال ہی کوئی نہیں اس کا کیا ہوگا؟ یقین مانئیے میں ویسے کبھی ڈاکٹرز کے حق میں نہیں لکھتا کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ ہر مطالبہ جائز بھی نہیں ہوتا۔ مگر اس پوری صورت حال کے اندر حفاظتی اشیاء کی فراہمی کا مطالبہ بالکل جائز ہے۔ کیوں کہ علاج کرنے والا اگر تندرست ہوگا تو علاج کرے گا۔ بہر حال موجودہ صورت حال سنگین ہے۔ مزید دیکھیے کیا بنتا ہے؟ ڈاکٹرز کا یہ نعرہ مجھے بہت پسند آیا۔
"آپ ہماری خاطر گھر میں رہیں، ہم آپ کی خاطر جیل میں ہیں"