غزہ سے لے کر ایران پر مسلط کی گئی امریکہ اور اسرائیل کی جنگ تک ، ہر طرف دکھوں کی مالا جیسے ٹوٹ سی گئی ہے ۔ ایسے میں کشمیر کی سسکتی انسانیت کا درد کون سمجھے گا؟ سچ مگر یہ ہے کہ کشمیر کے اس مقتل کا درد بھی بہت گہرا ہے۔ دنیا کی توجہ اگر اس طرف مبذول نہیں ہو سکی تو وہ ایک الگ معاملہ ہے۔لیکن انسانیت، ہندتوا کے ہاتھوں کشمیر میں بھی اتنی ہی گھائل ہے جتنی صہیونیت کے ہاتھوں فلسطین میں۔ ایک لاکھ لوگ جان سے گزر چکے ہیں لیکن ظلم تھمنے میں نہیں آ رہا ۔ بھارت اور اسرائیل کی یہ ایک جیسی ظلم کی داستان ہے ، بس طریقہ کار کا فرق ہے۔ کسی کو یہ بات مبالغہ لگے تو وہ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹر نیشنل ریلیشنز کی تازہ رپورٹ پڑھ لے جس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے ریاستی مظالم اور طویل ناجائز قبضے نے کشمیری عوام کی ذہنی صحت کو کس شدت سے متاثر کیا ہے۔ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ذہنی صحت کا براہ راست تعلق رہائشی حالات اور ان نسانی حقوق کی پامالی سے ہے جن کی بین الاقوامی قوانین میں بھی ضمانت دی گئی ہے۔ بھارت کے طویل قبضے کے اس دورانیے میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہندتوا کی وحشت کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، 8,000 سے زائد جبری گمشدگیاں درج کی گئی ہیں۔ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد وادی میں بر ریت اور درندگی کا ایک نیا سللسلہ شروع ہوا ہے جو بالعموم دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔ طویل کرفیو ، ظلم ، جبر ، تاریخ کی طویل ترین انٹرنیٹ بندش ، سفاک اور یک طرفہ قوانین ، ان سب نے ملا کر ایک عام کی زندگی کو دردد ناک بنا دیا ہے۔ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنزکی تحقیق کے مطابق وادی کے تقریباً 45 فیصد بالغ افراد، یعنی تقریباً 18 لاکھ، ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان میں سے 41 فیصد افراد میں ڈپریشن، 26 فیصد میں بے چینی، اور 19 فیصد میں پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کی علامات پائی جاتی ہیں۔ جن لوگوں کا سروے کیا گیا ان میں بالغ افراد میں سے تقریباً 47 فیصد نے شدید صدمہ خیز واقعات کا سامنا کیا ہے، جیسے قریبی افراد کی ہلاکت، تشدد یا جبری گرفتاری۔ 8 تا 14 سال کی عمر کے بچوں میں 22 سے 27 فیصد نفسیاتی امراض کے شکار ہیں، جو مسلسل خوفناک ماحول میں پرورش پانے کا نتیجہ ہیں۔ 1994 سے 2012 کے درمیان خودکشی کی کوششوں میں 250 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جو ذہنی دباؤ کے بڑھتے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ جموں و کشمیر کی مجموعی آبادی 1 کروڑ 25 لاکھ (2011 کی مردم شماری) کے لیے پورے خطے میں صرف 41 ماہرِ نفسیات موجود ہیں، زیادہ تر جموں اور سری نگر میں۔ ذہنی صحت کی خدمات زیادہ تر جی ایم سی سری نگر اور سکمز ہسپتال تک محدود ہیں، جبکہ دس اضلاع میں مجموعی طور پر 140 نفسیاتی بستروں کی سہولت موجود ہے۔ پورے مقبوضہ جات میں ضلعی کنسلٹنٹس کی اوسط تعداد صرف پانچ سے چھ ہے۔ 2020 میں آئی ایم ایچ اے این ایس نے 77,000 سے زائد ذہنی صحت کے مریض رپورٹ کیے، اور کووڈ 19 کے دوران ڈاکٹر ارشد حسین نے بے چینی اور ڈپریشن میں اضافہ کی نشاندہی کی۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق 61 فیصد خواتین تولیدی مسائل کی شکایت کرتی ہیں، جبکہ قومی اوسط صرف 39 فیصد ہے۔ سکمز کی تحقیق کے مطابق 65 سے 70 فیصد پی سی او ایس مریضوں میں نفسیاتی امراض پائے گئے، اور ایس ایم ایچ ایس و گورنمنٹ سائیکاٹرک ہسپتال میں روزانہ آنے والے 75 فیصد مریض خواتین ہیں۔ وادی میں سروے کی گئی 91 فیصد بیواؤں نے دوبارہ شادی پر غور نہیں کیا، جو معاشرتی اور نفسیاتی دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک مثال کے طور پر 15 سالہ اشتیاق احمد کھنڈے کو 29 جون 2010 کو قتل کیا گیا، جس کے بعد ان کی والدہ جمیلہ بانو میں ڈپریشن اور PTSD کی تشخیص ہوئی۔ یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں طویل مسلح تنازع، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، کرفیو، انٹرنیٹ بندشیں اور سماجی دباؤ عوام کی ذہنی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ بالغوں، بچوں اور خواتین میں ذہنی امراض کی بلند شرح، خودکشی کی بڑھتی ہوئی کوششیں اور محدود طبی سہولیات ایک وبائی سطح کے ذہنی بحران کی نشاندہی کرتی ہیں، جو نہ صرف موجودہ بلکہ مستقبل کی سماجی و نفسیاتی حالت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ میڈیک سینز فرنٹیئرز (MSF) اور کشمیر یونیورسٹی کے مطالعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی بالغ آبادی کا تقریباً 45 فیصد ذہنی دباؤ یا ذہنی پریشانی کا شکار ہے، جن میں سے 41 فیصد افراد میں افسردگی، 26 فیصد میں اضطراب، اور 19 فیصد میں PTSD کی علامات موجود ہیں۔ بچوں میں بھی یہ بحران نمایاں ہے: 8 تا 14 سال کے تقریباً 22 سے 27 فیصد بچے ذہنی امراض کے اثرات سے دوچار ہیں، جو مسلسل قبضے کے خوفناک ماحول میں پرورش پانے کا منطقی نتیجہ ہے۔ تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مسلسل تجربات نے لوگوں کی نفسیاتی کیفیت کو سنگین سطح تک متاثر کیا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق تقریباً 47 فیصد افراد نے کسی قسم کے شدید صدمے یا تشدد کا سامنا کیا ہے، جس میں قریبی افراد کی ہلاکت یا تشدد کی گواہی شامل ہے۔ اس طرح کے ماحول نے خودکشی کے رجحان میں بھی اضافہ کیا ہے؛ 2021 میں کشمیر میں 586 خودکشی کے کیسز درج ہوئے، جبکہ کئی ماہرین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تعداد وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ مزید برآں، کشمیر میں ذہنی صحت کی سہولیات نہایت محدود ہیں، ماہرین نفسیات کی کمی، سماجی اسٹگما، اور علاج تک محدود رسائی کے باعث یہ بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ 2022 میں قائم ہونے والے ایک ٹیلی مینٹل ہیلتھ سینٹر نے تقریباً 12,500 کالز وصول کیں، جن میں سے 500 افراد کو فوری نفسیاتی مدد کی ضرورت تھی۔ کشمیر ایک مقبوضہ علاقہ ہے ۔ یہ کوئی پر امن خطہ نہیں جہاں اعدادو شمار درست طور پر دستیاب ہوں۔ یہاں بھارت کے اکثر مظالم رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔بہت کم چیزیں رپورٹ ہو پاتی ہیں۔ اب ان بہت کم رپورٹ ہونے والے واقعات کا عالم یہ ہے تو حقیقی صورت حال کیا ہو گی؟
31