طاہر رشید
جب کوئی شخص مشرق سے مغرب ہجرت کرتا ہے تو پہلے کچھ عرصہ چاروں طرف
کچھ حیران کچھ پریشان
کچھ کھویا کھویا سا
کچھ گواچا گواچا سا پھرتا رہتا ہے۔
پھر اس کی ایک اجنبی سے ملاقات ہوتی ہے جو اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے اور اسے اپنے قریب لا کر گلے لگا لیتا ہے۔ اس طرح اس مہاجر کو دیار غیر میں اپنائیت کا احساس ہونے لگتا ہے اور وہی گلیاں اور بازار وہی ریسٹورینٹ اور شاپنگ مال جو کل تک اجنبی اجنبی لگتے تھے اب اپنے اپنے لگنے لگتے ہیں۔
آج سے نصف صدی پیشتر جب میں کینیڈا کی میموریل یونیورسٹی میں نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے آیا تھا تو کچھ عرصہ میں بھی نیوفن لینڈ کے شہر سینٹ جانز میں کھویا کھویا گواچا گواچا سا پھرتا رہتا تھا۔
پھر ایک دن ایک اجنبی ڈاکٹر نذیر کا فون آیا اور انہوں نے مجھے اپنے گھر ڈنر پر بلایا اور جب میں نے کہا کہ میرے پاس کار نہیں ہے تو کہنے لگے آپ بالکل فکر نہ کریں میں آپ کو اپنی کار میں بٹھا کر اپنے گھر لے آؤں گا اور ڈنر کے بعد چھوڑ بھی آؤں گا۔
ڈاکٹر نذیر کے گھر ایک شام ان کی بیگم فاطمہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے میرے لیے پرتکلف ڈنر کا اہتمام کیا تھا۔ اس شام ڈنر پر دوستانہ ڈائلاگ ہوا اور اس کے بعد مجھے وہ شہر اپنا اپنا لگنے لگا۔ ڈاکٹر نذیر اور فاطمہ سے دوستی آج تک قائم ہے۔ وہ میرے کینیڈا میں سب سے پرانے دوست ہیں۔
چند روز پیشتر طاہر رشید اور ندا عارف کا پیغام آیا کہ وہ کینیڈا میں نئے مہاجر ہیں۔ پاکستان سے چلتے وقت انہیں ان کی دوست تنویر جہاں نے میرا نمبر دیا تھا۔ میں نے طاہر اور ندا کو ڈنر کی دعوت دی تو انہوں نے مجھ سے وہی بات کی جو میں نے ڈاکٹر نذیر سے کی تھی۔
ہمارے پاس کار نہیں ہے۔
اور میں نے بھی وہی جواب دیا جو ڈاکٹر نذیر نے مجھے دیا تھا۔
میں آپ کو اپنی کار میں بٹھا کر لے جاؤں گا اور پھر آپ کے گھر چھوڑ بھی آؤں گا۔
طاہر اور ندا کو دعوت دینے کے بعد میں نے اپنی دوست اور محبوبہ عظمیٰ عزیز کو بھی دعوت دی تا کہ ہم دونوں مل کر طاہر اور ندا کو خوش آمدید کہہ سکیں۔
ڈنر کے دوران میں نے طاہر اور ندا کو بتایا کہ عظمیٰ عزیز ’جو پاکستان کے دانشور عزیز الحق کی بیٹی ہیں‘ کینیڈا میں مالٹن وومن کونسل کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں۔
عظمیٰ نئے مہاجروں کی معاشی و سماجی اور میں ان کی ادبی و تخلیقی حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔
میں نے طاہر اور ندا کو یہ بھی بتایا کہ جب میں لاہور میں وجاہت مسعود اور تنویر جہاں سے ملنے گیا تھا تو تنویر جہاں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ میرے کالم بڑے شوق سے پڑھتی ہیں۔ انہوں نے وجاہت مسعود کو یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ وہ مجھ سے نفسیاتی مسائل اور ان کے حل کے بارے میں کالم لکھوائیں۔ اس کے بعد ہم سب کے قارئین نے مجھے اپنے مسائل کے بارے میں خطوط اور میں نے جواب لکھے اور وہ خطوط اور جواب ہم سب پر چھپے۔
ڈنر کے دوران پتہ چلا کہ طاہر کو ادب اور موسیقی کا اور ندا کو فلمیں بنانے کا شوق ہے۔
جب طاہر نے مجھے اپنا افسانچہ۔ خالی فریم۔ سنایا تو مجھے اندازہ ہوا کہ ان کی انسانوں اور آدرشوں کے ساتھ ساتھ لفظوں سے بھی دوستی ہے۔ آپ بھی اس افسانچے سے محظوظ ہوں
’ خالی فریم‘
لکڑی کے ریک پر کھڑی شراب کی پانچ خالی بوتلیں۔ گول ’بیضوی‘ خوش رنگ ’شفاف۔ سستی ڈیکوریشن
ایک کونے میں کھڑا لوہے کا سٹینڈ۔ معمول کے کپڑوں کا اکلوتا سہارا
دیوار کے ساتھ لگا پلنگ (جسے ہرگز بیڈ نہیں کہا جا سکتا)
پلنگ کے ساتھ لنگڑی کرسی۔ خالی جگہ کا تقاضا۔
دیوار کے ساتھ ایستادہ کتابوں سے محروم کتابوں کی الماری۔
الماری کے اوپر ٹیبل لیمپ ’ایش ٹرے‘ مختلف سائز کی چابیاں ’کنگھی‘ باڈی سپرے ’کاغذ کی کچھ پرچیاں‘ نیل کٹر اور کینڈی بسکٹس کا ہاف رول۔
ساڑھے تین دیواروں میں سامنے کی دیوار خونی سرخ اور باقی ڈھائی ایش وائٹ۔ چھت بالکل سفید۔ آدھی دیوار کی جگہ فلور ٹو روف کلوزٹ۔ ایک پٹ کھلا۔ کمرے میں جھانکتی آستینیں۔
سرخ دیوار پر نارنجی پردہ۔ کمرے کے اندرونی منظر کا محافظ
چھت سے لٹکتا پنکھا۔ مسلسل ساکت رہنے سے بیزار۔ نئے موسم کے لیے بے قرار۔
چند میلی چادریں۔ میری لاپرواہی اور سہل پسندی کی عکاس۔
ایک دیوار پر آویزاں چوکور آئینہ۔ کوئی چہرہ دیکھنے کی حسرت میں گم۔
سٹیل پیتل لکڑی کے چھوٹے بڑے بارہ فریمز۔ شوخ ’پھیکے رنگوں سے بنی تصاویر۔ دو گھوڑے‘ دو عورتیں ’ایک عورت‘ ایک نوجوان دوشیزہ ’گلاب کے تین پھول (دو لال ایک سفید) خالی گلدان‘ چار بچے ’لکڑی کا گھر‘ درختوں کے سائے میں بہتا پانی ’دو اور عورتیں‘ وسیع عمارت کے سامنے سبز باغ ’ماں کی چھاتی سے لپٹا شیر خوار‘ ۔ کوئی مرد نہیں۔
سرخ دیوار میں ایک اینٹ کا سوراخ۔ ہوا ’گرد اور شور کا راستہ۔
پلنگ کے نیچے افسردہ ہارمونیم۔ دو ہاتھوں کا منتظر۔
پلنگ کی پائنتی کی جانب رکھی پلاسٹک کی پیالی۔ شاید تھوڑا دہی یا سالن
چھت کے ایک کونے میں پیوست کالا جالا۔ نیم مردہ مکڑی یا مکڑا۔ حرکت اور جنبش سے محروم
بسکٹی کارپٹ پر بکھرے ٹافیوں کے ریپر ’جلی ہوئی تیلی‘ سگریٹ کی چار خالی ڈبیاں ’ٹھنڈی چائے سے بھرا کپ‘ ایک پنسل ’دو ڈی وی ڈیز‘ ایک چارجر ’تین تکیے‘ شربت کی شیشی۔ سب زندگی کی علامت
داخلی دروازے کے عین اوپر لگا انرجی سیور۔ مدھم پیلی روشنی کا مرکز
دہنی دیوار کے وسط میں پیوست بدنما سیاہی بلب۔ روشنی کا مرکز نہ حرارت کا ذریعہ۔ بے مصرف بے کار۔ میری طرح
ڈنر کے دوران میں نے طاہر اور ندا کو دعوت دی کہ وہ تین مئی کو فیمیلی آف دی ہارٹ کے سیمینار میں شامل ہوں تا کہ ان کی شہر کے دیگر ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کے ہمراہ پاکستان سے آئی سماجی کارکن عنبرین عجائب سے بھی ملاقات ہو کیونکہ ہم ان کی عورتوں کی آزادی و خودمختاری کے بارے میں لکھی گئی کتاب ANOTHER WORLD IS POSSIBLE کی تقریب رونمائی کا اہتمام کر رہے ہیں۔
میں نے طاہر اور ندا کو یہ بھی بتایا کہ چند ماہ پیشتر میری پنجابی کے شاعر و محقق وسیم گردیزی سے بھی ملاقات ہوئی تھی جو وجاہت مسعود کا دوستانہ تحفہ تھا۔ وسیم گردیزی نے میرے اردو افسانوں کا پنجابی میں ترجمہ کیا ہے جسے اب سانجھ پبلشر امجد منہاس چھاپ رہے ہیں۔
جب میں طاہر اور ندا کو ان کے گھر چھوڑ رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ جس طرح ڈاکٹر نذیر نے کئی دہائیاں پیشتر مجھے کینیڈا میں خوش آمدید کہا تھا اور جس طرح ہم نے ان کو خوش آمدید کہا ہے عین ممکن ہے چند سالوں یا دہائیوں کے بعد طاہر اور ندا پاکستان سے آنے والے کسی جان محمد یا جنت بی بی کو خوش آمدید کہیں اور مہاجر و انصار کی دوستی کا یہ سلسلہ جاری رہے۔
جب تلک بس چل سکے، ساغر چلے
ٹورانٹو کی پہلی دھوپ۔ ڈاکٹر خالد سہیل بھائی
طاہر رشید
ایک خوبصورت رشتہ کتنے ہی نئے رشتوں کا حوالہ بن جاتا ہے۔ دیے سے دیا جلتا ہے اور زندگی روشن سے روشن تر ہونے لگتی ہے۔ محترم وجاہت مسعود بھائی سے میری پہلی بالمشافہ ملاقات کوئی بارہ برس پہلے ہوئی۔ یہ ملاقات غیر رسمی بھی تھی اور بے تکلف بھی۔ ایام کی سبک رفتاری کے باعث ملاقاتوں کا سلسلہ تو نہ بندھ سکا مگر دو برس پہلے قسمت پھر مہربان ہوئی اور ایک بہت ہی پیاری دوست رقیہ مالک کی وساطت سے وجاہت بھائی اور اُن کی اہلیہ محترمہ تنویر جہاں کے ساتھ ایک طویل نشست کا اہتمام ہوا۔ شب کی تاریکی ضیا سحر میں بدل گئی مگر گفتگو کی تشنگی باقی رہی۔
سال 2025 میں میرا اور میری اہلیہ کی کینیڈا امیگریشن کا طویل پراسیس مکمل ہوا اور ہم وجاہت بھائی کے گھر پرتکلف دعوت پر مدعو ہوئے۔ ذاکر تکہ پر سجی اُس محفل کا لمحہ لمحہ قرطاسِ دِل پر آج بھی نقش ہے۔ باتوں باتوں میں اہل ِدانش کا ذِکر چھڑا تو محترم ڈاکٹر خالد سہیل موضوعِ کلام بنے اور میں نے خالد بھائی کے ساتھ گزشتہ سات برسوں میں پروان چڑھنے والی قلبی رفاقت کا حال چھیڑ دیا۔ کسی خواب کے ایک ہی پل میں تعبیر ہو جانے کا معجزہ اُس وقت رونما ہوا جب تنویر آپا نے خالد بھائی سے گہرے روابط کا اظہار کیا اور بطور تحفہ خالد بھائی کا نمبر عنایت فرما دیا۔ بس پھر کیا تھا، کینیڈین امیگریشن کی خوشی پر خالد بھائی سے ملاقات کا خوشگوار اِمکان بازی لے گیا۔
نئے ملک کی نئے طور اطوارمیں ڈھلنے کی طویل جدوجہد میں خواب مرجھا گئے اور دیاِر غیر میں بسنے کے تلخ حقائق ہر روز نئی آب و تاب سے وا ہونے لگے۔ دھوپ کے برف میں ڈھلنے اور برف کے پگھلنے کے تمام مراحل کو وسوسوں، خوف اور اُمید کی ملی جلی کیفیت سے پار کیا تو خالد بھائی بانہیں کھول کر کھڑے تھے۔ جیسے کہہ رہے ہوں، کہ مشکلوں کا سفر بس اِتنا ہی تھا۔ نئے دیس میں بیگانگی کے مسلسل چھائے بادل آن کی آن میں چھٹ گئے اور اپنائیت کی حدِت نے مجھے اور میری اہلیہ، ندا عارف کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
کیا خبر تھی کہ جس ہستی کے طلسم نے مجھے سات سالوں سے جکڑا ہوا تھا وہ ایک فون کال کی مار تھا۔ ”کینیڈا میں مقیم ماہر نفسیات اور ادیب ڈاکٹر خالد سہیل“ کا بُت ٹوٹ گیا اور خواہشوں کے پردے سے ایک شفیق مسکراہٹ والا بھائی نمودار ہوا۔ کوئی اِتنا بڑا ہو کر، اتنا عام سا کیسے ہو سکتا ہے؟ کوئی اِتنا کامیاب ہو کر اِس قدر میسر کیسے ہو سکتا ہے؟ کوئی تہتر سال کا ہو کر میرا ہم عمر کیسے لگ سکتا ہے؟ شاید یہ میری طویل کسک کا ثمر تھا کہ پہلی ہی کال پر خالد بھائی نے بدھ کے دِن مجھے اور میری شریکِ حیات کو ہمارے من پسند افطار ڈنر پر مدعو کر لیا اور ہم بے چینی سے مقررہ دِن اور وقت کا انتظار کرنے لگے۔
بلڈنگ سے نیچے اُترے تو بقول مجید امجد نورانی پر کھولے ہوئے کوئی ہمارا خیرمقدم کرنے کو بے قرار تھا۔ خالد بھائی کے گلے لگتے ہی یوں لگا کہ یہ کوئی جسمانی جپھی نہیں ہے بلکہ روحانیت، اُنسیت اور اپنائیت سے بھرپور کوئی سحر ہے جس نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اب میری شخصیت کے طوطے کی جان کسی اور کی مٹھی میں آ چکی تھی۔ خالد بھائی کی محبوبہ (بقول خالد بھائی) عظمیٰ عزیز صاحبہ نے میری بیگم کو پرتپاک انداز میں گلے لگایا اور ہم دونوں ماورائے قیاس مسرت کے ساتھ شوخ رنگ سُرخ کار میں بیٹھ گئے۔
20 منٹ کے سفر کے دوران گفتگو بھلے تعارفی اور رسمی رہی لیکن ہر گزرتا لمحہ بیگانگی کی پرتیں اُتارتا رہا اور دھیرے دھیرے ہم اپنا حسابِ جاں برسرِعام رکھنے لگے۔
افطار ڈنر ایسے لوازمات سے مزین تھا کہ ہم دورانِ ڈِنر مخمصے کا شکار رہے۔ ایک طرف حلیم، پائے اور گلاب جامن پکار رہے تھے اور دوسری طرف خالد بھائی اور عظمیٰ جی کی انمول گفتگو۔ سو میں نے شکم اور روح کو سیر کرنے کی ایسی ترکیب بنائی کہ دِل و جاں دونوں کو یوں نہال کرتے رہے کہ زبان کو ضبط پہ مجبور کیا نا شنوائی کے ربط کو ٹوٹنے دیا۔
میں نے اور میری شریک ِحیات نے اپنی پہلی ملاقات سے شادی کے چھ برس گزر جانے تک کا احوال سنایا اور خالد بھائی سے اُن کی موجودہ اور گزشتہ محبتوں کا حال سنا۔ میں نے ایک ایک لمحے کو غنیمت جانتے ہوئے خالد بھائی سے زندگی کے باریک نفسیاتی پہلوؤں اور کامیاب ازدواجی زندگی سے متعلق کئی سوال کیے اور اُن کے تفصیلی اور زود اثر جوابات سے استفادہ بھی کیا۔
چار گھنٹوں کا وقت پلک جھپکنے میں گزر گیا لیکن ایک دیرینہ خواب بہت آسانی سے تعبیر ہوا۔ واپسی پر خالد بھائی نے ہمیں ہمارے گھر تک ڈراپ کیا اور ہمیں دو کتابوں کے تحفے سے نوازا۔ حیف کہ اُنہیں جواباً پیش کرنے کے لئے ہمارے پاس دعاؤں اور محبتوں کے سوا کچھ نہ تھا۔
کینیڈا میں مقیم ہوئے سات ماہ گزر گئے لیکن اُس شام یوں لگا کہ آج کینیڈا نے ہمیں قبول کیا ہے اور گلے لگا کر وہ سب کچھ نواز دیا ہے جس کا حقدار بننے کے لئے برسوں نہیں بلکہ دہائیوں کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔
