199

انسان نیکی کے کام کیوں کرتے ہیں؟

انسانی نفسیات کا طالب علم ہونے کے ناتے میں نے یہ جانا کہ انسان کی شخصیت کی کئی پرتیں اور کئی پہلو ہیں۔ اس کی شخصیت کا ایک تاریک بھی ہے اور ایک روشن پہلو بھی۔ ارتقا کے سفر میں انسان کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو جانے اور پہچانے ’دوسرے انسانوں سے محبت کے رشتے قائم کرے اور کرہ ارض پر پرامن معاشرے قائم کرے۔ ہم سب اپنی زندگی میں ایسے انسانوں کو جانتے ہیں جو اچھائی اور نیکی کے کام کرتے ہیں۔

 

میں نے جب اس موضوع پر سنجیدگی سے غور کیا کہ کیا سب نیکی کے کام ایک ہی درجے کے ہیں تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ نیکی کے کاموں کے تین مدارج ہیں۔ میں اس کالم میں آپ سے نیکی کے ان تین مدارج کے بارے میں اپنے خیالات شیر کرنا چاہتا ہوں۔ پھر آپ اپنے کومنٹس میں مجھے بتائیں گے کیا آپ میرے خیالات سے متفق ہیں یا نہیں؟

نیکی کے تین مدارج
نچلے درجے کے نیک کام
درمیانے درجے کے نیک کام
اعلیٰ درجے کے نیک کام

نچلے درجے کے نیک کام ایسے کام ہیں جو خوف کی وجہ سے کیے جاتے ہیں۔ ایسے کام بچے بھی کرتے ہیں نوجوان بھی اور بزرگ بھی۔ میں ایسے کاموں کی تین مثالیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

ایک بچہ اچھے کام اس لیے کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے ظالم و جابر باپ سے خوفزدہ ہے۔ اسے ڈر ہے کہ اگر اس نے وقت پر ہوم ورک نہ کیا تو شام کو اس کا والد اس کی پٹائی کرے گا۔

ایک ٹین ایجر اس لیے پڑھائی کرتا ہے کہ اگر وہ امتحان میں فیل ہو گیا تو اسے ندامت اور خجالت کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ اپنے عزیزوں دوستوں اور رشتہ داروں کے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا۔

 

ایک بزرگ نے اپنے دشمن کو اس لیے قتل نہیں کیا کیونکہ اسے خبر تھی کہ اسے اس دنیا میں جیل بھیج دیا جائے گا اور اس کا ایمان تھا کہ قیامت کے دن اسے قتل کرنے کی وجہ سے جہنم کا عذاب ملے گا۔

بہت سے مذہبی اور سیاسی ادارے انسان کی شخصیت کی اس قسم کی نفسیات سے واقف ہیں اسی لیے سیاسی حکمران شہریوں کو ڈراتے ہیں کہ اگر انہوں نے قانون شکنی کی تو انہیں سزا کے طور پر جیل بھیج دیا جائے گا اور مذہبی رہنما اپنے پیروکاروں کو خوفزدہ رکھتے ہیں کہ اگر انہوں نے اس دنیا میں گناہ کیے تو وہ اگلے جہان میں جہنم رسید ہو جائیں گے۔

درمیانے درجے کی نیکیاں وہ نیکیاں ہیں جو کسی انعام یا کسی جزا کی وجہ سے کی جاتی ہیں۔ ایسے لوگ اچھے نتائج کی وجہ سے نیک کام کرتے ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں تین مثالیں پیش کرتا ہوں۔

ایک طالب علم اس لیے پڑھائی میں محنت کرتا ہے کیونکہ وہ اعلیٰ نمبر حاصل کرنا چاہتا ہے تا کہ اسے سکالرشپ ملے اور اس کے گھر والوں کو اس پر فخر ہو۔

ایک جوان اس لیے محنت مزدوری کرتا ہے تا کہ اسے اچھی تنخواہ ملے اسے دولت و شہرت ملے یا اس لیے نیکی کے کام کرتا ہے کہ اسے اگلی دنیا میں جنت ملے۔

ہر معاشرے میں ایسے لیڈر اور رہنما موجود ہیں جو انہیں انعام و اکرام کی اچھی اچھی خوش خبریاں سناتے رہتے ہیں۔ ان رہنماؤں میں والدین بھی شامل ہیں، اساتذہ بھی، سیاسی حکمران بھی شامل ہیں جو تمغے اور ایوارڈ دیتے ہیں اور ایسے مذہبی رہنما بھی جو جنت کی بشارت دیتے ہیں۔

 

میری نگاہ میں سب سے اعلیٰ درجے کی نیکیاں وہ ہیں جو جزا و سزا سے بے نیاز ہو کر کی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ اپنی شخصیت کے اس اعلیٰ درجے پر پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ نیکی کا کام کرنے سے خوشی محسوس کرتے ہیں مسرت محسوس کرتے ہیں۔ زندگی میں ایک ایسی خوشی اور مسرت بھی ہے جو

ایک شاعر کو نظم کہتے ہوئے
ایک ماں کو بچے سے پیار کرتے ہوئے
ایک استاد کو شاگردوں کو پڑھاتے ہوئے
اور
ایک نرس کو اپنے مریضوں کی خدمت کرتے ہوئے حاصل ہوتی ہے

میں اپنے موقف کی وضاحت کے لیے نیکی کے تین درجات کی ایک اور مثال آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں یہ مثال تین والنٹیرز کی ہے جو اکٹھے کام کر رہے ہیں۔

پہلا والنٹیر وہ ٹین ایجر ہے جس نے قانون شکنی کی ہے اور اسے جج نے سزا دی ہے کہ وہ اپنے جرم کی پاداش میں سو گھنٹے والنٹیر کام کرے۔

دوسرا والنٹیر وہ طالب علم ہے جو اس لیے والنٹیر کا کام کر رہا ہے تاکہ وہ اس کا ذکر یونیورسٹی کی درخواست میں کرے تاکہ اسے ایک اچھی یونیورسٹی میں داخلہ مل سکے۔

 

تیسرا والنٹیر وہ بزرگ ہے جو ریٹائرمنٹ لے چکا ہے۔ وہ ایک صحتمند اور خوشحال زندگی گزار رہا ہے لیکن اپنی زندگی کو بامعنی بنانے کے لیے وہ والنٹیر کام کرتا ہے۔

میری نگاہ میں والدین اور اساتذہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں اور شاگردوں کو ادنیٰ اور اعلیٰ درجے کی نیکی کا فرق بتائیں اور انہیں اعلیٰ درجے کی نیکی کی ترغیب و تحریک دیں۔

میں بہت سے ایسے مذہبی لوگوں کو جانتا ہوں جو جہنم کے خوف یا جنت کے لالچ میں نیکیاں کرتے ہیں اور اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ بہت سے غیر مذہبی اور لامذہبی لوگ جنت کے لالچ اور جہنم کے خوف سے بے نیاز ہو کر دوسرے انسانوں کی بے لوث خدمت کرتے ہیں۔ ایسے لوگ زندگی کا یہ راز جان گئے ہیں کہ A VIRTUE IS ITS OWN REWARD

زندگی کے اس مقام تک پہنچنے کے لیے انسانوں کا روایتی مذہب سے بالا تر ہو کر انسان دوستی کے فلسفے کو گلے لگانا اہم ہے جو ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔

بشکریہ ہم سب