پاک چین دوستی کی کئی جہتیں ہیں ، سوال یہ ہے کیا اس میں زراعت کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے؟ چین صرف ٹیکنالوجی اور انڈسٹری کے انقلاب کا نام ہی نہیں ، زراعت کی دنیا میں بھی چین نے انقلاب برپا کر رکھا ہے۔دنیا کی بیس فیصد آبادی کو خوراک فراہم کرنا کوئی معمولی کام نہیں ، چین نے نسبتا کم قابل کاشت زمین کے ساتھ یہ کام کر دکھایا ہے۔ تاہم یاد رہے کہ چین نے زرعی اصلاحات کا آغاز بڑے زمین داروں اور جاگیرداروں سے ان کی زمینیں ہی نہیں ان کے مویشی بھی ضبط کر کے عام لوگوں میں تقسیم کر کے کیا تھا۔ پاکستان بے شک یہ کام تو نہ کرے لیکن چین سے جدید زرعی میکنزم تو سیکھا اور خریدا جا سکتا ہے۔ ہماری زراعت کب تک پرانے ا ور فرسودہ ڈھانچے پر کھڑی رہے گی؟ پاکستان جس معاشی دلدل میں اتر چکا ہے، نجات کی ایک ہی صورت ہے اور وہ آئی ایم ایف نہیں، زراعت ہے۔آئی ایم ایف کے دستر خوان پر اوندھی لیٹی پاکستانی اشرافیہ کو یہ بات اچھی لگے یا بری لگے لیکن یہی حقیقت ہے۔ آئی ایم ایف آپ کو وقتی ریلیف تو دے سکتا ہے لیکن دور رس نتائج کے لیے آپ کو اپنے پوٹینشل پر کھڑا ہونا ہو گا۔ ہر ملک کا ایک فطری پوٹینشل ہوتا ہے۔ کسی کے پاس تیل ہے، کسی کے پاس گیس ہے، کوئی سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہے۔ پاکستان کافطری پوٹینشل زراعت ہے۔ لیکن ہمارا احساس کمتری اسے پوٹینشل ماننے کو ہی تیار نہیں۔ ہم نے کبھی یہ سمجھا ہی نہیں کہ زراعت بھی کوئی سنجیدہ چیز ہے۔ زراعت کا ہم نے یہ حشر نشر کیا ہے کہ اچھی خاصی معقول زمینیں رکھنے والے بھی شہروں میں معمولی معاوضوں پر نوکریاں تلاش کرتے پھر رہے ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ زمینیں کچھ خاص دیتی ہی نہیں ہیں کہ ان پر بھروسہ کر کے معیشت کے تقاضے پورے کیا جا سکیں۔ جب سے ہمارا عشروں کا احساس کمتری ڈیجیٹلائز ہوا ہے ہمیں زراعت کے نام سے چڑ سی ہو گئی ہے۔ ہمیں لگتا ہے زراعت کا نام لینے سے ہماری نام نہاد ترقی میں رکاوٹ کھڑی ہو جائے گی اور ہم ’جدت‘ سے محروم ہو جائیں گے۔چنانچہ ماہرین ہمیں بتاتے ہیں کہ آج کے دور میں زراعت سے معیشت نہیں کھڑی ہو سکتی،ہمیں انڈسٹریلائز ہونا ہو گا۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ انڈسٹریلائز ہونا چاہیے لیکن کیا زراعت نے آپ کو انڈسٹریلائز ہونے سے روک رکھا ہے؟ کیا زراعت کے ہوتے ہوئے انڈسٹریلائز نہیں ہوا جا سکتا؟ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے جدید تعلیمی اداروں کے سائنسدان اپنے زوال کا سبب بیان کرتے ہوئے مولوی پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ ان سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ عالی جاہ آپ کو سائنس کے میدان میں مہارت دکھانے کے لیے ماحول بھی میسر ہے، صلاحیت بھی، تنخواہ بھی اور وسائل بھی تو کیا آپ کو مولوی نے روک رکھا ہے کہ آپ متعلقہ شعبے میں کچھ کر دکھائیں؟ دیہی تہذیب اور اس کے ہر رنگ کو ہمارے احساس کمتری نے نفرت سے دیکھا۔ احساس کمتری ختم ہو گا تو زراعت کو ’اون‘ کیا جا سکے گا۔ احساس کمتری اتنا شدید ہے کہ اراکین پارلیمان کی پروفائل ڈائرکٹری دیکھیں تو پیشے کے شعبے میں چند ہی ہوں گے جنہوں نے زراعت لکھا ہو گا۔ دیہی پس منظر کے خاص زراعت سے وابستہ جاگیردار قسم کے حضرات بھی دل چسپی کے میدان میں ’سپیس سائنس‘ لکھ دیتے ہیں تا کہ سند رہے کہ وہ ماڈرن ہیں، پینڈو نہیں۔ ڈیجیٹل جدت پسندوں کو کچھ خبر ہی نہیں کہ زراعت سے وابستہ معیشت کی نوعیت کیا ہے ا ور اس کاحجم کیا ہے؟ زراعت کی نفی میں انڈسٹری کی بات کرنے والون سے پوچھا جانا چاہیے کہ تم نے اب تک کتنی انڈسٹریلائزیشن کر لی ہے اور مزید کرنی ہے تو کیا تمہیں زراعت نے روک رکھا ہے؟ یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ ’ایگرو انڈسٹری‘ کے امکانات بھی معمولی نہیں ہے مگر ادھر کوئی توجہ نہیں کرتا۔ ٹریکٹر وغیرہ ہر کسان کی ضرورت ہے لیکن ٹریکٹر باہر سے منگوایا جاتا ہے۔زراعت آج بھی قدیم انداز سے ہو رہی ہے۔ انڈسٹریلائزشن کے داروغوں نے زرعی آلات میں کتنی انڈسٹریلائزیشن کی ہے؟ کتنے جدید زرعی آلات مقامی سطح پر تیار ہو کر ملک میں موجود ہیں؟اور کچھ نہیں ہو پا رہا تو کم ازکم اتنا تو کیا ہوتا کہ کسان کو جدید زرعی آلات مقامی سطح پر سستے داموں بنا کر دے دیے جاتے۔ احساس کمتری کا یہ عالم ہے کہ پنجاب کے سکولوں میں پنجابی زبان بولنا منع ہے۔کہیں باقاعدہ ممنوع ہے کہیں عملا ممنوع ہے۔پینڈو کا لفظ تحقیر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ڈیجیٹل جہلاء اس دور میں بھی لاعلم ہیں کہ ایگرو اکانومی کیا ہوتی ہے، اس میں امکانات کا کیسا جہاں آباد ہوتا ہے اور دنیا اس سے کیسے فیض یاب ہو رہی ہے۔ کچھ آوازیں اٹھتی ہیں مگر وہ صرف فیشن کے لیے اٹھتی ہیں۔ان میں کسان کے مسائل کی بات نہیںہوتی۔ یہ کسان کو یکطرفہ بھاشن دے رہے ہوتے ہیں کہ زمینیں نہ بیچو بس بھوک سے مر جائو۔ زراعت کسی کی ترجیح ہی نہیں۔ کوئی ادارہ ایسا نہیں جو بتا سکے کہ گزشتہ دو سالوں میں پاکستان کی پارلیمان میں کتنے منٹ زراعت اور اس سے جڑے مسائل اور امکانات پر بات ہوئی؟ یہی حال ابلاغ کی دنیا کا ہے۔دنیا کے ہر موضوع پر سینئر اور جونیئر تجزیہ کار اس قوم کی رہنمائی کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہوتے ہیں لیکن ذرا یاد تو کیجیے مین سٹریم میڈیا میں زراعت کو کتنی بار پوری معنویت کے ساتھ موضوع بحث بنایا گیا۔ کتنے اخبارات ہیں ، بھارتی اداکارائیں چھینک مار دیں تو یہاں صفحات بھر دیے جاتے ہیں ۔ ایک دن میں سات سو چوبیس بار بتایا جاتا ہے کہ میانداد کے چھکے نے عامر خان کی شادی کو کیسے خراب کیا ، شوبز ، سیاست سپورٹس ، سب کے لیے صفحات مختص ہیں ، کیا زراعت کے لیے بھی صفحہ ہے؟کیا کوئی ٹک شو زراعت پر بھی ہوتا ہے؟ روز ایک ہی جیسے مہمانوں کو بٹھا کر وہی گھسے پٹے موضوعات پر لایعنی گفتگو فرمانے والوں نے کیا کبھی کسی نے کسان کو بھی بلا کر پوچھا ہے کہ اے زرعی ملک کے کسان ذرا بتائو تو ، تمہارے مسائل کیا ہیں؟ ہمیں زراعت میں جدت کی ضرورت ہے ، ہمیں اسے سائنسی بنیادوں پر ، اعدادوشمار کے ساتھ لے کر چلنا چاہیے ، ہمیں ایک سمارٹ ایگرو پالیسی کی ضرورت ہے۔ یہ سب ہم چین کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں کیونکہ چین یہ سب کچھ کر کے دکھا چکا ہے۔ پاک چین دوستی ایک ہمہ جہت تعلق کا نام ہے۔ اس کا دفاعی پہلو تو ہم بھارت سے حالیہ جنگ میں کامیاب ہوتادیکھ چکے ہیں ، سوال مگر وہی ہے کہ کیا پاک چین دوستی میں زراعت کو بھی موضوع بنایا جا سکتا ہے؟
105