32

دانشور دوست حاشر ارشاد کا ’قابل اعتراض‘ ادبی تحفہ

حاشر ارشاد کے ادبی دوست اور نظریاتی رقیب ’ہم خیال مداحین اور ناراض ناقدین سب جانتے ہیں کہ وہ ایک صاحب الرائے دانشور اور نڈر لکھاری ہیں۔ وہ اپنے سچ کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ وہ مصلحت پرست اور منافقت پسند لوگوں کی رائے کی پرواہ کیے بغیر اپنا کھٹا‘ میٹھا اور کڑوا سچ بولتے بھی ہیں اور لکھتے بھی ہیں۔ اسی لیے میں جب ان کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرا ذہن یہ شعر گنگنانے لگتا ہے

 

اپنے بھی ہیں ناراض و بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

کبھی کبھار مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے ان کی رگوں میں خون نہیں بہتا آگ رقص کرتی ہے۔ اسی لیے ان کے آتشیں قلم سے نکلے لفظوں اور تحریروں میں ایک ایسی آنچ ایک ایسی کاٹ ہے جنہیں پڑھ کر لوگ ان سے الجھ پڑتے ہیں۔ ان سے مل کر مجھے ساقی فاروقی کے یہ مصرعے یاد آئے

صرف آگ پیتا ہوں
اس طرح سے جیتا ہوں
اس طرح سے جینے میں
الجھنیں بہت سی ہیں

حاشر ارشاد اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ وہ جس مشرقی ماحول میں اپنے دن رات گزارتے ہیں اس ماحول میں روایت پرستوں نے اونچی دیواریں ایستادہ کر رکھی ہیں ایسی دیواریں جو نسل در نسل کئی صدیوں سے بلند سے بلند تر ہوتی جا رہی ہیں۔ میرا ایک شعر ہے

 

اس درجہ روایات کی دیواریں اٹھائیں
نسلوں سے کسی شخص نے باہر نہیں دیکھا

حاشر ارشاد کا قلم ایک تیشہ ہے جس سے وہ ان دیواروں پر حملہ آور ہوتے ہیں تا کہ ان فرسودہ روایات کی دیواروں کی کچھ اینٹیں گریں ان میں کچھ کھڑکیاں اور دروازے بنیں تا کہ اندر کی قدیم گھٹن کم ہو اور باہر کی جدید تازہ ہوا اندر آ سکے اور آئندہ نسلیں

آزادی سے سوچ سکیں
آزادی سے بات چیت کر سکیں
اور
آزادی سے سوال کر سکیں۔

حاشر ارشاد ایک غیر روایتی شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر موضوع اور ہر مسئلے پر اپنی جداگانہ رائے رکھتے ہیں۔ حاشر کی غیر روایتی سوچ ان کے چاروں طرف پھیلے روایتی اور منافقانہ ماحول سے دست و گریبان ہو کر ایک تضاد پیدا کرتی ہے جس کے لیے انہیں ایک بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ ایسے تضاد کے بارے میں عارف عبدالمتین فرماتے ہیں

 

میری عظمت کا نشاں ’میری تباہی کی دلیل
میں نے حالات کے سانچوں میں نہ ڈھالا خود کو

ہر دور اور ہر معاشرے میں حاشر ارشاد جیسے ادیب اور فلسفی ’شاعر اور دانشور جب اصحاب بست و کشاد کو چیلنج کرتے ہیں تو ان پر دائرہ حیات تنگ کر دیا جاتا ہے

کچھ پابند سلاسل ہو جاتے ہیں
کچھ شہر بدر کر دیے جاتے ہیں
اور
کچھ غصے اور تلخی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مجھے پورا یقین ہے کہ حاشر ارشاد نے بھی اپنی غیر روایتی شخصیت اور طرز زندگی کی بھاری قیمت ادا کی ہو گی۔ وہ اپنے ماضی میں ایک ایسے دور سے بھی گزرے جس کے بارے میں کتاب کے دیباچے میں رقم طراز ہیں ’قلم سے جڑے سب رشتوں پر اس دوران بہت گرد پڑ گئی۔ پاس سے گزرتا تھا تو پہچان نہیں پاتا تھا۔ پھر کچھ دوستوں نے یاد کرایا کہ زندگی جامد سی ہو چلی ہے۔ لہجے میں تلخی در آئی ہے۔ برسوں سے گردا گرد ہوتا تماشا دیکھ کر جی اوب سا گیا۔ بات سنی تو ہے پر کہی نہیں ہے۔ یوں لگا کہ اب بھی نہ کہہ سکا تو مر ہی نہ جاؤں۔ ایک عمر کے بعد قلم اٹھایا‘ حاشر ارشاد کا یہ اعتراف پڑھ کر عباس تابش کا شعر یاد آیا

 

سکوت دہر رگوں میں اتر گیا ہوتا
اگر میں شعر نہ کہتا تو مر گیا ہوتا

ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے حاشر ارشاد کی تخلیقات کی روشنی میں جب میں نے ان کی شخصیت کا مطالعہ و تجزیہ کرنا چاہا تو مجھے اندازہ ہوا کہ ان کی غیر معمولی شخصیت کی نشوونما میں ان کے والدین نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے والدین علم دوست اور ادب دوست انسان تھے۔ حاشر ارشاد نے اپنے والدین سے لفظوں اور خیالوں کی کرامات سیکھیں۔

حاشر ارشاد کی شخصیت میں روایت سے بغاوت کے رنگ نوجوانی میں ہی ظاہر ہونے لگے تھے۔ انہوں نے اپنے والد کو جب چیلنج کیا کہ وہ انہیں نماز پڑھنے پر کیوں مجبور کر رہے ہیں تو ان کے والد نے ان کے سوال اور اعتراض کو بے ادبی یا گستاخی نہ سمجھا بلکہ انہیں اجازت دی کہ وہ مختلف مذاہب اور مختلف روایات کا خود مطالعہ اور تجزیہ کریں اور پھر فیصلہ کریں کہ انہوں نے مذہب کی خوش دلی سے پیروی کرنی ہے یا خدا کو خدا حافظ کہنا ہے۔

حاشر ارشاد اپنے مضمون ’جب میں پہلی بار ملحد ہوا‘ میں اپنے والد کے ساتھ مکالمے کے بارے میں لکھتے ہیں
’ابو کو کتاب پھر نیچے رکھنی پڑی
’ظاہر ہے۔ اسی لیے نماز کی پابندی بھی صرف مسلمان پر ہی فرض ہو گی۔ اس میں مسئلہ کیا ہے۔ تم مسلمان ہو اور تم پر نماز فرض ہے۔ ‘

 

’لیکن یہ فیصلہ کس نے کیا کہ میں مسلمان ہوں‘ اب میں کڑیاں ملا سکتا تھا۔ ’یہ فیصلہ اگر میں خود کروں گا تو پھر مجھ پر اسلام کی پابندیاں لگ سکتی ہیں‘

ابو کے ماتھے پر اب شکنیں آ گئی تھیں۔
’تم یہ کہہ رہے ہو کہ تم مسلمان نہیں ہو‘

’نہیں میں یہ نہیں کہہ رہا۔ میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ میں اسلام میں داخل ہوتا ہوں یا نہیں یہ میرا سوچا سمجھا فیصلہ ہونا چاہیے۔ ‘

’ تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ تمہیں سوچ سمجھ کر اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق ہے اور جب تک یہ فیصلہ تم نہ کرو یہ مناسب نہیں ہے کہ میں اس حوالے سے تم پر کوئی پابندی عاید کروں یا تمہیں کسی بات پر مجبور کروں۔

آج کے بعد سے تم نے نماز پڑھنی ہے یا نہیں روزہ رکھنا ہے یا نہیں۔ یہ تمہارے فیصلے ہیں ’

حاشر ارشاد اپنی زندگی میں علم و آگہی کے کئی ادوار سے گزرے اور نظریاتی ارتقا کے کئی مقامات پر پڑاؤ ڈالا۔

حاشر ارشاد کی تخلیقات سے واضح ہوتا ہے کہ اب ان کا جس جگہ نظریاتی پڑاؤ ہے وہاں انہوں نے رنگ ’نسل‘ زبان اور مذہب سے بالا تر ہو کر انسان دوستی کے فلسفے کو گلے لگا رکھا ہے۔ وہ پاکستان میں ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں جہاں عورتوں اور اقلیتوں کو مردوں کے برابر حقوق و مراعات حاصل ہوں۔ وہ اپنے مضمون ’یوم پاکستان اور غدار کا خواب‘ کے آخر میں لکھتے ہیں

 

’ بند آنکھوں سے خواب دیکھے جا سکتے ہیں تو میں بھی یہی کرتا ہوں۔
ایک ایسے پاکستان کے خواب
جہاں عقیدہ آپ کی حیثیت کا تعین نہ کرے۔
جہاں آپ کی صنف آپ کی راہ میں مزاحم نہ ہو
جہاں سوال کرنے کا حق ملے
جہاں نفرت کا بیوپار نہ ہو۔

کیا پتہ ایک یوم پاکستان ایسا بھی ہو جب ہم طاقت کی نہیں انسان دوستی اور انسان پروری کی نمائش کے قابل ہوں۔ ایک ایسا یوم پاکستان جس پر پطرس مسیح بھی اتنا ہی خوش ہو جتنا حاشر بن ارشاد ’

حاشر ارشاد اپنے خاندان کے چند بزرگوں کی طرح ایک مثالیت پسند آدرشی انسان ہیں اسی لیے جب ان کے مثالیت پسندی حقیقت پسندی سے ٹکراتی ہے تو وہ کچھ افسردہ ہو جاتے ہیں کچھ دکھی ہو جاتے ہیں کچھ اداس ہو جاتے ہیں اور یہ اداسی و افسردگی کبھی کبھار ان کی شخصیت کو جلالی بنا دیتی ہے اور ان کی تخلیقات میں طنز بن کر ابھرتی ہے اور قاری کے جذبات کو مجروح کر دیتی ہے۔

حاشر ارشاد چونکہ ایک آزاد منش انسان ہیں اس لیے ان کا موقف ہے کہ ایک آزاد معاشرے میں ہر انسان کو اپنے خیالات اور نظریات اور تصورات کے اظہار کی پوری آزادی ہونی چاہیے۔ حاشر ارشاد کسی پنڈت کسی پادری کسی مولوی یا کسی ریبائی کے خطبے اور مونولاگ کی بجائے سقراط اور فرائڈ کی طرح مکالمے اور ڈائلاگ پر زیادہ ایمان رکھتے ہیں کیونکہ ڈائلاگ حقیقت کی تلاش میں ہمارا خضر راہ بنتا ہے اور سچ سے ہمارا تعارف کرواتا ہے

 

حاشر ارشاد کی خواہش ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں ایک ایسا ماحول تخلیق کریں جہاں نوجوان اور بزرگ ’کالے اور گورے‘ غریب اور امیر ’مرد اور عورتیں‘ پاپی اور پارسا سب ایک دوسرے سے اپنے تجربے مشاہدے مطالعے اور تجزیے کی بنیاد پر پر معنی گفتگو کر سکیں اور عقیدے اور اندھی تقلید سے بالاتر ہو کر انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی عقل ’اپنی ذہانت‘ اپنے ضمیر اور اپنی دانائی کی روشنی میں اپنے مسائل کا حل تلاش کر سکیں اور پر امن معاشرہ قائم کر سکیں۔

حاشر ارشاد کی تخلیقات کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ آپ کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں اور اپنے نظریات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ جلالی حاشر ارشاد کی جمالی شریک حیات اور ’دھنک کے آٹھویں رنگ‘ کی خالق لینہ حاشر ان کی تخلیقات کے بارے میں لکھتی ہیں

’ میرا ذاتی خیال ہے ایسی تحریر لکھنا جس سے کسی کی سوچ بدلے سب سے مشکل کام ہے۔ ایسے الفاظ کا چناؤ کرنا کہ انسان اپنے اصولوں کے بارے میں غور کرنے پر آمادہ ہو دشوار ہے۔ بات کو اس انداز سے کہنا کہ اس پر نہ صرف پڑھنے والا سوچنے پر مجبور ہو جائے بلکہ خود کھوج کی راہ پر گامزن ہو جائے کافی کٹھن ہے۔

بلا شبہ بند دماغوں کے کواڑ کھولنا آسان نہیں ’دیمک زدہ ذہنوں کی درست بنیاد رکھنا دشوار راستہ ہے‘ یادداشت پر جمی کائی کو کھرچنا آسان کہاں؟ پر حاشر کو کہاں آسان کاموں کا شوق ہے ’

 

حاشر ارشاد اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ ایک صحتمند معاشرہ تخلیق کرنے کے لیے اور زندگی سے کچھ سیکھنے کے لیے ہمیں اپنے دل کی کھڑکیاں اور دماغ کے دروازے کھلے رکھنے ہوں گے۔ ایک فلسفی نے کہا تھا
HUMAN MINDS ARE LIKE PARACHUTES
THEY WORK ONLY WHEN THEY ARE OPEN

میں حاشر ارشاد کی تخلیقات کا اتنا مداح ہوں کہ جب میں اسلام آباد گیا تو میں نے اپنے عزیز دوست سلیم ملک سے درخواست کی کہ وہ مجھے حاشر ارشاد سے ملوانے ان کے دولت کدے پر لے جائیں۔ جب ہماری ملاقات ہوئی تو ہم نے مختلف نفسیاتی سیاسی اور سماجی موضوعات پر دوستانہ تبادلہ خیال کیا۔ جب سلیم ملک پاکستان سے کینیڈا تشریف لا رہے تھے تو میں نے ان سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ میرے لیے حاشر ارشاد کی تخلیقات کا مجموعہ ’قابل اعتراض۔ وہ جو کہا نہیں گیا۔ وہ جو سنا نہیں گیا‘ لے کر آئیں۔ میری خوش بختی کہ حاشر ارشاد نے نہ صرف میرے لیے بڑی محبت اور اپنائیت سے ادبی تحفہ بھیجا بلکہ اس پر آٹوگراف کے ساتھ یہ بھی رقم کیا

اندھا ایمان اور عقلی استدلال باہم متصادم ہیں
برادر بزرگ ڈاکٹر خالد سہیل کے لیے۔ دل سے
حاشر ارشاد

 

کتاب کے ساتھ چند بک مارک کے تحفے بھی بھیجے۔ ان میں سے ایک پر لکھا ہے ’ہم سب شیشے کے گھروں میں پتھر کے ڈھیر اکٹھے کرتے جا رہے ہیں‘ ان کا یہ بک مارک دیکھ کر مجھے اپنی غزل کے چند اشعار یاد آ گئے۔ آپ بھی سن لیں

شاخ تنہائی پہ ڈر ڈر کے کھلے ہیں چپ ہیں
ہم کہ حالات کے دھاگے سے بندھے ہیں چپ ہیں
ہم نے شیشے کا مکاں مل کے بنایا لیکن
جب سے جانا ہے کہ پتھر کے بنے ہیں چپ ہیں
زیست کی آگ میں جل جل کے فغاں کرتے رہے
اور اس آگ میں کندن جو بنے ہیں چپ ہیں

میرا خیال ہے کہ حاشر ارشاد کی یہ ’قابل اعتراض‘ کتاب پاکستان میں سب نوجوانوں اور بزرگوں کو ’سب طالب علموں اور استادوں کو پڑھنی چاہیے تا کہ سکولوں اور کالجوں میں آزاد خیالی اور انسانی حقوق کے موضوع پر سیمینار منعقد ہو سکیں اور ایک ایسے ڈائلاگ کا آغاز ہو سکے جس میں نوجوان اپنے بزرگوں سے سوال کریں اور بزرگ ان سوالوں کو خوش دلی سے قبول کریں اور انہیں بے ادب اور گستاخ کہہ کر خاموش کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اس طرح نوجوان اختلاف الرائے اور ذاتی دشمنی کا فرق جانیں گے اور ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا سیکھیں گے جو ایک صحتمند‘ آزاد منش اور جمہوری معاشرہ قائم کرنے کے لیے ایک بنیادی قدر کی حیثیت رکھتا ہے۔

بشکریہ ہم سب