خود نوشت کسی کی بھی ہو ، اس کا مطالعہ انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ’ لوگ حقائق نہیں لکھتے ، اپنی ادھوری خواہشات کو حقیقت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یہ سچ بھی نہیں لکھتے ، جھوٹ کی ملمع کاری کرتے ہیں۔ پھر ان میں واقعات کا بیان کم ہوتا ہے اور اپنے شخصی فضائل کا مبالغہ زیادہ ہوتا ہے۔ مصنف ہی اپنے عہد کا معیار ٹھہرتا ہے اور ہر وہ شخص راندہ درگاہ قرار پاتا ہے جس نے کسی بھی زمانے میں ، کسی بھی درجے میں مصنف سے اختلاف کی جرات کی ہو۔ مصنف کی ذات ہی کسوٹی ہوتی ہے اور وہ ناتراشیدہ جبلت پر اپنے عہد کو پرکھتا پھرتا ہے۔ اپنے خاندان کے فضائل یوں بیان کیے جاتے ہیں کہ گویا قارئین اس عظیم خانوادے میں سے کسی ایک رجل رشید کے تعارف سے بھی محروم رہ گئے تو عمر رائیگاں کے خسارے میں ڈوب مریں گے۔ اظہار الحق صاحب کی خود نوشت کی اشاعت کی خبر ملی تو سوچا یہ اظہار صاحب کس کام میں پڑ گئے پھر ایک خیال نے تھام لیا کہ یہ اظہار الحق صاحب کی خود نوشت ہے ، یہ یقینا مختلف ہو گی۔ پھر ایک دن اظہار صاحب کا محبت نامہ ملا ، یہ بکھری ہے میری داستاں کا نسخہ تھا۔ ایسے ہی اٹھایا کہ دیکھوں تو سہی کیا لکھا ہے اور پھر یوں ہوا کہ پڑھتے پڑھتے پہر بیت گیا۔ کوئی خود نوشت ایسی شاندار بھی ہو سکتی ہے ، اس کا اندازہ نہیں تھا۔ آپ شاید اسے مبالغہ کہیں ، لیکن میں سچ کہوں کہ رسول حمزہ توف کی ’ میرا داغستان‘ کے بعد اگر کسی کتاب نے دیوار دل پر دستک دی ہے تو وہ جناب اظہار الحق کی یہ بکھری ہوئی داستان ہے۔ ذرا آغاز تو دیکھیے، لکھتے ہیں: ’سحری کھائی اور بیگ ہاتھوں میں لیے نکل پڑے۔ دسمبر کا وسط تھا لیکن سردی کا نام و نشان نہ تھا۔ سویٹر بھی بوجھ لگ رہے تھے۔ ہم سندر بن پر سوار ہوئے، ڈھاکہ پیچھے رہ گیا اور دیکھتے دیکھتے گھنا جنگل شروع ہو گیا۔ ٹرین کے دونوں طرف بانسوں کی دنیا آباد تھی ۔ اب سردی محسوس ہونے لگی۔ یہاں تک کہ میں نے کھیس لپیٹ لیا اور آفتاب نے سامان سے کمبل نکال کر اوڑھ لیا۔ کبھی کبھی کوئی بستی آ جاتی جس کے بانس سے بنے مکان آم اور کیلے کے درختوں میں گھرے ہوتے۔ پھر کچھ کھیت جن میں چاول کی فصل نظر آتی اور پھر وہی ختم نہ ہونے والا جنگل۔ بے شمار درخت جن کے ہم نام جانتے تھے نہ پہلے کبھی دیکھے تھے۔جنگل میمن سنگھ تک ساتھ چلتا رہا ۔ تین گھنٹوں بعد ہم جمال پور کے سٹیشن پر اترے۔ باہر نکلے تو چاروں طرف سائیکل رکشے کھڑے تھے۔ سائیکل رکشے نے ہمیں جمال پور کے بازار سے گزارا اور شیر پور گھاٹ اتار دیا۔ سامنے دریا تھا لیکن اترا ہوا۔ ایک کم سن لڑکا ہماری کشتی کو کھیل رہا تھا ۔ گھاٹ کے دوسرے کنارے ہم بس میں بیٹھے۔ دس میل بعد بس نے شیر پور ٹائون اتارا۔ ایک بار پھر سائیکل رکشے پر بیٹھ کر ہم بازار پہنچے۔ یوسف کلینک پر باقر ہمارا منتظر تھا ۔اس کا گائوں جگنی مورا چار میل دور تھا جہاں وہ ہمیں سائیکل رکشے پر لے گیا۔ گائوں ہمارے حساب سے گائوں نہ تھا ، ڈھوکوں کا مجموعہ تھا۔ کیونکہ ہر خاندان کا مکان اس کے کھیتوں کے درمیان تھا۔ ہر مکان کے چاروں طرف درختوں کا باغ تھا ۔ مکان پتھر یا گارے کے نہیں تھے ، بانس کے ڈنڈوں ، پتوں اور پٹ سن کی تیلیوں سے بنے تھے ۔ ہر طرف پیڑ ہی پیڑ تھے ۔ناریل کے پیڑ ، کٹھل کے پیڑ ، املی کے پیڑ ، بیل کے پیڑ اور نہ جانے کون کون سے پیڑ۔ انناس کا پودا بھی دیکھا ۔ بالکل کوار گندل کے پودے کی طرح لگ رہا تھا۔ صحنوں میں چاول کی فصل کٹی ہوئی پڑی تھی ۔ عورتیں اور مرد اس پر کام کر رہے تھے۔ کچھ کھیت ہر گھر کے ساتھ صرف سبزی کے لیے مخصوص تھے ۔شاید ہی کوئی گھر بازار سے سبزی لیتاہو۔ دوسرے دن صبح صبح باقر ہمیں جھیل پر لے گیا۔ اِچھلی بِل بہت بڑی جھیل تھی۔ اتنی بڑی کہ دوسرا کنارہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کنارے پر دلدل ہی دلدل تھی۔ چھوٹی سی نائو تھی جس پر ہم نے سیر کرنا تھی۔ ہم نے جوتے اتار کر کنارے پر رکھے اور نائو کی اس چوبی سطح پر بیٹھ گئے جو چبوترے کی طرح تھی۔ کشتی چلانے والا لڑکا موجود تھا لیکن باقر خود کشتی چلا رہا تھا۔ یہ بھی مہمان نوازی کا ایک اسلوب تھا۔ ہماری کشتی پر ایک بوڑھا بھی سوار تھا۔ جھیل کے عین درمیان میں پہنچ کر ہم نے ایک لڑکے کو دیکھا جو پانی میں کچھ تلاش کر رہا تھا۔ باقر نے بتایا کہ یہ اپنی کشتی پانی میں رکھ کر گیا تھا ، اب یہ اسے ڈھونڈ نکالے گا اور چلا جائے گا۔ تھوڑی دیر میں لڑکے نے کشتی ڈھونڈ نکالی ۔ وہ اسے کمال ہوشیاری سے اوندھی حالت میں سطح پر لے آیا اور اسے سیدھا کر دیا۔ ہم حیران تھے کہ کشتی سے پانی کس طرح نکلے گا ۔ اچانک بوڑھا ہماری کشتی سے کود کر اُس کشتی میں سوار ہو گیا۔ اس نے ایک پائوں ایک سرے پر رکھا اور دوسرا دوسرے سرے پر ۔ پھر وہ دونوں پائوں پر باری باری زور دینے لگا ۔ کشتی ہچکولے کھانے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا پانی کشتی سے نکل گیا۔ تب وہ لڑکا بھی کشتی پر سوار ہو گیا۔ بوڑھے نے جال پکڑا ، لڑکے نے بانس ہاتھ میں لے کر اتنی تیز رفتاری سے کشتی چلائی کہ ہم ششدر رہ گئے‘‘۔ اظہار صاحب کی اس خود نوشت میں خبط عظمت نہیں ، اپنی غلطیوں کا اعتراف موجود ہے۔ انہوں نے اپنے عہد کو اپنی ذات کی کسوٹی پر نہیں پرکھا ، بس اپنا مشاہدہ بیان کر دیا ہے۔ خاندان کے فضائل بھی بیان نہیں کیے۔ خود کو معیار اور مرکز بھی قرار نہیں دیا۔ بس یوں سمجھیے کہ ہر وہ چیز جو کسی بھی خود نوشت سے بندے کو اکتا دیتی ہے اس کتاب میں کہیں نہیں ملے گی۔ اس میں فطرت ہے ، اس کی رنگینیاں ہیں ، عملی زندگی ہے اور اس کے مسائل ہیں ، فیصلے ہیں اور ان کا معروضی تجزیہ ہے ، کہیں پرکھنے کی نوبت آئی ہے تو اپنی ذات کو بھی پرکھا ہے، نقد کیا ہے تو اپنے آپ پر بھی کیا ہے۔ایسی معروضیت ، ایسا اسلوب ، زمین اور مٹی سے ایسی وابستگی ، اس خود نوشت نے دل موہ لیا ہے۔یہ بکھری داستا ن سہی ، مگر یہ اپنے قاری کو سمیٹ لیتی ہے۔ اظہار صاحب لکھتے ہیں کہ یہ خود نوشت مکمل نہیں ہوئی ، جاری ہے۔ اور میں سوچتا ہوں اگر یہ دوسرا حصہ زندگی کے صرف ان مشاہدات تک محدود ہو جن کا تعلق مٹی ، گائوں ، تہذیب ، اور رشتوں سے ہو تو یہ اس تشنگی کو دور کر دے جو حمزہ توف کی میرا داغستان مکمل کر کے وجود سے لپٹ گئی تھی۔ یہ کام کوئی اور نہیں کر سکتا ، اس فن کے امام اظہار الحق ہی ہیں۔مٹی ، گائوں ، تہذیب ، رشتوں پر لکھتے ہیں تو ان کی نثر پوری غزل بن جاتی ہے۔
208