158

زندگی کے مختلف محاذوں پر جنگ لڑنے والے

ہمارے ارد گرد نجانے کتنے مرد و زن ایسے ہیں جو زندگی کے مختلف محاذوں پر نجانے کب سے جنگیں لڑ رہے ہیں لیکن ہم ان جنگوں سے ناواقف ہیں کیونکہ ہم نے کبھی ان کی قربانیوں اور کوششوں پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کی۔ میں اس مضمون میں چند ایک محاذوں پر جنگوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

 

صنفی محاذ پر جنگ

 

میں جب بچہ تھا تو میں یہ دیکھ کر بہت برہم ہو جاتا تھا کہ ہمارا ایک ہمسایہ اپنی بیوی کو چھڑی سے مارا کرتا تھا۔ میں نے ایک دفعہ دوسرے ہمسائے سے کہا کہ ہمیں اس مظلوم و مجبور عورت کی مدد کرنی چاہیے تو وہ کہنے لگا

’ یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے‘

کینیڈا آ کر مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ اگر کسی عورت پر اس کا شوہر تشدد کرتا ہے اور وہ پولیس کو فون کرتی ہے تو پولیس اس کے گھر آ کر اس کے شوہر کو گرفتار کرتی ہے اور اسے عدالت کے سامنے پیش کرتی ہے۔

 

کینیڈا میں بھی ایک وہ دور تھا جب عورتیں اپنے ظالم و جابر شوہر کو معاف کر دیتی تھیں اور وہ شوہر جیل جانے سے بچ جاتے تھے لیکن اب کینیڈا کا قانون بدل گیا ہے۔ اب کسی شوہر کا اپنی بیوی پر تشدد کرنا بیوی کے خلاف نہیں بلکہ ریاست کے خلاف جرم سمجھا جاتا ہے۔ اب بیوی عدالت میں شہادت کے لیے بلائی جاتی ہے۔ اب وہ اپنے شوہر کو معاف نہیں کر سکتی اور انصاف کی راہ کی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

ظالم شوہر عدالت کے سامنے پیش ہوتا ہے اور جج اسے سزا دیتا ہے۔ اسے جرمانہ کرتا ہے اور اسے کچھ عرصے کے لیے جیل بھیج دیتا ہے۔

جب ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ایک طویل عرصے تک ساری دنیا میں عورتوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا تھا لیکن فیمنزم کی تحریک کی وجہ سے عورتوں نے صنفی محاذ پر جنگ لڑی اور کئی ملکوں اور معاشروں میں وہ اپنے حقوق و مراعات حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوئیں۔

 

عورتوں کے سماجی و قانونی سطح پر برابر کے حقوق حاصل کرنے کے باوجود بہت سے مرد آج بھی عورتوں کو اپنے برابر نہیں سمجھتے۔ وہ آج بھی مصر ہیں کہ عورتیں کم عقل ہیں بے وقوف ہیں کمتر درجے کی انسان ہیں۔ اسی لیے وہ عورتوں کا احترام نہیں کرتے۔

 

میں نے اپنے والد عبدالباسط سے عورتوں کا احترام کرنا اور اپنی بہن عنبرین کوثر سے عورتوں سے دوستی کرنا سیکھا۔ اب میرا عورت دوستوں کا حلقہ وسیع ہے اور ہم ایک دوسرے سے عزت و احترام سے ملتے ہیں۔

غربت کے محاذ پر جنگ

جو لوگ غریب ہوتے ہیں اور اپنی محنت مزدوری سے اپنی بیوی بچوں کا خیال رکھتے ہیں وہ غربت کے طبقاتی محاذ پر جنگ لڑتے رہتے ہیں۔

 

میرے والد عبدالباسط کہا کرتے تھے کہ ہمیں ان دو ہاتھوں کی عزت کرنی چاہیے جو مزدوری کر کے حق حلال کی کمائی کھاتے ہیں نہ کہ بھیک مانگتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔ میرے والد ملازمہ بچیوں سے بھی ’آپ‘ کہہ کر بات کرتے تھے۔

میرے والد خاص طور پر جمعدارنیوں سے عزت سے مخاطب ہوتے تھے اور ہم سے کہا کرتے تھے

’اگر یہ جمعدارنیاں ایک ماہ کے لیے ہڑتال کر دیں اور سٹرائک پر چلی جائیں تو سارا شہر بدبودار ہو جائے۔ اس لیے ہمیں ان کا احترام کرنا چاہیے‘۔

 

میں نے مشرق و مغرب میں کردار کی بجائے کلاس اور طبقے کی بنیاد پر لوگوں کی عزت ہوتی دیکھی۔ جو لوگ امیر ہیں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں چاہے وہ ڈاکٹر ہوں یا انجینئر ’بزنس مین ہوں یا وکیل وہ اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھتے ہیں۔ بعض تو مغرور و متکبر بھی ہو جاتے ہیں۔ وہ خود کو بہتر اور دوسروں کو کمتر سمجھتے ہیں اور ان کی تحقیر و تذلیل کرتے ہیں اور اپنی امارت کے نشے میں مخمور غریبوں اور مزدوروں کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں۔

 

میں نے اپنی زندگی میں پوری کوشش کی کہ میری دوستی انسانوں کے پیشے کے لحاظ سے نہیں بلکہ ان کے کردار ان کی شخصیت اور ان کی تخلیقیت کے حوالے سے ہو۔

میں ایک سوشلسٹ ہونے کے ناتے غریبوں کسانوں اور مزدوروں کا احترام کرتا ہوں اور انسانی زندگی میں ان کی گرانقدر خدمات کو سراہتا ہوں۔

تمام عمر میرے دوستوں کے حلقے میں غریب شاعر ’ادیب اور دانشور میرے بہت قریب رہے۔ ایک دفعہ میں اپنے شاعر دوست کے ساتھ امریکہ جا رہا تھا۔ سرحد پر جب امیگریشن افسر نے ہم سے پوچھا
آپ کیا کا کرتے ہیں؟
میں نے کہا میں ایک ڈاکٹر ہوں ایک ماہر نفسیات ہوں
میرے دوست نے کہا میں ایک ٹیکسی ڈرائیور ہوں

 

جب افسر نے پوچھا آپ دونوں کیسے دوست بن گئے تو میں نے کہا ہم دونوں ادیب ہیں شاعر ہیں اور امریکہ اپنے تیسرے ادیب دوست سے ملنے جا رہے ہیں۔ وہ افسر ہماری باتیں سن کر حیران ہوا۔

 

وہ عورتیں جو اپنی زندگی میں مزدوری سے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں وہ دو محاذوں پر جنگ لڑ رہی ہوتی ہیں۔

ان کی پہلی جنگ صنفی محاذ پر جنگ اور دوسری جنگ طبقاتی محاذ پر جنگ

رنگ و نسل کے محاذ پر جنگ

ساری دنیا میں نجانے کتنے لوگ ایسے ہیں جو رنگ و نسل کے محاذ پر جنگ لڑتے رہتے ہیں۔ اپارتھائیڈ کے دور میں جب میں جنوبی افریقہ گیا تو میں نے دیکھا کہ کالوں اور انڈینز کو وہ حقوق و مراعات حاصل نہیں جو گوروں کو حاصل ہیں۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا جب میں نے ساحل سمندر پر لکھا دیکھا
صرف سفید فام لوگوں کے لیے
مجھے یہ جان کر بھی حیرانی ہوئی کہ وہاں کے ہسپتال بھی علیحدہ علیحدہ تھے
سفید فام لوگوں کے لیے سفید فام ڈاکٹر اور نرسیں اور
سیاہ فام لوگوں کے لیے سیاہ فام ڈاکٹر اور نرسیں
اس حوالے سے مجھے کینیڈا میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جو میں آپ سے شیر کرنا چاہتا ہوں
کینیڈا میں میری ایک سیاہ فام دوست ہیں جن کا نام انجیلا ہے اور تعلق ٹرینیڈاڈ کے جزیرے ہے

 

ٹورانٹو آنے کے بعد اپنے نفسیاتی ہسپتال میں میری ایک سیاہ فام جوڑے سے دوستی ہوئی۔ ان کا نام پول اور نینا تھا اور ان کا تعلق جمیکا کے جزیرے سے تھا۔ میں ان کے گھر جایا کرتا تھا اور ان کے ساتھ ڈنر کھایا کرتا تھا۔

 

ایک دن میں نے پول اور نینا سے کہا کہ میں آپ کو اپنی دوست اینجیلا سے ملوانا چاہتا ہوں۔ کہنے لگے آپ انہیں ہمارے گھر ڈنر پر لے آئیں۔

اگلی دفعہ میں ان کے گھر گیا تو اینجیلا کو ساتھ لے گیا۔

مجھے یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ پول اور نینا جو مجھ سے بڑی محبت اور پیار اور اپنایت سے ملا کرتے تھے وہ اینجیلا سے بڑی سرد مہری سے ملے۔

اگلے دن جب ہسپتال میں میری ملاقات پول سے ہوئی تو میں نے بے تکلفی سے پوچھا کہ آپ نے اینجیلا سے سرد مہری کیوں اختیار کی تو وہ کہنے لگے

ڈاکٹر سہیل کیا آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ اینجیلا کے بال گھنگھریالے ہیں اور ہمارے سیدھے ہیں

اس دن سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ وہ سب سیاہ فام ہیں اور برابر ہیں لیکن پول نے مجھے بتایا کہ گھنگھریالے بالوں والے افریقہ سے آئے ہیں اور سیدھے بالوں والے ہندوستان سے اور ہندوستان سے آنے والے خود کو افریقہ سے آنے والے سیاہ فام لوگوں سے بہتر سمجھتے ہیں۔

مجھے یہ جان کر دکھ ہوا کہ سفید فام لوگوں کی طرح سیاہ فام لوگ خود بھی ایک دوسرے کے بارے میں نسلی تعصب کا شکار ہیں

 

وہ عورتیں جو مزدوری بھی کرتی ہیں اور سیاہ فام بھی ہیں وہ اپنی زندگی میں تین محاذوں پر جنگ لڑتی ہیں۔ ان کی

پہلی جنگ صنفی محاذ پر
دوسری جنگ طبقاتی محاذ پر
تیسری جنگ نسلی محاذ ہر
لڑی جاتی ہے۔
جنسی ترجیحات کے محاذ پر

ساری دنیا میں چونکہ ہیٹرو سیکسول مردوں اور عورتوں کی اکثریت ہے جو ایک دوسرے سے محبت بھی کرتے ہیں اور شادیاں بھی اس لیے ان میں سے بہت سے ہو مو سیکسول بائی سیکسول اور ٹرانس سیشول لوگوں سے تعصب سے پیش آتے ہیں۔ اسی لیے گے مرد اور لیسبین عورتیں انسانی حقوق سے محروم ہو جاتے ہیں۔

گے مردوں اور لیسبین عورتوں کے بارے میں ہیٹرو سیکسول لوگوں میں سے بعض اسے غیر فطری سمجھتے ہیں، بعض غیر اخلاقی اور بعض غیر قانونی۔

بعض ممالک کے قوانین ایسے ہیں کہ وہ انہیں ملازمت سے برطرف کر دیتے ہیں۔ جیل بھیج دیتے ہیں اور بعض انہیں سفر کرنے اور سیاحت کرنے کا ویزا ہی نہیں دیتے۔

 

کینیڈا میں چند سال پیشتر گے اور لیسبین لوگوں کو شادی کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ قانونی اجازت ملنے کے باوجود سماجی طور پر ان جوڑوں کو ہیٹروسیکسول جوڑوں کی طرح عزت و حرمت سے نہیں دیکھا جاتا۔

میں نے اپنے کلینک میں بہت سے ایسے گے مردوں اور لیسبین عورتوں کا علاج کیا ہے کیونکہ وہ اپنے خاندانوں کے تعصب کی وجہ سے اینزائٹی اور ڈپریشن کا شکار ہو گئے تھے۔

میری ملاقات جب شکاگو میں بسنے والے اردو کے گے شاعر افتی نسیم سے ہوئی تھی تو مجھے گے اور لیسبین لوگوں کے مسائل کے بارے میں جانکاری ہوئی تھی اور میں نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی جس کا عنوان ’ہر دور میں مصلوب‘ تھا۔ چونکہ اسے پاکستان میں کوئی چھاپنے کے لیے تیار نہ تھا اس لیے وہ ہندوستان سے چھپوائی گئی تھی۔
وہ عورت جو مزدور بھی ہو کالی بھی ہو اور لیسبین بھی ہو وہ اپنی زندگی میں چار محاذوں پر جنگ لڑتی ہے
پہلی جنگ صنفی محاذ پر جنگ
دوسری جنگ طبقاتی محاذ پر جنگ
تیسری جنگ رنگ و نسل کے محاذ پر جنگ
اور
چوتھی جنگ جنسی ترجیحات کے محاذ پر جنگ
ذہنی بیماری کے محاذ پر جنگ

 

جو لوگ ذپنی بیماری وراثت میں پاتے ہیں یا زندگی کی آزمائشوں سے گھبرا کر نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں انہیں بھی ایک جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ بہت سے ذہنی مریض ملازمت سے نکال دیے جاتے ہیں اور وہ غربت و عسرت کی زندگی گزارتے ہیں۔ ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں نے مختلف ہسپتالوں اور کلینکس میں کام کرنے کے دوران ایسے مریضوں کا علاج کیا اور ان کی خاندانی و سماجی جنگوں میں ان کی مدد کی۔ اس مدد کی ایک مثال پیش کرنا چاہوں گا۔

میرے ایک مریض کی بیوی ڈپریشن اک شکار تھی۔ وہ علاج کروانے سے گھبراتی تھی۔ آخر ایک دن وہ زندگی سے اتنی گھبرائی کہ اس نے خود کشی کر لی۔

اس عورت کے کیتھولک پادری نے اس کی آخری رسومات ادا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ان کے مذہب میں خودکشی حرام ہے۔

جب میرے مریض نے مجھے یہ بات بتائی تو میں نے پادری کو خط لکھا اور بتایا کہ وہ عورت ڈپریشن کا شکار تھی وہ ذہنی مریضہ تھا ہمیں ایسے لوگوں سے سختی سے نہیں بلکہ ہمدردی سے پیش آنا چاہیے۔

میرا خط پڑھ کر اس پادری نے اپنی رائے بدلی اور گرجے میں اس کی آخری رسومات ادا کیں۔ جب اس عورت کے شوہر نے میرا شکریہ ادا کیا تو میں پادری کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے میری خط کو عزت دی۔

ایک عورت اگر مزدور بھی ہو، کالی بھی ہو، لیسبین بھی ہو اور ڈپریشن کا شکار بھی ہو، وہ عورت پانچ محاذوں پر جنگ لڑتی ہے اس کی

 

پہلی جنگ صنفی محاذ پر جنگ ہے
دوسری جنگ طبقاتی محاذ پر جنگ ہے
تیسری جنگ رنگ و نسل کے محاذ پر جنگ ہے
چوتھی جنگ جنسی رجحانات کے محاذ پر جنگ ہے اور
پانچویں جنگ ذہنی بیماری کے محاذ پر جنگ ہے

پچھلی ایک صدی میں جوں جوں سماجی شعور بڑھ رہا ہے اور عوام و خواص انسانی حقوق سے آگاہ ہو رہے ہیں اقلیتوں کے لیے آسانیاں پیدا ہو رہی ہیں اور مختلف محاذوں پر جنگ لڑنے والے کامیاب ہو رہے ہیں۔ یہ تمام جنگیں ایک منصفانہ و عادلانہ اور پرامن معاشرے قائم کرنے کی انسانی کوششیں ہیں۔ یہ سب کوششیں اور کاوشیں انسانی ارتقا کا حصہ ہیں بدقسمتی سے ارتقا کا عمل ایک سست نہایت ہی سست رو عمل ہے جس میں سماجی تبدیلی لانے میں کئی نسلین لگ جاتی ہیں۔ انسانی ارتقا کا عمل ہم سے صبر اور امید کی توقع رکھتا ہے۔

ایک انسان دوست ہونے کے ناتے میں اس حقیقت سے باخبر ہوں کہ ساری دنیا کے انسان دوست مرد اور عورتیں پرامن اور منصف معاشروں کے خواب دیکھتے ہیں اور پھر ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔

آپ کی انسان دوستی اور انسانی حقوق کے بارے میں کیا رائے ہے؟

بشکریہ ہم سب