میرے ایک مریض کے والد مجھ سے ملنے آئے۔ کہنے لگے میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔ آپ نے میرے جوان بیٹے کا خیال رکھا اس کی تھراپی کی۔
تھراپی سے پہلے وہ مجھ سے بہت ناراض رہتا تھا۔ بہت جلد غصے میں آ جاتا تھا اور مجھے جلی کٹی سناتا تھا۔ میں اس کی سخت باتیں نرمی سے سنتا تھا اور خاموش رہتا تھا۔
تھراپی کے بعد اب وہ مجھے سے ادب سے عزت سے احترام سے ملتا ہے اور چاہت اور محبت کی باتیں کرتا ہے۔
یہ سب آپ کی تھراپی کا فیضان ہے۔
میں آج بیٹے اور آپ کے سامنے ایک اعتراف بھی کرنے آیا ہوں۔ اپنے بیٹے کی کڑوی کسیلی باتوں سے مجھے احساس ہوا کہ میں جوانی میں نہ اچھا باپ تھا نہ اچھا شوہر۔
میں سری لنکا سے کینیڈا آیا تھا۔
میں ایک نیا نیا مہاجر تھا۔
کینیڈا میں محنت مزدوری کر کے بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔
میں محبت کے رازوں سے ناواقف تھا۔
میں دن بھر کا تھکا ہارا شام کو گھر آتا تھا اور بیوی بچوں سے غصے سے پیش آتا تھا۔ نجانے کتنے مہاجر مردوں کی طرح میں بھی اپنے باس کا غصہ اپنی بیوی پر نکالتا تھا۔
وہ میری راہ تکنے کی بجائے مجھ سے خوفزدہ رہتے تھے۔
میرے غصے نے انہیں مجھ سے اتنا دور کر دیا کہ ایک شام میری بیوی مجھے چھوڑ کر میرے بچوں کو لے کر مجھ سے اتنی دور چلی گئی کہ پھر کبھی لوٹ کر نہ آئی۔
میں تنہا رہ گیا
میں اب کئی برسوں سے اکیلا رہتا ہوں اور احساس تنہائی کا شکار ہوں۔
مجھے اب احساس ہوا ہے کہ میں نے جوانی میں بہت غلطیاں کیں۔ کینیڈا میں کوئی ایسا بڑا کوئی ایسا بزرگ نہ تھا جو مجھے مشورہ دیتا میری اصلاح کرتا۔ مجھے راہ راست پر لے کر آتا۔ مجھے شوہر اور باپ بننے کی ذمہ داری سکھاتا۔ مجھے بتاتا کہ
بیوی سے محبت کا اظہار کیسے کیا جاتا ہے
بچوں سے شفقت کیسے کی جاتی ہے
میں نے محبت کے آداب دیر سے بہت دیر سے سیکھے۔
اب میں ایک عرصے سے ندامت اور خجالت کی بارش میں بھیگ چکا ہوں
میں اپنی بیوی سے معافی مانگنا چاہتا ہوں لیکن وہ مجھ سے بات تک نہیں کرنا چاہتی۔
آپ اس سے مل چکے ہیں۔
میرا بیٹا بتاتا ہے کہ وہ آپ کی بہت عزت کرتی ہے۔
میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ میری بیوی سے میری طرف سے درخواست کریں کہ وہ مجھ سے ملے تا کہ میں خود اس سے معافی مانگ سکوں۔
میں نے اس کی بیوی سے بات کی تو اس نے کہا
کہنے لگی میں اب اس سے کبھی بھی نہیں ملنا چاہتی کیونکہ اس نے میرا دل دکھایا میری محبت کی قدر نہ کی۔
میری محبت سونا تھی اور وہ لوہار تھا۔ سنار نہیں تھا۔
لوہار سونے کی قیمت نہیں جانتا
اب میں کسی سنار کا انتظار کر رہی ہوں۔
میں اس کی بیوی سے مل کر لوٹا تو پہلے مجھے اپنے شاعر چچا عارف عبدالمتین کا شعر یاد آیا
؎ جوہر بے مثال ہوں عارف
مجھ کو رہتی ہے جوہری کی تلاش
پھر مجھے ایک گیت یاد آیا۔ یہ ایک اداس گیت ہے لیکن اس بیوی کے احساسات کی ترجمانی کرتا ہے۔ آپ یو ٹیوب پر سن سکتے ہیں۔ موسیقی نے گیت کے تاثر کو دوبالا کر دیا ہے۔ اس کا نام ہے
میں اس گیت کے چند بولوں کا ترجمہ پیش کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ بھی اس گیت کی اہمیت و معنویت جان سکیں۔
تم نے مجھے ہمیشہ کے لیے کھو دیا
۔ ۔ ۔
جب ہم جدا ہوئے
تمہارے حصے میں گھر آیا
میرے حصے میں خاموشی
جس کا مطلب ہم دونوں جانتے ہیں
تم نے
اپنی انا کی خوبصورت پوشاک پہنی
جسے سب نے دیکھا
میں نے
زخموں بھری قبا پہنی
جسے تم بھی نہ دیکھ سکے
تم نے مجھے ہمیشہ کے لیے کھو دیا
نہ کوئی لڑائی ہوئی نہ جھگڑا
نہ کوئی چیخا نہ کوئی چلایا
میں خاموشی سے زخم سہتی رہی
تم سے دور ہوتی گئی
میں تمہیں الوداع کہنے سے بہت پہلے
تم سے جدا ہو چکی تھی
محبت ایک لمحے میں ختم نہیں ہوئی
اس کی لو
دھیرے دھیرے کم ہوتی گئی
نہ کوئی جذباتی طوفان آیا
جس پر جدائی کا الزام دھرا جائے
نہ غصے میں کوئی آئینہ ٹوٹا
نہ کوئی دروازہ دھڑام سے بند ہوا
تم نے غیر محسوس طریقے سے
میرا سانس روکنے کی
میری آزادی صلب کرنے کی کوشش کی
میں نے دھیمے لہجے میں بات کرنی شروع کی
تا کہ تم ناراض نہ ہو جاؤ
لیکن پھر مجھے احساس ہوا
امن اور سکون اور آشتی
احساس تنہائی کے دوسرے نام نہیں ہیں
تم نے مجھ سے ادھوری محبت کی
اور مجھے ہمیشہ کے لیے کھو دیا
میں نے تم پر جان نثار کی
ہر قربانی دی
لیکن اس کے بدلے میں
کچھ بھی نہ پایا
اب میں تم سے جدا ہو گئی ہوں
اب میں اپنے گھر میں
اپنی خواب گاہ میں
اکیلی رہتی ہوں
میں جب چاہوں
کھڑکی بند کر دوں
جب چاہوں کھول دوں
جب چاہوں خواب گاہ تاریک کر دوں
جب چاہوں صبح کی روشنی اندر آنے دوں
جب چاہوں سو جاؤں
جب چاہوں جاگ جاؤں
اگر کبھی تم
ہماری محبت کے بارے میں سوچنا
تو قسمت کو الزام نہ دینا
زندگی میں
بعض چیزیں
ٹوٹتی نہیں ہیں
خالی ہو جاتی ہیں
ہماری محبت کی طرح
اب میں تم سے شکایت نہیں کروں گی
کہ تم محبت کے اندھے تھے
اب میں تم سے التجا نہیں کروں گی
کہ آغاز محبت کی باتیں یاد کرنا
اب ہماری محبت رخصت ہو چکی ہے
میرا دکھ میرا درد میرا غم
اس محبت کی قیمت ہیں
جو کبھی
میرے نادان دل نے
تم سے کی تھی
تم نے مجھے نہیں توڑا
میں تمہارے گھر تمہاری زندگی سے
خاموشی سے
خود ہی چلی گئی
تم نے مجھے نہیں توڑا
تم نے بس مجھے دھیرے دھرے
ہمیشہ کے لیے کھو دیا
اب آپ سے ایک سوال ہے۔
کیا آپ محبت کی قدر کرنا جانتے ہیں یا اپنے شریک سفر کو اپنی بے حسی اور لاپرواہی سے دھیرے دھیرے دور کرتے جا رہے ہیں َ؟
کہیں ایسا نہ ہو آپ بھی اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھو دیں اور پھر ندامت و خجالت کی بارش میں بھیگ جائیں۔
