173

بنگلہ دیش میں کیا ہو رہا ہے؟

بنگلہ دیش میں ہادی عثمان کی قبر کی مٹی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ ایک اور طالب علم رہنما کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اسی بات کا ڈر تھا کہ بھارت کی سرپرستی میں مکتی باہنی ماڈل کا آسیب بنگلہ دیش کو اپنی لپیٹ میں لینے جا رہا ہے اور وہی ہو رہا ہے۔ یہ وہی درندگی اور دہشت گردی ہے جو اسی بھارت کی سرپرستی میں اسی عوامی لیگ کی مکتی باہنی نے متحدہ پاکستان کے زمانوں میں کی تھی۔ بھارت نے عوامی لیگ کے ذریعے ہندتوا فاشزم کا ایک مقامی سہولت کار تلاش کیا تھا۔ اس سہولت کار کے سارے نقاب اتر گئے ا ور حسینہ واجد بھاگ کر بھارت میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی۔ اب اس کے رد عمل میں بھارت نے اپنی مسلح پراکسیز کے ذریعے بنگلہ دیش میں گندا کھیل شروع کر دیا ہے۔یہ شروعات ہیں ، یہ کھیل آگے چل کر خطر ناک ہوتا جائے گا۔ اس بات کا ڈر بھی ہے کہ یہ سلسلہ آگے بڑھے گا اور بھارت بنگلہ دیش میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کرنا چاہے گا۔ خانہ جنگی کی اس کیفیت میں بھارت کی پراکیسز کے لیے ماحول سازگار ہو جائے گا۔ا س ساز گار ماحول میں بھارت کسی بھی شکل میں مداخلت کر سکتا ہے۔ بھارت کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ بنگلہ دیش کے معاشرے پر کیا گزرتی ہے۔ وہ ایک وقت ایک زخمی ناگ کی طرح پھن پھیلائے کھڑا ہے اور اس سے یہ تکلیف برداشت نہیں ہو رہی ہے کہ اس کی عشروں کی سرمایہ کاری بنگلہ دیش میں ڈوب گئی ہے اور وہاں سے ہندتوا کے آسیب کا پھن کچل دیا گیا ہے۔ بھارت کا اگلا ٹارگٹ بنگلہ دیش کے انتخابات بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ نہیں چاہے گا کہ یہ انتخابات پر امن طریقے سے ہو سکیں اور پر امن انتقال اقتدار ہو۔ اسے نظر آ رہا ہے کہ ماحول کیا ہے۔ الیکشن میں عوامی لیگ کا صفایا نوشتہ دیوار ہے ۔ بھارت کی کوشش ہو گی کہ انتخابات کو خون سے نہلا دیا جائے۔ وہ بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام کا خواہشمند ہے۔ انتخابات کا انعقاد بھارت کے لیے ایک ڈرائونا خواب بن چکاہے۔ چنانچہ معلوم یہ ہو رہا ہے کہ بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے آخری حد تک جانے پر تیار ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد اندرا گاندھی نے کہا تھا : ہم نے نظریہ پاکستان کو خیلج بنگال میں غرق کر دیا ہے۔ عثمان ہادی کے جنازے نے ہندتوا کی ارتھی کو آگ لگا کر اس کی راکھ کو اسی خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے۔ بنگال کی زمین ہندتوا کے گماشتوں پر تنگ ہو چکی ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد یہ دوسری بار ایسا ہوا کہ ہے بنگال نے ہندتوا اور اکھنڈ بھارت کی بالادستی کو خلیج بنگال میں غرق کیا ہے۔ شیخ مجیب بنیادی طور پر ایک بھارت نواز فاشسٹ کلٹ تھا۔ بنگلہ دیش میں پہلی بغاوت اس فاشسٹ کلٹ کے خلاف ہوئی تھی اور وہ اپنی ہی بنائی ہوئی فاشسٹ فورس ، مکتی باہنی کا پس منظر رکھنے والے فوجی افسران کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ دوسری بغاوت اب حسینہ واجد کے خلاف ہوئی ہے ۔ حسینہ واجد بھی اپنے باپ کی طرح ایک بھارت نواز فاشسٹ کلٹ تھی، اس کے خلاف بھی بغاوت ہوئی۔ تاہم یہ دوسری بغاوت پہلی بغاوت سے مختلف تھی۔ پہلی بغاوت میں صرف مکتی باہنی کا پس منظر رکھنے والے فوجی افسران تھے جنہں نے رد عمل میں فاشسٹ مجیب کا خاتمہ کیا۔ دوسری بغاوت کا رنگ خالصتا عوامی ہے۔ اور دوسری بغاوت کے بعد عوامی لیگ کے بھارت نواز فوجی افسران کے خلاف بھی کارروائی ہو چکی ہے۔چونکہ حسینہ واجد کی سرپرستی بھارت کر رہا تھا اس لیے حسینہ واجد نے فوج کو بھی بھارتی پراکسی بنا دیا اور فوج کے اعلی افسران بنگلہ دیش کی بجائے بھارتی مفادات کے لیے کام کرنے لگے۔ چنانچہ حال ہی میں بنگلہ دیش کے تین جرنیلوں کو فوج سے نکال دیا گیاہے۔ایک لیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمن کو تو ڈس مس کر دیا گیا ہے۔ دوسرے لیفٹیننٹ جنرل سیف العالم، انہیں جبری ریٹائر کر دیا گیا ہے۔نہ صرف انہیں جبری ریٹائر کیا گیا ہے بلکہ ان کے اکائونٹس بھی منجمد کر دیے گئے ہیں اور صرف ان ہی کے نہیں ان کے بچوں کے اکائونٹ بھی منجمد کر دیے گئے ہیں۔ تاکہ بھارت سرکار کی پراکسی کا کردار ادا کرنے کی بدولت جو کچھ انہوں نے ہتھیایا ہے، فی الوقت اسے استعمال نہ کر سکیں۔ تیسرے میجر جنرل حامد الحق، انہیں بھی جبری ریٹائر کر کے گھر بھیج دیا گیا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ تینوں افسران ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلی جنس کے سربراہ رہ چکے۔اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے عسکری معاملات میں بھارت کس حد تک دخیل ہو چکا تھا۔ جنرل مجیب الرحمن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ قتل و غارت کا جو کھیل مکتی باہنی نے شروع کیا اس کو اب سرکاری سرپرستی میں جنرل مجیب چلا رہا تھا۔ فاشسٹ طرز حکومت میں یہ اصول طے ہو چکا تھا کہ جو عوامی لیگ کا دشمن ہے وہ بھارت کا دشمن ہے اور جو بھارت کا دشمن ہے وہ عوامی لیگ کا دشمن ہے۔ عوامی لیگ چونکہ بھارتی پراکسی کا کردار ادا کرتی رہی اس لیے بھارت اس کے سیاسی مخالفین کو اپنا دشمن سمجھتا رہا، ان مخالفین کا دونوں مل جل کر قتل عام کرتے رہے۔ کسی کو عدالتی ٹربیونلز کے ذریعے مار دیا گیا اور کئی جنرل مجیب کے نیٹ ورک کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔چٹا گانگ کے سفیان صدیقی کی تازہ رپورٹ کے مطابق یہ تین دائروں میں ہونے والی دہشت گردی تھی۔انتظامی، عدالتی اور بھارتی۔ یہ معاملات اتنے بگڑ چکے تھے کہ بنگلہ دیش کی سکیورٹی کے تقاضے کمپرومائز ہو رہے تھے۔جرنیل بنگلہ دیش کے تھے، لیکن کام بھارت کے لیے کر رہے تھے۔ ہر وہ تزویراتی منصوبہ ناکام کر لیا جاتا اور ہر وہ تجویز رد کر دی جاتی جس سے بھارت کے مفاد کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا۔ اپنے اقتدار کے لیے بنگلہ دیش آرمی میں بھارتی اثر و رسوخ کو نظر اندازکر دیاگیا۔ اب جب بدلتے حالات میں جنرل مجیب بھاگ کر بھارت گئے تو یہ سارے قصے منظر عام پر آ گئے۔ یہ جنرل مجیب ہی تھے جنہوں نے براہ راست را کے نیٹ ورک کو بنگلہ دیش میں اپنی چھتری تلے آپریٹ کرنے کی اجازت دی۔ جنرل مجیب ہی نے ان کو آخری دنوں میں بنگلہ دیش سے بحفاظت بھارت پہنچانے کے انتظامات کیے۔ اخباری خبروں کے مطابق را کے ان آپریٹرز کی تعداد دو سو سے زیادہ تھی جنہیں بنگلہ دیش سے بحفاظت بھارت پہنچایا گیا۔ ڈھاکہ ٹربیون کے مطابق ان پر کم از کم چار سو بنگالی شہریوں کے قتل کا الزام ہے۔ یہ اتنے طاقت ور تھے کہ حسینہ واجد کی سرپرستی میں کوئی قانون ان پر گرفت نہ کر سکا۔ انہوں نے ریاست کے اندر ایک ریاست بنا رکھی تھی جو بھارتی ایجنسی را کی براہ راسست نگرانی میں کام کر رہی تھی۔ اس نیٹ ورک میں شامل قریب نصف درجن جرنیلوں کے نام ان دنوں بنگلہ دیش کے اخبارات میں نمایاں ہیں جو افسران تو بنگلہ دیش کی آرمی کے تھے لیکن ان کی وفاداریاں بھارت کے ساتھ تھیں۔جنرل ضیا الاحسن، جنرل تبریز، جنرل صالح، جنرل اکبر۔۔۔۔۔ایک طویل فہرست ہے جو بتاتی ہے کہ حقیقت حال کیا تھی۔ چنانچہ جب حال ہی میں ’’مکتی جودھا‘‘ یعنی مکتی باہنی کے دہشت گردوں کی اولاد کے لیے تیس فیصد کوٹے کے خلاف تحریک چلی تو اسے کچلنے کے لیے بنگلہ دیش کی فوج کے افسران تیار نہ ہوئے۔ وہ جانتے تھے کہ اعلی افسران بھارتی پراکسی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن نظر یہ آ رہا ہے کہ بھارتی پراکسی کے اس آسیب کی کچھ جڑیں ابھی بنگلہ دیش میں باقی ہیں۔ بنگلہ دیش کے امن کے لیے ان جڑوں کو کاٹنا بہت ضروری ہے۔

بشکریہ ڈان ںیوز