153

خدا کو خدا حافظ کہنے والی ایک جوان بیٹی سے ملاقات

میرے قریبی دوست جانتے ہیں کہ میرے حلقہ یاراں میں مختلف مذاہب، مسالک اور مکاتب فکر کے مرد و زن شامل ہیں۔ ان مہربانوں سے نظریاتی اختلاف کے باوجود دوستی قائم ہے کیونکہ ہم ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔

 

چند دن پیشتر میری ایک نیک و پارسا مذہبی دوست شائستہ کا فون آیا۔ کہنے لگیں، ڈاکٹر سہیل! میری بیٹی عالیہ آپ سے ملنا چاہتی ہے اور کسی ذاتی مسئلے کے بارے میں مشورہ کرنا چاہتی ہے۔ ،

میں نے اس ہفتے عالیہ کو ایک مقامی ریستوران میں لنچ پر بلا لیا۔ وہ مجھ سے بڑی عزت و احترام سے ملیں۔

میں نے پوچھا، ”عالیہ صاحبہ! میں تو آپ کو نہیں جانتا آپ نے کس وجہ سے مجھ سے ملنے کا فیصلہ کیا؟“
کہنے لگیں ”میری والدہ آپ کا بہت احترام کرتی ہیں۔ کہتی ہیں اگر مجھے کسی مسئلے کے بارے میں مشورہ کرنا ہو تو میں ڈاکٹر سہیل سے مشورہ کرتی ہوں کیونکہ وہ بہت مفید مشورے دیتے ہیں۔ “

میں نے عالیہ سے کہا، ”کیا آپ جانتی ہیں کہ آپ کی والدہ میں اور مجھ میں بہت سے نظریاتی اختلافات ہیں۔ وہ خدا پرست ہیں اور میں انسان دوست“

کہنے لگیں،” نظریاتی اختلاف کے باوجود وہ آپ سے مشورہ کرتی ہیں۔ اسی لیے تو میں آپ کے پاس آئی ہوں“

میں نے پوچھا، ”عالیہ صاحبہ مسئلہ کیا ہے؟ “

عالیہ نے کہا، ”میری عمر بائیس برس ہے۔ میں یونیورسٹی آف ٹورانٹو میں عالمی سیاست کی طالب علم ہوں۔ میں نے دو برس پیشتر خدا کو خدا حافظ کہہ دیا ہے لیکن آج تک اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ کسی کو اپنا سچ بتا سکوں۔ آپ پہلے انسان ہیں جنہیں میں دل کی بات بتا رہی ہوں۔ “

 

میں نے پوچھا، ”نہ بتانے کی وجہ؟ “

کہنے لگیں، ”میرے دل میں ایک انجانا خوف ہے
نجانے میرے مذہبی بہن بھائی کیا کہیں گے
نجانے میرے روایتی والدین کا کیا رد عمل ہو گا
نجانے میری مذہبی کمیونٹی کے لوگ میرے ساتھ کیا حشر کریں گے“

تو کیا آپ ایک ATHEIST IN THE CLOSET ہیں؟
کہنے لگیں، ”میں ایتھیسٹ ان دی کلوزٹ نہیں، ایگنوسٹک ان دی کلوزٹ ہوں،“
”آپ کا سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟ “

میرے گھر والے مجھے عاق کر دیں گے
”میری کمیونٹی والے مجھے قتل کر دیں گے۔ میں نے سنا ہے کہ پاکستان میں کئی قتل مرتد ہو چکے ہیں“
”لیکن آپ تو کینیڈا میں رہتی ہیں“
”سنا ہے کینیڈا میں بھی کچھ شدت پسند اور تشدد پسند لوگ آ بسے ہیں“

 

”آپ کے لیے روز مرہ زندگی میں سب سے مشکل آزمائش کیا ہے؟“

”مجھے ماہ رمضان میں ہر روز جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ منافقت کرنی پڑتی ہے۔ میں روزہ تو نہیں رکھتی لیکن سب کے ساتھ افطاری کرنی پڑتی ہے۔ “

”عالیہ صاحبہ! میں نے ایک بنگلہ دیشی ایتھسسٹ اور ہیومنسٹ استانی کے ساتھ مل کر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے
BECOMING A HUMANIST
اس دوست کا نام ٹانیا ہے۔ انہیں بھی آپ کی طرح خطرہ تھا کہ ان کے روایتی اور مذہبی خاندان کو اگر پتہ چل گیا کہ اس نے خدا کو خدا حافظ کہہ دیا ہے تو وہ انہیں عاق نہ کر دے۔ اس لیے وہ ایک رات کو اپنے کپڑے اور کتابیں لے کر گھر سے بھاگ گئیں اور بیس برس تک انہیں خبر نہ ہوئی کہ وہ کہاں ہے۔“

”بیس برس کے بعد کیا ہوا؟“

”ٹانیا کو اپنی بہن بہت یاد آئیں۔ چنانچہ وہ اپنی بہن سے ملیں۔ انہیں یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ ان کی بہن کچھ اور بھی مذہبی ہو گئی تھیں اور انہوں نے حجاب پہننا شروع کر دیا تھا“
”تو پھر کیا ہوا؟“ عالیہ متجسس تھی۔

”ٹانیا نے اپنی بہن کو قائل کیا کہ انہیں خدا اور مذہب کے بارے میں تبادلہ خیال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ دو بہنوں کی محبت خدا کی محبت سے زیادہ اہم ہے۔ ٹانیا کی بہن راضی ہو گئیں اور برسوں دونوں باقی خاندان والوں سے چھپ کر ملتی رہیں۔“

 

”میری بہن عنبر بھی خدا پرست ہیں۔ جب وہ پاکستان سے کینیڈا تشریف لائیں تو ماہ رمضان تھا۔ میں ان کے لیے ٹورانٹو کے جرارڈ سٹریٹ سے مدینہ کی کھجوریں لے کر آیا تا کہ وہ آرام و سکون سے روزہ افطار کر سکیں“

”تو آپ نے اپنی بہن سے یہ انتظام کیسے کیا؟“

”میں نے اپنی بہن عنبر کو چینی فلاسفر کنفیوشس کا قول سنایا جو سنہری اصول کہلاتا ہے
دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو
جیسا کہ تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کریں
میں نے عنبر سے کہا
میں آپ کو دہریت کی تبلیغ نہیں کروں گا
آپ مجھے مذہب کی تبلیغ نہ کریں
ہم دونوں اپنے اپنے ضمیر کی پیروی کریں گے۔
میری محبت کرنے والی بہن راضی ہو گئیں اور اب ہمارے درمیان کوئی مذہبی تضاد نہیں ہے۔“

پھر میں نے عالیہ سے پوچھا
”کیا آپ کے مزاج میں ظرافت ہے یا نہیں؟“

 

”ہے بہت ہے۔ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ہنستی کھیلتی رہتی ہوں۔ ہم ایک دوسرے کو لطیفے اور مزاحیہ قصے سناتے ہیں“۔

تو پھر میں آپ کو ایک لطیفہ نما واقعہ سناتا ہوں۔ مجھے ایک صاحب نے پوچھا
ARE YOU A MUSLIM?
I SAID I AM AN OUTSTANDING MUSLIM
WHEN PEOPLE GO INSIDE THE MOSQUE
I STAND OUTSIDE
SO I AM AN OUTSTANDING MUSLIM

عالیہ جو سنجیدہ سوال کر رہی تھیں۔ کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔

”آپ کو مذہبی لوگوں سے الجھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
آپ اپنا کام کرتی رہیں
وہ اپنا کام کرتے رہیں گے۔“

”میں نے اپنے سب مذہبی دوستوں رشتہ داروں سے ہارٹ ٹو ہارٹ مکالمہ کر رکھا ہے۔ اب ہم اس بات پر متفق ہیں کہ نہ آپ ہمیں تبلیغ کریں اور نہ ہم آپ کو تبلیغ کریں گے۔ ہم سب اپنے اپنے ضمیر اور ذہانت کی روشنی میں اپنی اپنی زندگی گزاریں گے۔ اگر باقی زندگی میں ہم اپنی مرضی سے کام کر سکتے ہیں تو مذہب میں کیوں ایسا نہیں ہے۔“

 

پھر میں نے عالیہ سے پوچھا
”کیا آپ کی زندگی میں کوئی ہم خیال لوگوں کا حلقہ موجود ہے؟“
کہنے لگیں، ”نہیں“

میں نے کہا، ”آپ کبھی ہماری فیمیلی آف دی ہارٹ کے سیمینار میں آئیں۔ وہاں آپ کو بہت سے فری تھنکرز ملیں گے۔ ان آزاد خیال لوگوں میں سے
کوئی شیعہ خاندان سے ہے کوئی سنی خاندان سے
کوئی احمدی خاندان سے ہے کوئی اہل حدیث خاندان سے
کوئی عیسائی خاندان سے ہے کوئی بدہسٹ خاندان سے
کوئی کمیونسٹ خاندان سے ہے کوئی سوشلسٹ خاندان سے
کوئی انارکسٹ خاندان سے ہے کوئی ہیومنسٹ خاندان سے
آپ کبھی ہماری محفل میں آئیں تو سب آپ کو مسکرا کر اور گلے لگا کر خوش آمدید کہیں گے۔“

”جب آپ کو ہم خیال لوگ ملیں گے اور ان سے آپ کا سنجیدہ مکالمہ ہو گا تو آپ اپنی نفسیاتی اور سماجی اور نظریاتی گتھیاں سلجھانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔“

 

عالیہ نے جاتے ہوئے پوچھا
”کیا میں آپ کی کتاب
BECOMING A HUMANIST
پڑھ سکتی ہوں؟ “

”نیکی اور پوچھ پوچھ۔ آپ مجھے اپنا ای میل ایڈریس دے دیں میں اپنی سیکرٹری مارسیلینا سے کہوں گا کہ وہ آپ کو اس کتاب کی کاپی بھیج دے۔
اب آپ سے فیمیلی آف دی ہارٹ کے سیمینار میں ملاقات ہوگی جہاں میں آپ کا آپ کے ہم خیال لوگوں سے تعارف کرواؤں گا۔ ہم خیال لوگ ملیں گے تو آپ اپنی غیر روایتی سوچ میں اکیلے محسوس نہیں کریں گے۔ آپ کو بہت سے ایسے لوگ ملیں جو روایت کی شاہراہ چھوڑ کر اپنے من کی پگڈنڈی پر چل رہے ہیں۔“

جاتے ہوئے عالیہ مسکرائیں اور کہنے لگیں
”اب مجھے اندازہ ہوا کہ میری ماما آپ سے کیوں مشورہ کرتی ہیں کیونکہ آپ مفید مشورے دیتے ہیں۔“

بشکریہ ہم سب