چالیس سال سے زیادہ کی مہمان نوازی کا پاکستان کو یہ صلہ ملا ہے کہ کبھی افغانستان سے خود کش حملہ آور بیجے جاتے ہیں اور کبھی ڈرون۔ معلوم نہیں کون سے حساب ہیں جو پاکستان سے چکائے جا رہے ہیں اور ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہے۔ پاکستان نے نہ تو افغانستان کے کسی علاقے پر کوئی دعوی کیا ہے نہ ہی اس سے کوئی غیر منصفانہ مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے کہا بھی تو کیا؟ صرف اتنا کہ اپنی زمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیجیے۔ پاکستان کے اس مطالبے کے جواب میں پاکستان کا سماج ادھیڑ دیا گیا۔ تباہ کر دیا گیا۔ افغانستان کی اپنی اکانومی کا تو کوئی حال نہیں۔ یہ وار اکانومی پر کھڑا ہے۔ اس وقت بھارت افغان قیادت پر مہربان ہیا ور بھارت کی مالیاتی سرپرستی میں پاکستان کے خلاف محاذ برپا کر دیا گیا ہے۔ افغانستان اور بھارت میں ایک قدر مشترک ہے جو ہمارے ہاں کم ہی زیر بحث آئی ہے۔ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کے قیام نے بھارت ماتا کی تقسیم کی ہے۔ افغانستان کا یہ خیال ہے کہ پاکستان کے قیام سے افغانستان کی زمین تقسیم ہوئی ہے۔بھارت کا بھی پاکستان کی زمین پر دعویٰ ہے اور حکومت کانگریس کی ہو یا بی جے پی کی، یہ دعویٰ قائم رہتا ہے۔اسی طرح افغانستان کا بھی پاکستان کی زمین پر دعویٰ ہیاور حکومت ظاہر شاہ کی ہو، کرزئی کی ہو یا طالبان کی، اس دعوے میں کوئی فرق نہیں آتا۔ دنیا میں صرف دو ہی ملک ہیں جو پاکستان کی سلامتی کے خلاف باقاعدہ ایک مؤقف رکھتے ہیں اور اس کی زمین پر قبضے کی اعلانیہ خواہش رکھتے ہیں۔ ایک بھارت ہے جو آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کر پایا، دوسرا افغانستان ہے جس کے وزرا دوحہ امن معاہدے کے اعلان کی بازگشت ختم ہونے سے پہلے، ساتھ ہی ڈیورنڈ لائن کی نفی بھی فرما دیتے ہیں۔پاکستان کا نہ بھارت کی زمین پر کوئی دعویٰ ہے نہ افغانستان کی زمین پر۔ (مقبوضہ کشمیر کا تنازعہ ایک الگ چیز ہے اور وہ بھارت کا حصہ نہیں ہے) لیکن ان دونوں ممالک کا بنیادی مؤقف ہی پاکستان کی جغرافیائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔بھارت بھی پاکستان کے خلاف پانی کو ہتھیار بنا چکا ہے اور افغانستان بھی بھارت کی مالی معاونت کے ساتھ اسی راستے پر چل رہا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے وہ سندھ طاس نامی کسی معاہدے کو نہیں مانتا اور افغانستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کے لیے پاکستان کم از کم پچھلے 25 سال سے کوششیں کر رہا ہے لیکن افغانستان ایسے کسی معاہدے پر راضی نہیں ہوا۔ڈیم بنانا ہر ملک کا حق ہے اور افغانستان کا بھی۔ لیکن بین الاقوامی قانون کے مطابق نیچے کی طرف واقع ریاستوں کا بھی پانی پر حق ہوتا ہے اور اس حق کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے جہاں بین الاقوامی قوانین موجود ہیں وہیں دو طرفہ معاہدے بھی کیے جاتے ہیں۔ پاکستان عشروں سے اس معاملے میں افغانستان کے ساتھ معاہدے کی کوشش کر رہا ہے مگر افغانستان نہیں مان رہا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ایران کے ساتھ تو افغانستان کا پانی کی تقسیم کا معاہدہ موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان سے ایسا کون سا قصور ہوا ہے کہ اس کے ساتھ نہ قوم پرست حکومت کوئی معاہدہ کرنے کو تیار تھی نہ اسلام پسند حکومتوں کو یہ گوارا ہوا؟ بھارت نے پہلے دن سے افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔ ناکام ہوا۔ اب پھر بھارت وہی کھیل، کھیل رہا ہے۔ یعنی بات گھوم پھر کر وہیں چلی گئی ہے جہاں 1947 میں تھی کہ افغانستان کی زمین سے پاکستان کی سا لمیت کو چیلنج کیا جا رہا تھا۔ یہ وہ حالات ہیں جن میں پاکستانی قوم کو یکسوئی سے اس معاملے کو سمجھنا ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے۔احساس ذمہ دار کے تحت پاکستان میں بھائی چارے اور محبت کی تکرار اتنی زیادہ ہوئی کہ پڑوس اب دشمنی پر بھی اتر آئے تو ہمیں یقین نہیں آتا۔ ہمارے لوگ کنفیوز ہو جاتے ہیں۔ اس کنفیوژن سے نکل کر معاملہ فہمی کی ضرورت ہے۔ پاکستان معرض وجود میں آیا، افغانستان پڑوسی تھا، مسلمان بھی تھا لیکن اس نے اقوام متحدہ میں ہمارے خلاف ووٹ دے دیا۔ (جو بعد میں اگر چہ واپس لے لیا گیا لیکن صف بندی اور رجحان واضح ہو چکا تھا)۔ پاکستان کے وجود کو سب سے پہلے افغانستان نے تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ پاکستان کے وجود کو مٹانے کے لیے سب سے پہلی کوشش بھی افغانستان سے ہوئی۔ پاکستان کے خلاف پہلی فوج کشی افغانستان نے کی۔ پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ کا آغاز افغانستان نے کی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو بطور گورنر جنرل پاکستان پہلی دھمکی افغانستان کے سفیر نے دی۔ پاکستان کے داخلی امور میں مداخلت کی ابتدا افغانستان نے کی۔ پاکستان میں دہشتگردی کے لے پہلا کیمپ افغانستان نے قائم کیا۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا قاتل سید اکبر ببرک افغانستان کا باشندہ تھا۔ پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کی بنیاد افغانستان نے رکھی۔ پاکستان کے خلاف پہلی دہشتگرد تنظیم ’پشتون زلمے‘افغانستان کی سرپرستی میں تشکیل دی گئی۔ بلوچستان میں شورش اور بغاورت کا سرپرست افغاستان تھا۔ پاکستان کے علاقوں کو الگ ریاست بنا کر اس کی اسمبلی، اس کا پرچم تک جس ملک میں تیار ہوا اس کا نام اففغانستان تھا۔۔ پاکستان کے ایک صوبے کو پشتونستان ملک قرار دے کر اس کا پرچم اپنے قومی پرچم کے ساتھ اسی افغاانستان میں لہراتا رہا۔ یوم پشتونستان منانے کا فیصلہ افغانستان نے کیا تھا۔ افغانستان نے قیام پاکستان کو حقیقت بنتے دیکھا تو تب کے افغان وزیر اعظم ہاشم خان کی سرپرستی میں پشتون زلمے قائم کر دی گئی اور طے کیا گیا پاکستان بنتے ہی یہ زلمے گڑ بڑ پھیلائے گی اور افغان فوج پاکستان پر حملہ کر دے گی۔ پشتون تحریک کے سید جمال شاہ کے مطابق اس سلسلے میں ایک خفیہ میٹنگ ہوئی جس میں افغان سٹریٹیجک ڈیپتھ کی زلفیں سنواری گئیں۔ اس میں چیف آف اسٹاف سردار داؤد، ان کے چچا وزیر دفاع سردار شاہ محمود اور ایک پاکستانی سیاسی رہنما شریک تھے۔ افغان بادشاہ ظاہر شاہ تک نے لوئی جرگہ میں پاکستان کے خلاف تقریر کی۔بھارت میں افغانستان کے سفیر سردار نجیب اللہ نے کہا بس آج کل میں قبائلی عوام اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنی مرکزی اسمبلی کا انتخاب کر کے حکومت قائم کر لیں گے۔افغان وزیر اعظم داؤد خان نے تو پاکستان میں بغاوت کے لیے باقاعدہ ایک وزارت قائم کی اور اس کا قلمدان خود سنبھالا۔ پاکستان پہلے دن سے زیر عتاب ہے ا ور اب بھی ہے۔ پاکستان کے سماج کو بھی ا س صورت حال کی سنگینی کو اگر مگر سے بلند ہو کر سمجھنا چاہیے۔
62