کیا آپ نے کبھی آسمان سے برف گرتی دیکھی ہے؟
کیا آپ کبھی اپنی گلی میں برف پر پھسلے ہیں؟
کیا آپ نے کبھی اپنے ہاتھوں سے سنو مین بنایا ہے؟
آج سے کئی برس اور کئی دہائیاں پیشتر میں نے جب ایران میں پہلی دفعہ برف دیکھی تھی تو میں ایک بچے کی طرح مچلا تھا ’بھاگا بھاگا گھر سے گلی میں آ گیا تھا اور برف کے گالوں کو آسمان سے گرتے حیرت سے اتنی دیر تک دیکھتا رہا تھا کہ میرے کپڑوں کے ساتھ ساتھ میرے سر اور داڑھی کے کالے بال سفید ہو گئے تھے۔ مجھے یوں لگا تھا جیسے میں ایک سنو مین بن گیا ہوں۔ برف کچھ دیر گرتی رہی تھی پھر بند ہو گئی تھی اور دھیرے دھیرے پگھل گئی تھی۔ اگلے دن یوں لگا تھا جیسے برف کبھی گری ہی نہ ہو۔
دوسری بار کینیڈا میں برف گری تو سارا دن اور ساری رات گرتی رہی۔ صبح اٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھا تو یوں لگا جیسے سارے شہر نے برف کی چادر اوڑھ رکھی ہو۔ وہ برفستان بن گیا ہو۔
گلیوں میں برف
بازاروں میں برف
گاڑیوں پر برف
گھروں کی چھتوں پر برف
شہر کی ساری گندگی ساری غلاظت سارے کوڑے کو برف کی چادر نے ڈھانپ دیا تھا۔ سفید برف میں ایک تازگی تھی ایک سادگی تھی ایک معصومیت تھی۔
لیکن یہ معصومیت اس وقت غائب ہو گئی جب موسم کا درجہ حرارت صفر درجے سے نیچے آیا اور برف جمنے لگی۔ برف جمتے جمتے ایک شیشے کی سل بن گئی۔
اس شام نجانے کتنے ڈرائیور ایسے پھسلے کی ان کا گاڑی کھڈ میں گر گئی۔ کسی نے پولیس کو فون کیا ’TOW TRUCK ٹو ٹرک آئے اور انہیں اور ان کی گاڑیوں کو کھڈ سے نکالا گیا۔
نجانے کتنے بزرگ اپنی لاٹھیوں کے سہارے کے باوجود ایسے پھسلے کہ کسی کی ٹانگ ٹوٹ گئی کسی کا بازو اور کسی کے کمر اور کولہے کی ہڈی۔ سارے شہر میں ایمبولنسوں کے سائرن سنائی دینے لگے جو ان بزرگوں کو ہسپتال لے کر گئے تا کہ انہیں طبی امداد مل سکے۔
برف بڑھتے بڑھتے اتنی بڑھ گئی کہ اس کی چاروں طرف پہاڑیاں دکھائی دینے لگیں۔
برف کی کثرت سے جہاں بزرگ پریشان تھے وہیں نوجوان خوش تھے کیونکہ وہ قریب کی پہاڑیوں پر جا کر سکیینگ کرنے لگے۔ وہ ان کا موسم سرما کا کھیل تھا۔
جو نوجوان بہادر اور نڈر تھے انہوں نے پہاڑوں سے DOWN HILL SKIING ڈاؤن ہل سکیینگ کی اور جو قدرے محتاط و بزدل تھے انہوں نے وادی میں CROSS COUNTRY SKIING کروس کنٹری سکیینگ کو ترجیح دی۔
پاکستان میں میں اردو کے صرف ایک لفظ۔ برف سے واقف تھا لیکن کینیڈا آ کر برف کے حوالے سے الفاظ کا ذخیرہ بڑھتا چلا گیا
SNOW
ICE
FLURRIES
SNOW FLAKES
ICECLES
FREEZING RAIN
BLACK ICE
وہ سفید برف جو سارے شہر کی غلاظتوں اور عیوب پر سفید چادر ڈالتی ہے وہ چادر بھی چند دن کے بعد اترنی شروع ہو جاتی ہے اور ایک منافق کے عیوب کی طرح جب شہر کی داخلی غلاظتیں دوبارہ ظاہر ہونے لگتی ہیں تو اس وقت برف کی کالی کیچڑ بنتی ہے جو بہت بدنما ہوتی ہے اور اس پر چلتے چلتے بہت سے شہریوں کے قدم اور ایمان متزلزل ہو جاتے ہیں۔
شہر میں قیامت اس وقت آتی ہے جب برف کا طوفان آتا ہے اور SNOW STORM کہلاتا ہے۔ گلیاں بند، بازار بند، دکانیں بند، سڑکیں بند، سکول بند۔
چند سال پیشتر ایک برف کا طوفان ایسا بھی ہم نے دیکھا جب برف کے جمنے کے بوجھ سے بجلی کی تاریں ٹوٹ گئیں اور سارے شہر میں اندھیرا چھا گیا۔
وہ اندھیرا کئی دن تک جاری رہا
لوگ موم بتی جلانے لگے
میری ایک مریضہ نے بیٹری سے ٹرانسفارمر تو لگا لیا لیکن اس میں ایسی خرابی تھی کہ سارے گھر میں کاربن مونو اوکسائیڈ پھیل گئی۔ اس کے گھر کی مسموم ہوا سے پہلے اس کا شوہر اور ساس بے ہوش ہوئے اور جب تک ایمبولنس انہیں ہسپتال لے کر گئی وہ فوت ہو چکے تھے۔،ظالم ساس کے فوت ہونے پر پہلے وہ زار و قطار روئی اور پھر کافی دیر تک ہنستی رہی۔ کہنے لگی، میری ظالم ساس کو اس کے ظلم کی سزا ملی ہے
کینیڈا میں جب برف بہت زیادہ گرتی ہے اور راستے بند ہونے لگتے ہیں تو شہر کی حکومت ان تجربہ کار ڈرائیوروں کو بھیجتی ہے جو اپنے ٹریکٹروں سے برف صاف کرتے ہیں اور سڑکوں پر نمک چھڑکتے ہیں تا کہ لوگ برف پر نہ پھسلیں۔ وہی نمک جو کبھی زخموں پر چھڑکا جاتا تھا اب سڑکوں پر مرہم کا کام کرتا ہے۔ ایک وہ بھی زمانہ تھا جب کینیڈا میں نمک پاکستان سے آتا تھا۔
برف کی فراوانی سے جو سب سے زیادہ خوش ہوتے ہیں وہ شہر کے بچے ہیں۔ وہ اپنے سنو سوٹ پہن کر اپنی ماؤں کے ساتھ گلیوں میں آ جاتے ہیں اور برف جمع کر کے سنو مین بناتے ہیں۔ میں نے ایک دفعہ اپنے علاقے کے بچوں کو سنو مین بناتے ’ہنستے کھیلتے‘ چیختے چلاتے اور اٹکھیلیاں کرتے دیکھا تو بہت محظوظ و مسحور ہوا اور گھر جا کر ایک نظم لکھی جو حاضر خدمت ہے
سنو مین
شہر کے کھیلتے کودتے ننھے منے سے بچوں نے مل کر مجھے
برف کی اک پہاڑی سے کاٹا
تراشا
مرے ہاتھ پاؤں سجائے
مجھے برف کے چھوٹے چھوٹے سے گولوں سے مضبوط کر کے
بڑے پیار سے
ایک چوراہے پہ لا کر کھڑا کر دیا
مجھ سے کچھ دیر اٹکھیلیاں
دل لگی کا بہانہ بنیں
اور پھر
جانے کیوں
چند بچوں کے ابرو اٹھے
شور و غوغا ہوا
میرے سر میرے پاؤں مرے جسم کے
چند گولے بنے
اور گولوں کو بچوں نے معصوم ہاتھوں سے خود
ایک اک کر کے اڑتی ہوا کے حوالے کیا
