برطانوی شہری مائلز کے ایئر پوڈز دوبئی سے چوری ہوئے اور جہلم پولیس نے انہیں جہلم سے برآمد کر لیا۔اس سے مجھے یاد آیا کہ میرا آئی فون تو اسلام آباد سے چوری ہوا تھا اور آج تک نہ مل سکا۔بھائی جان مائلز صاحب نے تو صرف ایکس پر شکایت کی تھی اور پولیس اس شکایت کو لیلی کا محبت نامہ جان کر یا قربان ہوگئی، میںتو باقاعدہ تھانہ بنی گالہ حاضر ہواتھا اور بے زار سے چہروں نے ایک رپٹ مجھے تھما کر رخصت کر دیا تھا۔ رپٹ لکھنے والے صاحب نے دوسرے صاحب سے چائے پانی کا سوال کیا تو اس نے دبے دبے لفظوں میں اسے تنبیہہ کی کہ یہ ’’ سائل‘‘ چائے پانی دینے والا نہیں ہے ، بس اسے رپٹ تھما کر جان چھڑائو۔ آئی جی پنجاب صاحب ، ان کا تعلقات عامہ کا کوئی افسر یا ٹک ٹاک پر قوم کی رہنمائی فرمانے والے افسران میں سے کوئی یہ رہنمائی بھی فرما دے کہ اگر مائلز بھیا کے ایئر پوڈز ٹریس ہو سکتے تھے میرا فون کیوں نہیں ٹریس ہو سکتا تھا جب کہ اس کے جملہ کوائف میں نے پولیس کو فراہم کر دیے تھے؟ جوہر آباد میں میرے ایک قریبی عزیز کے گھر میں ڈکیتی ہوئی ، ڈکیت ان کے موبائل فون بھی ساتھ لے گئے ، دو دن موبائل فون آن رہے لیکن خوشاب پولیس ان تک نہ پہنچ سکی۔ جہلم جیسے بڑے شہر سے ایئر پوڈز ٹریس ہو سکتے ہیں تو چھوٹے سے خوشاب سے ڈکیت اور موبائل فون کیوں نہیں تلاش کیے جا سکے؟ ہمارے دوست ہیں سعید خورشید ، سابق جج ہیں اور اپنی ہی برادری سے ہیںیعنی سپریم کورٹ کے وکیل ہیں، ان سے اسلام آباد میں گن پوائنٹ پر موبائل فون چھین لیا گیا ، اسے آج تک تلاش نہیں کیا جا سکا۔ اس طرح کی کتنی ہی کہانیاں یاد آ رہی ہیں اور میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ مائلز کے ایئر پوڈز میں ایسا کون سا کمال تھا کہ وہ ٹریس ہو گئے اور ہم سب کے موبائل فون ٹریس نہ ہو سکے؟ یا پھر جہلم پولیس زیادہ مستعد اور باکمال ہے اور اسلام آباداور خوشاب پولیس کو ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے؟ پھر مجھے خیال آیا کہ معاملہ شاید پولیس کی مہارت کے فرق کا نہیں ہے ، نہ ہی یہ ایئر پوڈز اور آئی فون کا فرق ہے ، فرق صرف یہ ہے کہ مائلز صاحب برطانوی ہونے کے ناطے وائسرائے سے دو سینٹی میٹر نیچے کے درجے پر فائز ہیں اور ہم جو اس ملک کے شہری ہیں ہم جنم جنم کی نو آبادیاتی رعایا ہیں ۔ نو آبادیاتی رعایا کی مسکینی کو کون گھاس ڈالتا ہے؟ ابھی چند دن پہلے جارج نام کے ایک بھائی جان قدر دان نے ایک سیاحتی مقام سے ایک عدد وی لاگ فرمایا کہ دیکھو یہ اس ہوٹل کا پانی جھیل میں جا رہا ہے۔ جارج صاحب قبلہ محترم بھی برطانوی شہری تھے ، چنانچہ ان کے وی لاگ پر ایک تھر تھلی مچ گئی اور ہوٹل سیل ہو گیا ،ا سے جرمانہ بھی کر دیا گیا۔ یہ خبر پڑھی تو میں سوچ میں پڑ گیا کہ ہر سیاحتی مقام کے قریب ہر ہوٹل کا فضلہ جھیل یا دریا میں ہی جاتا ہے تو کارروائی صرف اس ہوٹل کے خلاف کیوں جہاں جارج صاحب قیام فرما تھے؟ کسی جگہ پر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں ہے۔ ہر جگہ ایسا ہی ہو رہا ہے ۔لیکن چونکہ برطانوی شہری ہز ایکسیلینسی جارج صاحب نے ایک ہوٹل کی شکایت فرما دی تو اس ہوٹل پر نو آبادیاتی قانون ہتھوڑے کی طرح برسنے لگا۔ یاد آیا کہ اسلام آباد میں بھی ایک جھیل ہے جس کا نام راول جھیل ہے۔ کیا ڈپلومیٹک انکلیو ، پارلیمان ، اور جانے کہاں کہاں کا سیوریج سیدھا اس میں نہیں گرتا؟ کیا بنی گالہ ، قائد اعظم یونیورسٹی اور بارہ کہو کا سیوریج بھی اسی میں نہیں جاتا؟ میں سالوں سے لکھ لکھ کر تھک گیا لیکن کوئی ایکشن نہیں ہوا۔ مارگلہ کے پہاڑوں سے بارہ ندیاں آتی ہیں سب جوہڑ بن چکیں۔ ان میں سیوریج چھوڑا جا چکا۔ لیکن کوئی ایکشن نہیں لیتا۔ کیوں؟ کیونکہ شکایت کرنے والے مقامی ہوتے ہیں، رعایا ابن رعایا۔اور رعایا کی شکایت پر کون کارروائی کرتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ اس ملک میں اس ملک کے شہریوں کی اوقات کیا ہے؟ ان کی تو سنی نہیں جاتی اور جارج اور مائلز آ جائیں تو ادارے ہاتھ باندھ کر ان کے آگے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ مائلز کے ایئر پوڈز تلاش کرنا کوئی برائی ہے۔ یہ اچھی چیز ہے۔ برائی مگر یہ ہے کہ جس درد مندی اور مستعدی سے پولیس نے مائلز کی شکایت کو سنا ، کیا وہ پاکستانیوں کی شکایت بھی اسی طرح سن سکے گی؟ فرض کریں دوبئی سے یہ شکایت کسی پاکستانی نے کی ہوتی کہ میرے ایئر پوڈز چوری ہوئے اور اب جہلم میں موجود ہیں تو کیا جہلم پولیس تب بھی اسی طرح کام کرتی جیسے مائلز کی شکایت پر کیا؟ اگر مائلز اور جارج کے لیے اداروں کی مستعدی کچھ ا ور ہے اور پاکستانیوں کے لیے ا ن کا رویہ کچھ اور ہے تو معاف کیجیے ، یہ حسن کارکردگی نہیں ، یہ جنم جنم کی نوآبادیاتی غلامی کے اثرات ہیں جو ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہے۔ نو آبادیاتی احساس کمتری کے ساتھ ساتھ ، ایک اور مسئلہ بھی ہے اور وہ ہے سوشل میڈیا ۔ اب صرف صحافی حضرات ہی کو نہیں ، سب کو سوشل میڈیا کی ریٹنگ چاہیے۔ پولیس افسران کے دفتر آنیوں جانیوں کی شوٹنگ اتنے زاویوں سے ہو رہی ہوتی ہے کہ آدمی حیران ہوتا ہے یہ پولیس ہے یا کسی فلم کی شوٹنگ ہو رہی ہے۔ زمین پر ، معاشرے میں کارکردگی ہو یا نہ ہو لیکن سوشل میڈیا پر ایسے ایسے کارروائیاں ڈالی جاتی ہیں کہ اس فوٹو شوٹ انسان دوستی کو دیکھ کر لگتا ہے پولیس افسران کی تربیت آج کل ابو بن ادھم کا کوئی شاگرد کر رہا ہے۔ جب سوشل میڈیا ہی مطلوب و مقصود ہو اور نیچے سے اوپر تک سب سوشل میڈیا پر ہی کارروائی ڈالنے کو حقیقی کامیابی سمجھنے لگیں تو پھر ظاہر ہے مائلز اور جارج کی ہی سنی جائے گی۔ جہلم کے کسی مقامی آدمی کی شکایت پر پولیس جوبھی کارروائی کر لے ، کیا ہو گا؟ زیادہ سے زیادہ مقامی اخبارات میں کوئی خبر چھپ جائے گی۔ لیکن جب مائلز صاحب کی ٹویٹ پر جہلم پولیس قربانت شوم کرتی تشریف لائے گی تو یہ ایک بڑی خبر ہو گی۔ دولہے کی طرح مائلز صاحب آئیں گے ،کیمرے لگے ہوں گے ، ویڈیوز، فوٹوز ، خبریں ، تجزیے اور اس کے بعد مقامی افسران کے نہ ختم ہونے والے انٹر ویوز اور وی لاگ۔ سوشل میڈیا کی اس چکا چوند میں مقامی لوگوں کی اوقات ہی کیا ہے؟ مقامی آبادی کا اگر کوئی مسئلہ ہے تو اسے چاہیے وہ بھی بیرون ملک سے کسی مائلز اور جارج کی خدمات حاصل کریں ، کام فوری ہو جائے گا۔ اساتذہ ہر سال احتجاج کرتے ہیں سڑکوں پر ان کی تذلیل ہوتی ہے، اب کی بار وہ بھی ذرا کسی جارج اور مائلز سے مطالبہ کروا کے دیکھیں ، کیا عجب بیورکریسی جارج اور مائلز کے سامنے اسی طرح جھک جائے جیسے وزیر تعلیم ، اسمبلی میں وزیر اعلی کے آگے جھکے پائے گئے۔
81