میری زندگی میں بچپن کا ایک وہ دور تھا جب میں ایک ذاتی خدا پر ایمان رکھتا تھا۔ میرا ایمان تھا کہ خدا ساتویں آسمان پر رہتا ہے۔ وہ ایک بادشاہ کی طرح تخت پر بیٹھا ہے۔ وہ انسانوں کی دعائیں سنتا ہے ’ان کی قربانیاں قبول کرتا ہے اور ان کے مسائل کو حل کرتا ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ خدا نے یہ کائنات تخلیق کی ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ میرا خدا کا تصور بدلتا گیا۔
نفسیات کے طالب علم ہونے کے ناتے مجھے یہ پتہ چلا کہ انسان دو دنیاؤں میں زندگی گزارتے ہیں ان کی
ایک خارجی دنیا ہے ایک داخلی دنیا
ایک حقیقی دنیا ہے ایک استعاراتی دنیا
ایک مادی دنیا ہے ایک تصوراتی دنیا
انسانوں نے اپنی تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں میں اس داخلی ’استعاراتی اور تصوراتی دنیا کی وجہ سے اساطیری اور دیومالائی کہانیوں کو جنم دیا جو انسانوں کا اجتماعی ورثہ ہیں۔ وہ کہانیاں ہمیں انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی نفسیات کو سمجھنے میں مدد کرتی ہیں۔
انسانی تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا کے مختلف معاشروں میں خدا کا تصور مختلف رہا ہے
کہیں خدا مردانہ اور کہیں زنانہ اوصاف رکھتا ہے
کہیں خدا دیوتا ہے کہیں دیوی
کہیں وہ باپ کی طرح جابر و ظالم ہے اور کہیں ماں کی طرح شفیق و مہربان
کہیں وہ ان دیکھی طاقت ہے اور کہیں نظر آنے والا بت
کہیں وہ ہمہ از اوست فلسفے کا حصہ ہے اور کہیں ہمہ اوست فلسفے کا
بعض معاشروں میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ خدا کو اپنی ذات کے باہر تلاش کرنا فضول ہے کیونکہ وہ ہمارے اندر موجود ہے وہ ہمارے ضمیر کا حصہ ہے وہ ہماری شاہ رگ سے بھی قریب ہے۔
بعض فلسفیوں کا خیال ہے کہ خدا نے انسانوں کو تخلیق نہیں کیا بلکہ انسانوں نے خدا کا تصور تخلیق کیا ہے اور پھر اسے مختلف نام دیے ہیں
کہیں وہ خدا ہے کہیں بھگوان
کہیں وہ اللہ ہے کہیں گاڈ
کہیں وہ رب ہے کہیں وہ ایک پراسرار راز
A GREAT MYSTERY
مختلف ادوار میں انسانوں نے خدا کو اپنی سوچ سمجھ سے مختلف خصوصیات کا مالک قرار دیا ہے۔
نفسیاتی طور پر یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ بعض لوگ جو عام حالات میں خدا کو نہیں مانتے وہ بھی جب کسی مصیبت کسی مسئلے یا کسی بحران کا شکار ہوتے ہیں تو خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں اور اس سے دعائیں مانگنے لگتے ہیں۔
جوں جوں انسانوں کی سوچ میں ارتقا پیدا ہوا انہوں نے جانا کہ کائنات قوانین فطرت سے چل رہی ہے اور ان قوانین پر کسی دعا کسی قربانی کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اگر خدا موجود بھی ہے تو وہ ایک خاموش تماشائی ہے وہ قوانین فطرت کو نہیں بدلتا۔ قوانین فطرت کو جاننے کے بعد انسانوں نے کر امتوں اور معجزوں کا ماننا چھوڑ دیا۔
دھیرے دھیرے انسانوں نے جانا کہ ان کے اعمال ان کے عقائد سے زیادہ اہم ہیں
بدھا نے فرمایا کہ انسان کا اپنا تجربہ اس کا سب سے بڑا استاد ہے
ایک دفعہ کرشنامورتی سے کسی شاگرد نے پوچھا کہ ان کا خدا کے بارے میں کیا تصور ہے تو انہوں نے فرمایا
’لوگ خدا پر کیوں ایمان لاتے ہیں۔ ؟ کیا اس لیے کہ اس ایمان سے
ان کی زندگی میں سکون آئے
انہیں خوشی ملے
ان کی زندگی میں خیر آئے
ان کی زندگی میں معنویت پیدا ہو۔
اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ
خدا پر ایمان لانے والے ظلم کیوں کرتے ہیں جبر کیوں کرتے ہیں؟
یہی نہیں بلکہ خدا کو ماننے والے پہلے ظلم کرتے ہیں اور پھر مسجدیں مندر اور گرجے بھی تعمیر کرتے ہیں۔
جن لوگوں نے ہیروشیما پر بم گرائے وہ بھی خدا کو مانتے تھے۔
دنیا میں نجانے کتنے صدر اور وزیر اعظم اور فوجی جرنیل ہیں جو خدا کو مانتے ہیں اور اپنی رعایا پر ظلم ڈھاتے ہیں ’۔
جب ہم اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ
کیا خدا کا کوئی وجود ہے؟
تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ خدا کی تعریف پر ساری دنیا کے انسانوں کا اتفاق نہیں ہے کیونکہ مختلف لوگوں کے اذہان میں خدا کا تصور مختلف ہے۔ بعض ماہرین لسانیات کا خیال ہے کہ لفظ۔ خدا۔ کو متروک قرار دینا چاہیے کیونکہ اس کی بحث سے زندگی کا مسئلہ سلجھنے کی بجائے اور الجھ جاتا ہے۔
جب ہم لفظ۔ وجود۔ استعمال کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں مادی چیزوں کا تصور ابھرتا ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا خدا ایک مادی چیز ہے اس لیے اس کا وجود ہے
اگر خدا کا وجود غیر مادی ہے تو اسے لوگ اپنے ایمان اور ایمان بالغیب کی وجہ سے مانتے ہیں عقلی دلائل کی وجہ سے نہیں۔
خدا کو ماننے والے خدا کو اس لیے مانتے ہیں کیونکہ وہ پیغمبروں اور آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو پیغمبروں اور آسمانی کتابوں کو نہیں مانتے وہ خدا کو بھی نہیں مانتے۔
جب ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں انداز ہوتا ہے کہ پچھلی دو صدیوں میں روایتی مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہنے والے انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے
ساری دنیا میں مذہب اور خدا کو نہ ماننے والوں کی تعداد
سنہ انیس سو میں ایک فیصد تھی
جو بڑھتے بڑھتے
دو ہزار میں پندرہ فیصد ہو گئی
کینیڈا میں مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہنے والوں کی تعداد بیس فیصد ہے
اور
سکنڈے نیوین ممالک میں ان کی تعداد پچاس فیصد سے بڑھ گئی ہے وہ اب معاشرے میں اکثریت میں آ گئے ہیں
اس تبدیلی کی ایک وجہ سائنسدانوں کی تعلیمات ہیں اس تبدیلی میں
چارلز ڈارون جیسے ماہرین بشریات
سگمنڈ فرائڈ جیسے ماہرین نفسیات
کارل مارکس جیسے ماہرین سماجیات
اور
سٹؤن ہاکنگ جیسے ماہرین فلکیات
کی تعلیمات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
ان حقائق کی بنا پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جوں جوں ماہرین بشریات ’نفسیات اور سماجیات کی تعلیمات عام ہوتی جا رہی ہیں ساری دنیا میں روایتی مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔
بہت سے فلسفیوں کا یہ خیال ہے کہ خدا کا تصور ایک ایسا استعارہ ہے جس کو ہر دور کا انسان انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی عقل اور شعور کے مطابق معنی دیتا ہے۔
