854

"ماضی کے جھروکوں سے، حال تک کا سفر"


ماضی کے کواڑ کھلتے ہی 2014 اگست کی وہ شام کا منظر میرے آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ جب ایک جانب محترم طاہر القادری صاحب تھے اور دوسری جانب ایوان اقتدار کے بالکل سامنے والی سڑک پر آج کے وزیراعظم جناب عمران احمد خان  حکومت وقت کے خلاف دھرنا دے کر بیٹھے ہوئے تھے۔ کیا کروں ماضی کبھی بھول نہیں سکتا۔ راقم اپنے دفتر کی بالائی منزل سے قادری صاحب کی گرج دار آواز میں تقریر سے لطف لے رہا تھا۔ ویسے آپس کی بات ہے قادری صاحب کی اردو اور ان کی مقرری کا دلدادہ ہوں۔ اور قادری صاحب اس فن میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ بالائی منزل سے جب یہ اعلان سننے کو ملا کہ گھیر لو ان سب کو کوئی بھی بچ کر نکلنے نہ پائے۔ یقین مانیے میں پہلی دفعہ ایک خوف میں مبتلا ہوا  کہ اگر پکڑے گئے تو کیا ہوگا؟ دوسری جانب کا منظر پہلے والے منظر سے کافی مختلف اور پر رونق تھا۔ وہاں پر تقریر کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ کا بھی  بندوبست تھا۔ میرے جیسے آوارہ گرد  جب اسلام آباد کے خشک مزاج ماحول سے تنگ ہوجاتے تو وہاں چلے جاتے  تھے تقریر کے ساتھ طعام اور پھر انٹرٹینمنت، مزے دوبالا ہوجاتے۔ خان صاحب کافی ضدی قسم کے کپتان ہیں۔ بضد تھے کہ کسی بھی طرح وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ جائیں۔ اس کی خاطر انھوں نے عدالتی راستہ اختیار کیا، اور خان صاحب کی مشکل میں کمی اس وقت وقوع پذیر ہوئی جب ملک میں پانامہ پانامہ کا  غل شروع ہوا۔ اس وقت کے وزیر اعظم جناب نوازشریف کے خلاف عدالت عظمی میں مقدمہ شروع ہوا جے آئی ٹی بنی جو کہ میاں صاحب کے لیئے درد سر بنی اور میاں صاحب اپنی کرسی سے ہاتھ دو بیٹھے۔ (چلیں خیر اس درمیان جو ہوا اس کو مزید کریدنے سے کیا ملنا)۔۔۔۔۔۔

ہمارا اصل مدعا تو کپتان صاحب کی وہ تقریریں ہیں کہ جن کی بنیاد پر وہ آج 22 کروڑ لوگوں پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ تمام تقاریر کی باتیں لکھ تو نہیں سکتا البتہ چند باتوں کا ذکر لازمی ہے۔ خان صاحب حکومت میں آنے سے پہلے بڑے پر امید تھے کہ وہ آکر ان چوروں، ڈاکووں اور لیٹروں کا احتساب کریں گے۔ باہر ملک کے لوگ پاکستان میں آکر نوکریاں کریں گے۔ پاکستان دوبارہ  خوشحالی کی جانب گامزن ہوگا، وطن عزیز کے وہ تمام ادارے جو ان لیٹروں، ڈاکووں کی کرپشن کی وجہ شدید مالی بحران کا شکار ہیں اور سالہا سال سے  خسارے میں ہیں۔ وہ تمام ادارے دوبارہ اپنی اصل حالت میں آکر ملکی معشیت کے پہیے کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ وہ  تمام رقم جو ملک سے منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بجھوائی گئی ہے، ملک میں واپس لائی جائے گی۔ پاکستان تمام گردشی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرے گا اور ان شاءاللہ ہم اقتدار میں آتے ہی کشکول توڑ دیں گے۔ اقتدار سنبھالتے ہی وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہوگا۔ گورنر ہاوس کی دیواریں توڑ دی جائینگی وہاں پر اعلی قسم کے تحقیقی ادارے قائم کیئے جائیں گے۔ جن سے قوم و ملک کی ترقی کی راہ  ہموار ہوسکے گی۔ وغیرہ وغیرہ، کوئی وعدہ رہ گیا ہو تو معذرت یاد نہیں آرہا اس وقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

2018 کا الیکشن کپتان کی پارٹی اچھے مارجن سے اپنے حریف کو ہرا کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں تھی۔ مگر پھر بھی اسے آزاد امیدواروں کا ساتھ چاہیئے تھا تاکہ سادہ ایک تہائی اکثریت حاصل ہو۔ اس مشن پر جناب جہانگیر ترین صاحب کو نامزد کیا گیا۔ جو اپنے ہوائی جہاز کے ذریعے دوسری پارٹی سے پہلے وہاں پہنچ جاتے تھے اور امیدوار کو قائل کرکے حکومتی پارٹی میں شامل کرواتے۔ (آزاد امیدوار اس لیئے تو آزاد الیکشن لڑتے ہیں کہ کامیاب ہونے کے بعد انہیں بھاری بھرکم رقم کی پیشکش کی جاتی ہے جس سے ان کے الیکشن کے دوران ہونے والے اخراجات کا مداوا بھی ہوجاتا ہے۔ اور حکومت بنانے والی پارٹی ان کے کچھ اور مطالبات بھی مان لیتی ہے) خیر جو کچھ بھی ہوا۔۔۔۔۔ اب وقت آچکا تھا کہ خان صاحب بطور وزیراعظم حلف اٹھانے والے تھے۔ حلف کی تقریبات کا آغاز ہوا۔ چند لمحے بعد کپتان کرکٹ ٹیم کی کپتانی سے ملک کے کپتان مقرر ہوئے۔ اب باری کابینہ بنانے کی آئی تو پہلے وعدے کی خلاف ورزی کا آغاز ادھر سے ہوا چاہتا ہے کہ اس دن سے لیکر آج کے  دن تک وفاقی وزراء، وزراء مملکت، مشیران اور معاون خصوصیوں کو ملا کر 52 ارکان کے قریب کی کابینہ تشکیل دی گئی میرے کپتان کی۔ جو کہتے تھے میری کابینہ ارکان کی تعداد سب سے کم ہوگی۔ ابھی بات کا اختتام نہیں۔۔۔۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ مرزا غالب فرماتے ہیں۔ 
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا 
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا 
حکومت نے پہلے 100 دن کے اہداف مقرر کیئے ۔ اور 100 دن کے اختتام پر تمام وزرا سے ان کی وزارت میں کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ لیکن انہی اہداف میں کچھ اہداف ایک کروڑ نوکریوں کے 50 لاکھ گھروں کے اور ملکی معیشت کو درست سمت پر گامزن کرنے کے لیئے آئی ایم ایف سے ناطے توڑنے کے بھی تھے۔ اور اسی طرح ان میں ایک ہدف اور بھی تھا پاکستان میں آنے والے وقتوں میں پانی کی شدید قلت کا سامنا اور اسی حوالے ڈیم بنانے کی منصوبہ بندی بھی شامل تھی۔ ہم اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کپتان کے پاس کوئی جادوئی چھڑی نہیں کہ وہ پھیریں اور سنہرے دنوں کا سورج طلوع ہو جائے ۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ 70 سال کی اس طویل مسافت کے سفر میں وطن عزیز نے ابھی تک ترقی نہیں کی؟ سیاسی چہرے تبدیل ہوتے رہے، مگر ارض پاک ترقی کجا تنزلی کی جانب گامزن ہے، اس میں اصل لٹیرے کون ہیں؟( جان کی سلامتی پاتے ہوئے ملا کی دوڑ مسجد تک، عوام کی دوڑ حکومت تک) تو پھر آئیے حکومت میں آنے سے پہلے کے وعدوں اور اب تک کی حکومت کی دوسالہ کارکردگی اور کیئے جانے والے اقدامات کا بے باک تجزیہ کرتے ہیں۔ 
وعدہ نمبر 1۔ چوروں، ڈاکوں اور لیٹروں کا احتساب کروں گا؟
جناب وہی لٹیرے وہی چور آپ کی دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہیں۔ ان کا کیسا احتساب ہوا؟ وہ تو دوبارہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں۔ معذرت کے ساتھ یہ احتساب سیاسی انتقام کا ہی نام لے سکا۔ ان میں سے کئی چور آپ کی اپنی صفوں میں شامل ہیں۔ ان کا کیا کرنا ہے؟
وعدہ نمبر 2۔ باہر کے لوگ پاکستان میں آکر نوکریاں کریں گے؟
کہاں ہیں وہ لوگ، جو پاکستان میں آکر نوکریاں کر رہے ہیں۔ بلکہ آپ تو اس کی مخالف جانب نکل پڑے، نوکریاں دینے کے بجائے چھیننے لگے ہیں۔ سٹیل مل کے ملازمین کو فارغ کرنے کا حالیہ واقعہ اس بات کی غمازی کر رہا ہے۔ 
وعدہ نمبر 3۔ جو ادارے ملک پر بوجھ ہیں ان کی بحالی
سٹیل مل، پی آئی آے، ریلوے کے محکمے وہی ہیں جن کو یہ غریب عوام اپنے ہی ٹیکسوں پر چلا رہی ہے۔ اگر حکومت ان اداروں کو بحال کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو ان کی نجکاری کردے۔ غریب عوام سالانہ اربوں روپے کے ٹیکس دے کر ان محکموں کے افسروں اور ملازمین کے اخراجات کیوں برداشت کرتی رہے؟
وعدہ نمبر 4۔ وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہوگا، گورنر ہاوسز اور وزیراعظم ہاوس اعلی تحقیقی اور تعلیمی اداروں میں تبدیل ہوجائیں گے. 
کونسا گورنر ہاوس اور کون سا  وزیر اعظم ہاوس ایک اچھی یونیورسٹی میں تبدیل ہوا۔ ابھی تک وہی افسر شاہی کا نظام بدستور قائم ہے۔ آج بھی قانون کی بالادستی نہیں ہے۔ ہاں البتہ آپ کا قہر بیچاری بھینسوں پر ضرور نکلا، یہ آپ کا قصور نہیں انسان ہمشیہ اپنا غصہ بے زبان جانوروں پر ہی نکالتا ہے۔


وعدہ نمبر 5۔ قرضوں سے نجات اور تمام لوٹی ہوئی رقم کی واپسی، آئی ایم ایف سے تمام ناطے ختم کیئے جائیں گے۔
مملکت خداداد کا ایک ایک بچہ آج بھی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ تمام چوروں کا احتساب ہوا۔ مگر لوٹی ہوئی رقم کہاں ہے؟ احتساب کے نام پر جو مزید اخراجات کیئے گئے، کمیشن قائم کیئے گئے وہ بھی اسی غریب عوام نے اپنے خون پسینے سے ادا کئیے۔ آئی ایم ایف کا دست شفقت آج بھی ہم پاکستانیوں کے سر پر بدستور قائم ہے۔ 
وعدہ نمبر 6۔ 50 لاکھ مکان کی تعمیر
یہ سہانے خواب دکھانے کے بعد آپ کہاں چھپ گئے۔ ابھی تک ان مکانوں کی بنیادوں کے بارے میں بھی کسی کو علم نہیں، ہاں البتہ کچھ لوگ اسی نام پر ادارہ بناکر خوب مال بٹور رہے ہیں۔ 
اب بھی کافی وعدے رہ گئے، سو رہ گئے کسی اور دن کے لیئے۔ میرے کپتان ان وعدوں کا کیا کرنا ہے۔ خواب سمجھ کر بھول جاوں یا پھر یہ سمجھوں کہ آپ کی نیت تو درست ہے مگر آپ اشرافیہ کے ہاتھوں یر غمال ہیں۔ ویسے شاعر نے کیا خوب کہا 
یاد ماضی عذاب ہے یارب 
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا 

بشکریہ اردو کالمز